ٹرمپ نے وینس کے ایران رابطے کی تردید کر دی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس رپورٹ کی تردید کر دی ہے کہ انہوں نے نائب صدر جے ڈی وینس کو ایران کے ساتھ امن مذاکرات بحال کرنے کے لیے رابطہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وینس کا ایرانی عہدیدار سے رابطہ مذاکرات کے لیے نہیں بلکہ طبی امداد کے معاملے میں تھا، جب کہ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ خط ٹرمپ کی ہدایت پر لکھا گیا تھا۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کیا کہتی ہے
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی کو ایک خط لکھا ہے، جو اسلامی انقلابی گارڈ کور کے سابق کمانڈر بھی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس خط کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ آیا واشنگٹن اور تہران مذاکرات کے کسی فریم ورک پر متفق ہو سکتے ہیں۔ اخبار نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ یہ خط ٹرمپ کی ہدایت پر بھیجا گیا اور صدر اس اقدام سے مکمل طور پر آگاہ تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ رابطہ کسی تفصیلی امن تجویز کی بجائے سفارت کاری کے امکان کو پرکھنے کی کوشش تھی۔
ٹرمپ کی تردید: طبی امداد کا معاملہ
جوائنٹ بیس اینڈریوز میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے جب پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے وینس کو ایران سے امن مذاکرات شروع کرنے کی ہدایت دی تھی، تو انہوں نے جواب دیا: “نہیں۔ ایران کو طبی سامان کی مدد کی ضرورت ہے۔ بنیادی طور پر یہ ان لوگوں کی مدد کے لیے سامان پہنچانا ہے جو بیمار ہیں۔” تاہم بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے الگ سے یہ تسلیم بھی کیا کہ انہوں نے وینس کے تہران سے رابطے کی منظوری دی تھی۔ ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق وینس کے خط میں کسی بھی نئے مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔
جنگ بندی کی کوششوں کا پس منظر
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب قطر کی قیادت میں ثالث امریکا اور ایران کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے سات روزہ ٹائم لائن والا نیا مسودہ پیش کر چکے ہیں، جس پر تہران سے اس ہفتے کے آخر تک جواب متوقع ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران ثالثوں سے قریبی رابطے میں ہے اور اس کا اپنا سات روزہ منصوبہ ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں نافذ ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب ایران کے ایک سینئر عہدیدار نے قطری مسودے کو پیشکش قرار دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوحہ نے صرف ناقابل قبول خیالات پیش کیے ہیں اور جوہری معاملے پر تہران کے موقف میں کوئی لچک نہیں ہے۔
ٹرمپ نے حالیہ ہفتوں میں ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر نئے حملوں کی دھمکی دی ہے، اور رپورٹس کے مطابق وہ 3 نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایک مختصر اور شدید حملوں کی مہم پر غور کر رہے ہیں۔ وینس نے اس سے قبل عوامی طور پر جنگ کی حمایت کی ہے، لیکن نجی طور پر اسے طویل کرنے پر تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔ فروری میں شروع ہونے والے امریکی فوجی آپریشن “ایپک فیوری” سے پہلے بھی وہ زیادہ مضبوط سفارتی کوششوں کے حامی تھے۔ جون میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت آبنائے ہرمز سے بحری آمدورفت کی بحالی پر مختلف تشریحات کے باعث صرف دو ہفتوں میں ٹوٹ گئی تھی، اور اس کے بعد قطر اور پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات بھی تعطل کا شکار رہے۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران جنگ میں قطر کی ثالثی کی تازہ ترین کوشش اور خلیج کو ایران مہم سے متعلق امریکی انتباہ
ماخذ: وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ پر ٹائمز ناؤ، بزنس ٹوڈے، دی اسٹیٹس مین اور میتھرو بھومی کی 29 اکتوبر 2026 کی رپورٹس۔