ایران نے قطر کی امن تجاویز مسترد کر دیں
تہران نے قطر کی جانب سے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کی گئی نئی تجاویز کو ناقابل قبول قرار دے دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ دوحہ نے کوئی باقاعدہ پیشکش نہیں کی بلکہ صرف ایسے خیالات سامنے رکھے جنہیں تہران قبول نہیں کر سکتا۔ اس کے باوجود ایران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران اپنے سات روزہ منصوبے پر عمل درآمد کے لیے ثالثوں سے مسلسل رابطے میں ہے۔
قطر کا سات روزہ منصوبہ کیا ہے؟
مذاکرات سے باخبر ایک اہلکار کے مطابق قطری ثالثوں نے اتوار کو تہران میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایک نئے مسودہ معاہدے پر بات چیت کی۔ اس منصوبے کے تحت امریکا اور ایران سات روز کے دوران روزانہ اعتماد سازی کے اقدامات کریں گے اور کئی ممالک معاہدے کی ضمانت دیں گے۔ اہلکار کے مطابق اگر دونوں فریق متفق ہو جائیں تو یہ عمل آئندہ ہفتے کے اوائل میں شروع ہو سکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق قطر امریکا کو اس بات پر بھی قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات تک اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی رسائی کے بدلے میں بعض پابندیوں میں نرمی کی جائے۔
ایران کا موقف: صرف ناقابل قبول خیالات
اس کے فوراً بعد مذاکرات میں شریک ایک سینئر ایرانی اہلکار نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ قطر نے کوئی نیا مسودہ معاہدہ پیش کیا ہے۔ اس اہلکار کے مطابق دوحہ نے صرف “ناقابل قبول خیالات پیش کیے، کوئی پیشکش نہیں کی” اور جوہری معاملے پر تہران کی پالیسی میں کوئی لچک نہیں آئی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام فوجی نوعیت کا نہیں ہے اور مغربی خدشات کو وہ مسترد کرتا ہے، جبکہ امریکا چاہتا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے مذاکرات میں ایران کا کئی دہائیوں پرانا جوہری پروگرام شروع سے ہی شامل ہو۔
ایران کا اپنا سات روزہ منصوبہ
وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ایران کی مسلح افواج وطن کے دفاع کے لیے مکمل تیار ہیں، لیکن تہران سفارت کاری کو کامیابی کا موقع دینا جاری رکھے گا۔ ان کے مطابق ایران ثالثوں سے قریبی اور مسلسل رابطے میں ہے تاکہ اس کے اپنے سات روزہ منصوبے پر ایک ہفتے سے بھی کم مدت میں عمل ہو سکے۔ ایران نے یہ منصوبہ گزشتہ ماہ قطری ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو پیش کیا تھا، جس کے تحت امریکا اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے، ایران کے منجمد اثاثے واپس کرے اور ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیوں سے استثنیٰ دے، جبکہ ایران چھٹے روز آبنائے ہرمز کو عام تجارتی جہاز رانی کے لیے کھول دے اور ساتویں روز جامع معاہدے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع ہوں۔
پس منظر: آٹھ ماہ کی جنگ اور ثالثی
قطر اور پاکستان اس آٹھ ماہ سے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے ثالثی کی قیادت کر رہے ہیں، جس نے عالمی جہاز رانی اور تیل کی فراہمی کو متاثر کیا ہے اور جو حالیہ ہفتوں میں سعودی عرب اور یمن تک پھیل گیا ہے۔ اسی دوران امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے خلیجی عرب ممالک کو 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف ایک مختصر اور شدید مہم کے لیے تیار رہنے کا پیغام دیا ہے، تاہم واشنگٹن کی جانب سے اس کی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔ قطر کی ثالثی کی تازہ کوششوں کی تفصیل اس رپورٹ میں پڑھی جا سکتی ہے، جبکہ ایران سے متعلق امریکی صدر کے حالیہ بیان پر یہ خبر بھی ملاحظہ کریں۔
ذرائع: ڈان (29 اکتوبر 2026)، رائٹرز کی رپورٹ (دی نیوز اور بزنس ڈے کے توسط سے)، وزیر خارجہ عباس عراقچی کا ایکس بیان (28 اکتوبر 2026)۔