شمالی کوریا کا بڑا میزائل تجربہ — آبدوز سے دو قسم کے کروز میزائل داغ دیے، جنوبی کوریا بھی چوکس

0
سمندر میں آبدوز سے دھوئیں کے گبار کے ساتھ میزائل کا عمودی لانچ

شمالی کوریا نے بدھ (14 اکتوبر) کو آبدوز سے دو قسم کے اسٹریٹیجک کروز میزائل داغ کر بڑا فوجی تجربہ کیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے نے جمعرات (15 اکتوبر) کو اس کی تصدیق کی۔ جنوبی کوریا کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے لانچ سے لے کر اختتام تک دونوں میزائلوں کی نگرانی کی۔ خطے میں کشیدگی بڑھنے کے تناظر میں یہ تجربہ بین الاقوامی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

تجربے کی تفصیل

کے سی این اے کے مطابق میزائل مشرقی سمندر (سی آف جاپان) کی طرف داغے گئے اور اس تجربے کا مقصد "پانی کے اندر جنگی نظاموں کی تیاری کا جائزہ لینا" تھا۔ ادارے نے اسے بحریہ کی تربیتی مشق قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ تجربے سے "پڑوسی ممالک کی سلامتی پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا"۔ تجربے کی نگرانی سینئر فوجی افسران نے کی۔ میزائل داغنے کی تصاویر میں ایک میزائل عمودی انداز میں سمندر سے نکلتا اور دھواں چھوڑتا دکھائی دیا۔

جنوبی کوریا کی نگرانی اور تجزیہ

جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے جمعرات کو بتایا کہ انہوں نے مختلف ذرائع سے دونوں لانچز کی لانچ سے پہلے سے پرواز کے آخری مرحلے تک نگرانی کی۔ فوجی ترجمان کے مطابق ایک کروز میزائل عمودی لانچ سسٹم سے اور دوسرا ٹارپیڈو ٹیوب سے داغا گیا۔ کے سی این اے کی تصاویر میں نظر آنے والی آبدوز اور میزائلوں سے جنوبی کوریائی تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ تجربہ ترمیم شدہ ڈیزل آبدوز سے کیا گیا، جو شمالی کوریا نے ستمبر 2023 میں دکھائی تھی۔

پس منظر — بڑھتی کشیدگی

یہ تجربہ ان ہفتوں کی کشیدگی کے بعد آیا ہے جو 21 ستمبر کو دونوں کوریاز کے درمیان بھاری فوجی زون (DMZ) میں بارودی سرنگ کے دھماکے کے بعد پیدا ہوئی، جس میں جنوبی کوریا کے تین فوجی زخمی ہوئے تھے۔ پیر کو شمالی کوریا نے پیانگ یانگ کے علاقے سے مشرقی سمندر کی طرف ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل داغے تھے — جنوبی کوریا کے مطابق وہ 900 کلومیٹر سے زیادہ سفر کر گئے۔ دوسری طرف جنوبی کوریا نے گزشتہ ہفتے ہائپرسونک گلائیڈ وہیکل کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔

خطے کی صورتحال

رائٹرز کے مطابق کوریائی جزیرہ نما پر فوجی کشیدگی بڑھ رہی ہے اور جنوبی کوریا کی فوج کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

ذرائع: Reuters، KCNA، Malay Mail، Anews

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *