متحدہ عرب امارات میں تیل کا رساؤ پھیل گیا
متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب ایک تباہ شدہ آئل ٹینکر سے تیل کا رساؤ پھیل گیا ہے، جس کے بعد شمالی امارات میں مزید ساحل بند کر دیے گئے ہیں اور ماحولیاتی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ یورپی یونین کے کوپرنیکس سیٹلائٹ نیٹ ورک کی 24 اکتوبر کی تصاویر میں رساؤ گزشتہ چند دنوں میں پھیلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، اور تیل شمالی امارت ام القوین کے ساحلوں کے قریب پہنچ گیا ہے۔
سیٹلائٹ تصاویر میں کیا دکھائی دیا؟
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق کوپرنیکس سینٹینل 2 سیٹلائٹس کی تصاویر میں سمندر میں اور ساحلی پٹی کے ساتھ تیل کی سیاہ تہیں پھیلتی نظر آ رہی ہیں۔ رساؤ ایک ایسے ٹینکر سے ہو رہا ہے جسے حکام نے ابھی تک نامزد نہیں کیا ہے اور اس کے رساؤ کی وجہ بھی نہیں بتائی گئی ہے۔
ماہرین نے رائٹرز کو بتایا کہ یہ رساؤ جیم نمبر 2 نامی ٹینکر سے ہو رہا ہے۔ شپنگ ذرائع کے مطابق اس جہاز کو گزشتہ ماہ ایک نامعلوم پروجیکٹائل نے نشانہ بنایا تھا، جس سے آگ لگی تھی جو بعد میں بجھا دی گئی تھی۔ حکام کی جانب سے اس دعوے کی آزادانہ تصدیق ابھی نہیں ہوئی ہے، اس لیے ٹینکر کا نام ماہرین اور شپنگ ذرائع سے منسوب کر کے لکھا جا رہا ہے۔
کون سے ساحل بند ہوئے؟
متحدہ عرب امارات کی وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات نے جمعے کو کہا تھا کہ سمندر میں تیل کے اخراج کو روکنے کی کوششیں جاری ہیں اور ماحولیاتی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد شمالی امارات کی انتظامیہ نے ساحلی علاقوں تک رسائی محدود کر دی۔
وزارت نے جمعے کو بتایا کہ ام القوین شہر کے آس پاس کے تمام ساحل اور ساحلی علاقے عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں، جبکہ پڑوسی شارجہ میں الاحمریہ ساحل کو احتیاطی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ ہفتے کو راس الخیمہ، جو اپنے ساحلوں اور لگژری ریزورٹس کے لیے مشہور ہے، کی انتظامیہ نے اعلان کیا کہ امارت کے تمام ساحل اگلے حکم تک بند رہیں گے۔
ماہرین کیا کہہ رہے ہیں؟
نیویارک یونیورسٹی ابوظبی کے واٹر ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر پروفیسر نضال ہلال نے رائٹرز کو بتایا کہ ام القوین کے قریب رپورٹ ہونے والا تیل کا رساؤ ایک سنگین ماحولیاتی تشویش ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک رساؤ کے دائرے اور تیل کی نقل و حرکت کا جائزہ نہیں لیا جاتا، ساحلوں اور ساحلی علاقوں کی عارضی بندش ایک دانشمندانہ احتیاط ہے۔
انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کے مطابق متحدہ عرب امارات کی سمندری حیات مچھلیوں، پودوں اور مرجانوں سے مالا مال ہے، اور خلیج کے پانیوں میں مچھلیوں کی 500 سے زائد اقسام پائی جاتی ہیں، جن میں ڈولفن اور سمندری کچھوے بھی شامل ہیں۔ اس لیے تیل کے پھیلاؤ سے سمندری ماحولیاتی نظام کو نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
خلیج میں جہاز رانی کیوں خطرے میں ہے؟
رائٹرز کے مطابق امریکا اسرائیل جنگ کے ایران کے ساتھ شروع ہونے کے بعد سے خلیج کی جہاز رانی کی گزرگاہوں میں تجارتی جہازوں پر حملوں نے سیکیورٹی خطرات بڑھا دیے ہیں اور تنازع کے ماحولیاتی اثرات کا خوف بڑھا دیا ہے۔ واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی کے اعداد کے مطابق اکتوبر آبنائے ہرمز اور قریبی آبی گزرگاہوں میں تجارتی جہاز رانی پر حملوں کے لحاظ سے بدترین مہینہ رہا ہے۔
یہ رساؤ اسی پس منظر میں سامنے آیا ہے جس میں خلیج میں تیل کی ترسیل اور سمندری تجارت پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔ حکام ابھی یہ نہیں بتا سکے ہیں کہ رساؤ کو مکمل طور پر روکنے میں کتنا وقت لگے گا اور ساحل کب دوبارہ کھلیں گے۔
آگے کیا دیکھنا ہے؟
اب نظریں اس بات پر ہوں گی کہ متحدہ عرب امارات کی انتظامیہ رساؤ کی صفائی اور ماحولیاتی جائزے میں کتنی تیزی دکھاتی ہے، اور کیا متاثرہ ساحلوں کو جلد کھولا جا سکے گا۔ سمندری ماہرین کے مطابق تیل کے پھیلاؤ کی سمت اور ہوا کے رخ سے یہ طے ہوگا کہ مزید کون سے ساحلی علاقے متاثر ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران کا بڑا دعویٰ — خلیج فارس میں چار تیل بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنا کر آگ لگا دی اور عمان کے قریب آبنائے ہرمز پر آئل ٹینکر پر نامعلوم پروجیکٹائل کا حملہ۔
ذرائع: رائٹرز (26 اکتوبر 2026)، یورپی یونین کوپرنیکس سیٹلائٹ تصاویر (24 اکتوبر 2026)، متحدہ عرب امارات وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات۔