نتنیاہو سے استعفے کا مطالبہ، اپوزیشن کا انتباہ

0

اسرائیلی اپوزیشن نے وزیراعظم بینجمن نتنیاہو سے فوری استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ امریکا کے مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس کی دونوں ایوانوں میں کامیابی کے بعد بدھ 4 نومبر کو اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ نتنیاہو کا اقتدار میں رہنا اسرائیل کو عالمی تنہائی، پابندیوں اور امریکا سے ٹکراؤ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ ڈیموکریٹس پارٹی کے سربراہ یائر گولان، اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ اور رکن کنیسٹ گیلاد کاریو نے الگ الگ بیانات میں نتنیاہو کو ملک کے لیے خطرہ قرار دیا۔

گولان: نتنیاہو دونوں امریکی جماعتوں میں زہریلے ہو چکے

یائر گولان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ امریکی انتخابات کے نتائج نے ظاہر کر دیا ہے کہ نتنیاہو ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز دونوں میں کس قدر ناپسندیدہ ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق نتنیاہو اور قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بن گویر کا اقتدار میں رہنا اسرائیل کو بین الاقوامی پابندیوں، عالمی تنہائی اور امریکا سے تصادم کی راہ پر لے جائے گا، جو اسرائیل کا سب سے اہم دوست اور اتحادی ہے۔ گولان نے کہا کہ نتنیاہو نے برسوں سے امریکی ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلقات کو نقصان پہنچایا ہے، حالانکہ اسرائیل کی پالیسی ہمیشہ امریکا کی دونوں بڑی جماعتوں سے متوازن تعلقات رکھنے کی رہی ہے۔

لیپڈ: نتنیاہو کی قیادت میں قومی حکومت کا امکان ختم

اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے کہا کہ امریکی انتخابات کے نتائج اور شین بیت کے سربراہ ڈیوڈ زینی کے متنازع بیانات کے بعد نتنیاہو کی قیادت میں قومی حکومت بننے کا امکان ختم ہو گیا ہے۔ لیپڈ کے مطابق اسرائیل اب نتنیاہو کو وزیراعظم کے طور پر برداشت نہیں کر سکتا، کیونکہ ان کا اقتدار ملک کی سلامتی کو خطرے میں ڈالتا ہے، جمہوریت کو نقصان پہنچاتا ہے اور دنیا میں اسرائیل کا وقار تباہ کرے گا۔ گیلاد کاریو نے بھی یہی موقف اپناتے ہوئے کہا کہ نتنیاہو نے ڈیموکریٹک پارٹی اور نصف ریپبلکن پارٹی سے تعلقات تباہ کر دیے ہیں، اس لیے انہیں ریاست اسرائیل کی قیادت جاری نہیں رکھنی چاہیے۔

پس منظر: غیر فیصلہ کن اسرائیلی انتخابات اور امریکی امداد کا خاتمہ

یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے ہونے والے اسرائیلی انتخابات میں کوئی بلاک واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکا تھا۔ نتنیاہو کے بلاک نے 120 رکنی کنیسٹ میں 53 نشستیں جیتیں، جبکہ یہودی اپوزیشن جماعتوں کو 48 اور عرب جماعتوں کو 19 نشستیں ملیں، یوں 61 نشستوں کی اکثریت کسی کے پاس نہیں ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اسرائیل کو سال کے آخر سے سالانہ تقریباً 4 ارب ڈالر کی فوجی امداد دینا بند کر دے گا — اس اعلان کی تفصیل ہماری اس رپورٹ میں پڑھیں: ٹرمپ نے اسرائیل کی امداد بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ اسی مڈٹرم نتیجے پر ایران کے ردعمل کی خبر یہاں ملاحظہ کریں: ایران کا کہنا ہے امریکی ووٹرز نے جنگ کو مسترد کر دیا۔

اپوزیشن کے تبدیلی بلاک کے رہنماؤں نے منگل کو ہرزلیا میں ملاقات کے بعد صدر اسحاق ہرزوگ سے سفارش کرنے پر اتفاق کیا تھا کہ نئی حکومت بنانے کا پہلا موقع یاشر پارٹی کے رہنما گاڈی آئزن کوٹ کو دیا جائے۔ آئزن کوٹ، نفتالی بینیٹ، گولان، ایوگڈور لیبرمین اور لیپڈ نے فوری اتحادی مذاکرات شروع کرنے پر بھی اتفاق کیا تاکہ دوبارہ انتخابات سے بچا جا سکے۔ تاہم نتنیاہو کے حامی دائیں بازو کے سیاست دانوں نے امریکی نتائج پر تاحال خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹس کی گرفت کے بعد اسرائیل کی فوجی کارروائیوں، خاص طور پر ایران اور غزہ کے معاملے میں، کانگریس کی جانچ پڑتال سخت ہو سکتی ہے اور فوجی امداد بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ اسرائیلی الیکشن پینل نے بدھ کو دھاندلی کے الزامات کی جانچ کے بعد کہا کہ ووٹوں میں چھیڑ چھاڑ کا کوئی ثبوت نہیں ملا، جس کے بعد صدر ہرزوگ کو باضابطہ نتائج موصول ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

ذرائع: جیروسلم پوسٹ، ہارٹز، انادولو ایجنسی (بذریعہ ٹریبیون)، ینی شفق — 4 نومبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *