ٹائیگر شروف فائرنگ کیس: تینوں حملہ آور کوٹا سے گرفتار — کرائم برانچ کی تحویل میں
ممبئی میں اداکار ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کے کیس میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے — پولیس نے تینوں مشتبہ حملہ آوروں کو راجستھان کے کوٹا ریلوے اسٹیشن سے گرفتار کر لیا ہے۔
کوٹا ریلوے اسٹیشن سے گرفتاری
ممبئی پولیس کے اینٹی گینگسٹر ٹاسک فورس اور راجستھان پولیس کی مشترکہ کارروائی میں تینوں ملزمان کو ممبئی سے دہلی جانے والی ٹرین سے اتارا گیا۔ ممبئی پولیس کی 15 ٹیمیں اس کارروائی میں شامل تھیں اور یہ کارروائی انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی۔
ملزمان کی شناخت
ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق گرفتار افراد کی شناخت پھول سنگھ (17 سال، سونی پت ہریانہ)، رتیک کمار عرف روشن (22 سال، ریپیڈو رائیڈر، اندھیری ویسٹ ممبئی میں مقیم) اور ریحان (18 سال، سونی پت ہریانہ) کے نام سے ہوئی ہے۔ تاہم کچھ ذرائع ابلاغ کے مطابق تیسرا ملزم مہاراشٹر سے تعلق رکھتا ہے، جبکہ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق اس کا تعلق بہار کے بیگوسرائے سے بتایا گیا ہے — یہ تضاد ابھی حل نہیں ہوا۔ (ناموں کی شناخت میڈیا رپورٹس کے مطابق دی گئی ہے۔)
حملے کیسے ہوا
اے این آئی کی رپورٹ کے مطابق ملزمان نے اتوار کو ٹائیگر شروف کے جوہو میں فٹ بال کھیلنے کے معمول کی ریکی کی تھی۔ اتوار شام تقریباً 7 بجے جب اداکار وہاں سے نکل رہے تھے تو ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی۔ ملزمان نے اپنی موٹر سائیکل اندھیری ویسٹ ریلوے اسٹیشن کے قریب چھوڑ دی اور بورویلی کے راستے گجرات ہوتے ہوئے راجستھان فرار ہو گئے تھے۔
مقدمہ کرائم برانچ کے سپرد
مقدمہ قتل کی کوشش کی دفعات BNS 109(1)، 3(5) اور آرمز ایکٹ کے تحت درج کیا گیا ہے۔ کیس کی تحقیقات جوہو پولیس سے لے کر ممبئی کرائم برانچ کے حوالے کر دی گئی ہے۔
حکومتی ردعمل
ڈپٹی وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے ٹائیگر شروف سے ملاقات کی اور کہا کہ “گولیوں کا جواب گولیوں سے دیا جائے گا”۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے سخت کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ممبئی پولیس کمشنر کو فلمی صنعت کی سیکیورٹی کا جائزہ لینے کی ہدایت دی گئی ہے، اور سلمان خان کے گھر گیلیکسی اپارٹمنٹس کے باہر بھی سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
زخمیوں کی حالت
فائرنگ میں ڈرائیور فردوس کے ہاتھ میں گولی لگی تھی، ڈی سی پی موہت گرگ کے مطابق وہ خطرے سے باہر ہیں۔ ایک آٹو ڈرائیور مسٹر چوہان بھی زخمی ہوئے تھے۔ ٹائیگر شروف خود مکمل طور پر محفوظ رہے۔
بشوئی گینگ کا دعویٰ ابھی غیر تصدیق شدہ
لارنس بشوئی گینگ کی جانب سے حملے کی ذمہ داری کا دعویٰ (انیل پندت اور ہرمن سندھو کی سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے) ابھی تک پولیس کی تصدیق سے گزر رہا ہے — تمام ذرائع ابلاغ کے مطابق اس کی صداقت کی جانچ جاری ہے، اس لیے اسے دعویٰ ہی کے طور پر لیا جائے۔
ذرائع: ٹائمز آف انڈیا، ڈیکن ہیرالڈ، این ڈی ٹی وی، دی ویک، دی ہندو، ٹریبیون، لائیو منٹ