ٹرمپ کی ایران کو دھمکی — مزید حملوں کا اشارہ

0

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کا عندیہ دے دیا ہے۔ انہوں نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ امریکہ نے ایران کو “برے طریقے سے مارا ہے” اور مزید کارروائی کا امکان موجود ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

ٹرمپ نے 22 اکتوبر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: “یہ کام بہت پہلے دوسرے صدور کو کرنا چاہیے تھا۔ ہم نے ان پر سخت ضرب لگائی ہے اور ہم اس سے تھوڑا آگے بھی جا سکتے ہیں۔” انہوں نے واضح کیا کہ ان کی انتظامیہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گی، تاہم واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات اس وقت نہیں ہو رہے۔

تیل کی قیمتوں پر ٹرمپ کا الزام

ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ امریکی مڈٹرم انتخابات سے قبل تیل کی قیمتیں بڑھانے کے لیے آبنائے ہرمز میں جعلی حملوں اور بحری بارودی سرنگوں کی خبریں بنا رہا ہے۔ ان کے دعوے کے مطابق “ہم سے زیادہ تیل اب ہرمز سے گزر رہا ہے۔” واضح رہے کہ ٹرمپ کا یہ دعویٰ ان کا ذاتی الزام ہے، آزاد ذرائع نے اس کی تصدیق نہیں کی۔

دوسری جانب ایران کے پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے جمعرات کو دعویٰ کیا تھا کہ اس نے آبنائے ہرمز کے علاقے میں چار بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جبکہ تین دیگر بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرائے۔ ان دعوؤں کی بھی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور واشنگٹن نے انہیں مسترد کر دیا ہے۔

تیل 112 ڈالر تک — ایندھن کی قیمتوں پر دباؤ

عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت جمعرات کی صبح 112 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو مئی کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے سربراہ فاتح بیرول نے الجزیرہ سے گفتگو میں خبردار کیا کہ توانائی کی قیمتوں کو موجودہ سطح پر رکھنے کا “بفر” تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور سردیوں سے پہلے یورپ کے گیس ذخائر بھی کم ہیں۔

ادھر آئی آر جی سی نے خبردار کیا ہے کہ جن پانیوں کو وہ بارودی قرار دے رہا ہے ان میں امریکی بحری حفاظت کی کارروائیاں جاری رہیں تو مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر براہ راست حملے ہو سکتے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی اور اسرائیلی عسکری حکام نے مڈٹرم انتخابات کے بعد ایک مختصر مگر شدید فوجی مہم کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے، تاہم ٹرمپ نے ابھی ان حملوں کی منظوری نہیں دی۔

سعودی عرب میں ڈرون حملے ناکام

سعودی قیادت والی اتحادی فورس نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اس نے ریاض اور مدینہ کے اوپر چار ڈرون روک کر تباہ کر دیے۔ فورس نے کسی گروہ پر براہ راست الزام نہیں لگایا، تاہم ماہرین کے مطابق یہ ڈرون غالباً یمن کے ایران حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے داغے تھے، جنہوں نے حالیہ ہفتوں میں سعودی عرب پر متعدد مہلک حملے کیے ہیں۔ حوثیوں نے مقدس شہروں کو نشانہ بنانے کے الزامات کی تردید کی ہے۔

(نوٹ: یہ خبر متعدد بین الاقوامی میڈیا رپورٹس اور ٹرمپ کے بیانات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ دعوؤں کو بطور دعویٰ پیش کیا گیا ہے۔)

مزید پڑھیں: تیل 111 ڈالر سے اوپر — خلیج فارس میں 7 بحری جہاز تباہ | ارامکو کا دھہران ہیڈکوارٹر خالی — حوثی جنگ میں پہلی انخلا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *