پاکستان جرمنی تجارتی تعاون بڑھانے پر متفق

0

پاکستان اور جرمنی نے دو طرفہ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اسلام آباد میں پاکستان جرمنی پارلیمانی دوستی گروپ کے اجلاس میں دونوں فریقوں نے جی ایس پی پلس کے فریم ورک کے کردار پر زور دیا، جس کے ذریعے پاکستانی مصنوعات کو یورپی منڈیوں تک رسائی ملتی ہے، اور برآمدات سے متعلق رکاوٹیں دور کرنے کی حکمت عملی پر بات چیت کی گئی۔

اجلاس میں کون شریک ہوا؟

پاکستانی وفد کی قیادت قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر اور دوستی گروپ کے کنوینر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے کی، جبکہ جرمن سفیر نے اپنے ملک کی نمائندگی کی۔ اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی محمد الیاس چوہدری، محمد ریاض فتیانہ، ڈاکٹر شاہدہ رحمانی اور نتاشہ دولتانہ بھی شریک ہوئے۔ ڈپٹی اسپیکر نے پاکستان اور جرمنی کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ 2026 میں سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے، اور امید ظاہر کی کہ جرمن پارلیمنٹ (بنڈس ٹیگ) میں بھی اس گروپ کا ہم منصب گروپ قائم ہوگا۔

تجارت کے ساتھ تعلیم اور خواتین کی شمولیت

اجلاس میں صرف تجارت ہی زیر بحث نہیں آئی بلکہ تعلیمی تعاون، طلبہ کے لیے اسکالرشپس اور ثقافتی تبادلوں کی راہ بھی ہموار ہوئی۔ دونوں فریقوں نے خواتین کو بااختیار بنانے اور خواتین کی کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ جرمن سفیر نے پارلیمانی سفارت کاری کے لیے پاکستان کے عزم کو سراہا اور ترقی، ماحولیاتی تبدیلی، قابل تجدید توانائی، پیشہ ورانہ تربیت اور ہنر کی ترقی میں تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی۔

جی ایس پی پلس کیوں اہم ہے؟

جی ایس پی پلس یورپی یونین کا وہ ترجیحی تجارتی نظام ہے جس کے تحت پاکستان کی برآمدات کو یورپی منڈیوں میں رعایتی رسائی ملتی ہے۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ریگولیٹری رکاوٹوں کو دور کر کے تجارتی تعلقات کو تیز کیا جائے تاکہ پاکستانی برآمد کنندگان کو فائدہ ہو۔ دونوں فریقوں نے برآمدات سے متعلق چیلنجز کا جائزہ لیا اور ان کے حل کے لیے حکمت عملی پر غور کیا، جس کا مقصد تجارتی عمل کو آسان بنانا اور دو طرفہ تجارت کے حجم میں اضافہ کرنا ہے۔

پارلیمانی دوستی گروپ کا کردار

پارلیمانی دوستی گروپ اس نوعیت کے اجلاسوں کے ذریعے دو ممالک کی پارلیمانوں کے درمیان رابطہ مضبوط کرتے ہیں۔ اس اجلاس میں بھی دونوں جانب سے پارلیمانی تبادلوں کو بڑھانے پر زور دیا گیا، تاکہ قانون ساز اداروں کے درمیان براہ راست رابطہ تجارتی اور ترقیاتی تعاون کے لیے راہ ہموار کرے۔ ڈپٹی اسپیکر نے اس امید کا اظہار کیا کہ جرمن پارلیمنٹ میں بھی اس گروپ کا ہم منصب گروپ قائم ہوگا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان ادارہ جاتی تعاون مزید مستحکم ہوگا۔ اس تناظر میں پاکستان اور یورپی یونین کے تجارتی تعلقات پر حالیہ خدشات کی خبر بھی اہم ہے، جبکہ جرمنی کے ساتھ پاکستان کے سفارتی تعلقات کے نئے مرحلے کی تفصیل اس رپورٹ میں پڑھی جا سکتی ہے۔

ذرائع: ڈان (29 اکتوبر 2026)۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *