پاکستان چین گرین چینل: خنجراب سے زرعی تجارت تیز

0

پاکستان اور چین نے سوست خنجراب سرحد پر زرعی اور متعلقہ مصنوعات کے لیے گرین چینل فعال کرنے کے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان زرعی تجارت میں تیزی آئے گی اور خراب ہونے والی اشیا کو سرحد پر ترجیحی کلیئرنس ملے گی۔

معاہدے پر دستخط کہاں ہوئے

معاہدے پر جمعرات کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ہیڈکوارٹر میں آن لائن دستخط ہوئے، جس میں دونوں ممالک کی کسٹمز انتظامیہ نے شرکت کی۔ پاکستانی وفد کی قیادت ممبر کسٹمز (آپریشنز) سید شکیل شاہ نے کی، جب کہ چینی وفد کی سربراہی ارومچی کسٹمز کے ڈپٹی ہیڈ اور تاشقرغان کسٹمز کے ڈائریکٹر لی چنگ ہوا نے کی۔

پاکستانی وفد میں چیف کلکٹر کسٹمز پشاور، کلکٹر کسٹمز گلگت بلتستان، محکمہ تحفظ نباتات، نافسا، پاکستان سنگل ونڈو اور وزارت تجارت کے نمائندے بھی شامل تھے۔

گرین چینل سے کیا فائدہ ہوگا

سرکاری اعلان کے مطابق گرین چینل کے تحت طے شدہ فہرست میں شامل زرعی مصنوعات کی کھیپوں کو ترجیحی پراسیسنگ اور معائنہ ملے گا، جب کہ رسک بیسڈ کسٹمز کنٹرول برقرار رہے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تجارت تیز ہوگی مگر نگرانی کمزور نہیں ہوگی۔

معاہدے میں دونوں کسٹمز انتظامیہ کے درمیان معلومات کے تبادلے اور رسک الرٹس شیئر کرنے کا بھی انتظام ہے، تاکہ سرحد پار تجارت کا انتظام بہتر ہو سکے۔ خراب ہونے والی اشیا کو خصوصی ترجیح دی جائے گی تاکہ تاخیر کم سے کم ہو اور زرعی مصنوعات بہتر حالت میں اپنی منزل تک پہنچ سکیں۔

خنجراب درہ کیوں اہم ہے

خنجراب درہ گلگت بلتستان کو چین کے سنکیانگ خطے سے ملاتا ہے اور سطح سمندر سے تقریباً 15,500 فٹ کی بلندی پر واقع دنیا کی بلند ترین پختہ سرحد ہے۔ 1985 میں طے پانے والے سرحدی پروٹوکول کے تحت یہ درہ عام طور پر اپریل سے نومبر تک تجارت اور سفر کے لیے کھلا رہتا ہے۔

یہ معاہدہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خنجراب کے راستے تجارت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ گزشتہ مالی سال میں پاکستان کسٹمز نے سوست ڈرائی پورٹ کے ذریعے چین سے آنے والی درآمدات پر ریکارڈ 14.93 ارب روپے کا ریونیو جمع کیا، جب کہ اسی راستے سے چین اور وسطی ایشیائی ممالک کو 2.8 ارب روپے کی اشیا برآمد کی گئیں۔

کسانوں اور تاجروں کے لیے اہمیت

زرعی تجارت وقت کی پابند ہوتی ہے، خاص طور پر پھل، سبزیاں اور دیگر جلد خراب ہونے والی اشیا کے لیے سرحد پر ہر گھنٹے کی تاخیر نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ گرین چینل سے پاکستانی کسانوں اور برآمد کنندگان کو توقع ہے کہ ان کی مصنوعات تیزی سے چینی منڈی تک پہنچیں گی، جس سے برآمدات اور آمدنی دونوں میں اضافہ ہوگا۔

ماہرین کے مطابق یہ قدم پاکستان چین اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط کرے گا اور سوست خنجراب کو خطے کا ایک اہم تجارتی راستہ بنانے میں مدد دے گا۔

مزید پڑھیں: پٹرول ڈیزل کی نئی قیمتیں 30 اکتوبر سے نافذ (https://niazitvnews.com/?p=2664) اور ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کر دیا (https://niazitvnews.com/?p=2676)۔

ذرائع: ڈان، پرافٹ (پاکستان ٹوڈے)، بزنس ریکارڈر اور بلوم پاکستان کی 29 تا 30 اکتوبر 2026 کی رپورٹس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *