پاکستان کا مقامی فائز میزائل کا کامیاب تجربہ
پاکستان فضائیہ نے مقامی طور پر تیار کردہ فائز فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کا پہلا فلائٹ ٹیسٹ کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ یہ تجربہ 3 نومبر کو کیا گیا اور اس کی خبر 4 نومبر 2026 کو سامنے آئی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ میزائل جدید ٹرمینل گائیڈنس سسٹم سے لیس ہے اور طویل فاصلے تک فضائی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس سے پاک فضائیہ کی آپریشنل لچک میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
فائز میزائل کیا ہے؟
فائز پاکستان کا پہلا مقامی طور پر تیار کردہ فضا سے فضا میں مار کرنے والا میزائل ہے۔ اسے نیشنل انجینئرنگ اینڈ سائنٹیفک کمیشن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ فائز کے دو اقسام سامنے آ چکی ہیں: فائز آر ایف، جو ایکٹو ریڈار گائیڈنس سے لیس ہے، اور فائز آئی آئی آر، جو امیجنگ انفراریڈ سیکر سے لیس ہے۔ دفاعی مبصرین کے مطابق تجربہ کیے گئے ماڈل کے فائز آئی آئی آر ہونے کا امکان ہے۔
فائز سیریز کی متوقع رینج 100 کلومیٹر سے زیادہ اور زیادہ سے زیادہ رفتار میک 3.5 بتائی جاتی ہے۔ ایک طویل فاصلے والا فائز 2 بھی زیر تیاری بتایا جاتا ہے۔ فائز آر ایف اور فائز آئی آئی آر کے ماڈل پہلی بار 2023 میں استنبول میں ہونے والی بین الاقوامی دفاعی صنعت نمائش میں عوامی طور پر دکھائے گئے تھے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تجربہ جے ایف 17 طیارے سے کیا گیا۔
پاکستان کے لیے یہ تجربہ کیوں اہم ہے؟
پاک فضائیہ اس وقت فضا سے فضا میں مار کرنے والے ہتھیاروں کے لیے زیادہ تر امریکی اور چینی میزائلوں پر انحصار کرتی ہے، جن میں اے آئی ایم 120 امرام اور پی ایل 15 سمیت پی ایل سیریز کے دیگر میزائل شامل ہیں۔ مقامی فائز میزائل کی تیاری سے بیرونی سپلائرز پر انحصار بتدریج کم ہو سکتا ہے اور لڑاکا طیاروں کے بیڑے کی دیکھ بھال اور اپ گریڈ میں زیادہ لچک مل سکتی ہے۔
یہ تجربہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان حالیہ مہینوں میں مقامی دفاعی پیداوار کو وسعت دے رہا ہے۔ جنوری 2026 میں پاک فضائیہ نے مقامی طور پر تیار کردہ تیمور فضا سے زمین پر مار کرنے والے کروز میزائل کا بھی تجربہ کیا تھا، جس کی رینج تقریباً 600 کلومیٹر بتائی گئی تھی۔
قیادت کا ردعمل
صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کامیاب تجربے پر سائنسدانوں اور انجینئرز کو مبارکباد دی اور مقامی دفاعی نظام کی تیاری میں ان کے کردار کو سراہا۔ فوج نے میزائل کی رینج، رفتار یا پے لوڈ سمیت دیگر تکنیکی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، اور نہ ہی لانچ پلیٹ فارم کا باضابطہ اعلان کیا۔
پس منظر
مقامی ہتھیاروں کی تیاری پاکستان کی دفاعی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ بنتی جا رہی ہے۔ فائز کا کامیاب پہلا فلائٹ ٹیسٹ اس سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ جدید فضائی جنگ میں طویل فاصلے تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت فیصلہ کن سمجھی جاتی ہے۔ تاہم، میزائل کی مکمل آپریشنل صلاحیت کا اندازہ مزید تجربات اور باضابطہ تفصیلات کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں: ڈی جی آئی ایس پی آر کا کے پی حکومت سے متعلق بیان اور اقوام متحدہ میں پاکستان کی تین قراردادیں۔
ماخذ: ڈان، 4 نومبر 2026؛ اکنامک ٹائمز، 4 نومبر 2026۔