پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی — 30 سے زائد ممالک نے ترقی پذیر ممالک کے قرض پلیٹ فارم کی قیادت سونپ دی
پاکستان کو قرض کے انتظام اور معاشی اصلاحات کے شعبے میں بڑی بین الاقوامی ذمہ داری مل گئی ہے۔ 30 سے زائد ترقی پذیر ممالک کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنرز نے پاکستان کو نئے قائم ہونے والے ترقی پذیر ممالک کے قرض پلیٹ فارم کی قیادت سونپ دی ہے، اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب 2026-27 کی مدت کے لیے اس اقدام کے سربراہ منتخب ہوئے ہیں۔
فیصلہ کہاں ہوا؟
یہ انتخاب بینکاک میں پلیٹ فارم کی پہلی گورننگ کونسل کے اجلاس میں کیا گیا، جو عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر منعقد ہوا۔
پلیٹ فارم کا مقصد کیا ہے؟
نئے پلیٹ فارم کا ہدف قرض کے انتظام میں تعاون، اصلاحات کے تجربات کا تبادلہ اور ترقیاتی مالیات کے نئے ذرائع کی نشاندہی ہے۔ اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پلیٹ فارم عملی تعاون اور قابلِ پیمائش ترقیاتی نتائج پر توجہ دے گا، اور قرض کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے کے بجائے ترقی کا ذریعہ بننا چاہیے۔
پاکستان کے اپنے قرض کی صورتحال
رپورٹس کے مطابق 2026 کی دوسری سہ ماہی میں پاکستان کا بیرونی قرض 138.85 ارب ڈالر تھا، جبکہ ستمبر کے آخر تک زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 21.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے تھے۔ اکتوبر کے اوائل میں اسلام آباد اور آئی ایم ایف کے درمیان تقریباً 1.21 ارب ڈالر کی اضافی مالی معاونت کے لیے اسٹاف سطح کا معاہدہ بھی طے پا چکا ہے۔
ذرائع: آئی اے این ایس