پنجاب پولیو مہم: 93 لاکھ بچوں کو قطرے
پنجاب میں آج 2 نومبر سے پولیو کے خاتمے کی مہم شروع ہو گئی ہے جس کے تحت صوبے کے 13 اضلاع میں 5 سال سے کم عمر کے 93 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ مہم کے دوران 77 ہزار سے زائد فرنٹ لائن ورکرز گھر گھر جا کر بچوں کو ویکسین دیں گے۔ لاہور میں یہ مہم 7 روز تک جاری رہے گی جبکہ باقی 12 اضلاع میں 4 روز تک قطرے پلائے جائیں گے۔
کن اضلاع میں مہم چل رہی ہے
پنجاب ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق مہم 13 اضلاع میں چلائی جا رہی ہے: لاہور، راولپنڈی، ملتان، رحیم یار خان، بھکر، چکوال، ڈیرہ غازی خان، کوٹ ادو، لیہ، میانوالی، مری، مظفر گڑھ اور راجن پور۔ مہم کے تحت 1,161 یونین کونسلوں میں بچوں تک پہنچا جائے گا۔ اس کے لیے 31,869 موبائل ٹیمیں، 1,776 فکسڈ ٹیمیں اور 1,150 ٹرانزٹ ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں، جن کی معاونت 1,211 یونین کونسل میڈیکل افسران اور 6,205 ایریا انچارج کریں گے۔
سب سے بڑا ہدف لاہور کا ہے جہاں 22 لاکھ 85 ہزار سے زائد بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف مقرر ہے۔ رحیم یار خان میں 11 لاکھ 42 ہزار سے زائد، ملتان میں 10 لاکھ سے زائد اور راولپنڈی میں 9 لاکھ 90 ہزار بچوں کو ویکسین دی جائے گی۔ راولپنڈی میں مہم 188 یونین کونسلوں پر محیط ہو گی جہاں پہلے 3 روز گھر گھر ویکسینیشن ہو گی اور چوتھے روز رہ جانے والے بچوں کی پیروی کی جائے گی۔
یہ مہم کیوں اہم ہے
یہ رواں سال پنجاب میں پانچویں پولیو مہم ہے اور تیسری سب نیشنل امیونائزیشن ڈیز مہم ہے، اس سے قبل 2 قومی امیونائزیشن ڈیز اور 2 سب نیشنل راؤنڈز ہو چکے ہیں۔ بار بار کی مہمات کا مقصد ویکسینیشن میں رہ جانے والے خلا کو پُر کرنا اور پولیو وائرس کی منتقلی کو روکنا ہے۔
پنجاب ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے کوآرڈینیٹر خالد پرویز نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ 5 سال سے کم عمر کے ہر بچے کو قطرے ضرور پلوائیں، چاہے اسے پہلے کی مہمات میں ویکسین مل چکی ہو۔ ہر مہم میں دو قطرے دینا ضروری ہے کیونکہ بار بار کی خوراکیں ہی بچے کی قوت مدافعت کو مکمل کرتی ہیں۔
قومی مہم کا حصہ
پنجاب کی یہ مہم ملک گیر سب نیشنل پولیو مہم کا حصہ ہے جو 2 سے 8 نومبر تک ملک کے 97 اضلاع میں چل رہی ہے اور جس کا ہدف 2 کروڑ 39 لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلانا ہے۔ قومی سطح پر 2 لاکھ سے زائد فرنٹ لائن ورکرز حصہ لے رہے ہیں۔ سندھ کے 20 اضلاع میں 68 لاکھ 83 ہزار سے زائد بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے۔
صحت کے ماہرین کے مطابق 2027 کو پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں کے لیے فیصلہ کن سال سمجھا جا رہا ہے اور جون 2027 تک ملک کو پولیو سے پاک کرنے کا ہدف مقرر ہے۔ پاکستان نے 1994 میں قومی انسداد پولیو پروگرام کے آغاز کے بعد سے پولیو کیسز میں 99.8 فیصد کمی حاصل کی ہے، تاہم 2026 میں اب تک 8 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں خیبر کا تازہ ترین کیس بھی شامل ہے۔ اسی لیے حکام کا کہنا ہے کہ کوئی بچہ قطرے سے محروم نہ رہے۔
والدین کیا کریں
والدین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ جب پولیو ٹیم گھر آئے تو بچے کو قطرے ضرور پلوائیں اور اگر ٹیم کسی وجہ سے نہ پہنچ سکے تو قریبی صحت مرکز یا فکسڈ ویکسینیشن پوائنٹ سے رجوع کریں۔ مہم کے دوران موبائل اور ٹرانزٹ ٹیمیں بس اڈوں، ریلوے اسٹیشنوں اور دیگر آمد و رفت کے مقامات پر بھی بچوں کو قطرے پلائیں گی تاکہ سفر کرنے والے خاندانوں کے بچے بھی محفوظ رہیں۔
متعلقہ خبریں: خیبر میں پولیو کے آٹھویں کیس کے بارے میں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3178 — اور بلوچستان میں پولیو مہم کے بارے میں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3194
ذرائع: دی نیشن، بزنس ریکارڈر، اردو پوائنٹ اور پاک آبزرور، 2 نومبر 2026۔