پاکستان چاول برآمدات میں ویتنام سے آگے
پاکستان نے ستمبر 2026 میں چاول کی برآمدات میں ویتنام کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جو روایتی طور پر دنیا کا تیسرا بڑا چاول برآمد کنندہ سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان نے اس مہینے 4 لاکھ 20 ہزار ٹن چاول برآمد کیا جبکہ ویتنام کی برآمدات 3 لاکھ 37 ہزار ٹن رہیں۔ ماہرین اس کارکردگی کو امریکی ایران کشیدگی اور خلیجی خطے میں جہاز رانی کی رکاوٹوں کے باوجود پاکستانی باسمتی کی مضبوط طلب کا ثبوت قرار دے رہے ہیں۔
ستمبر کے اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں
تفصیلی اعداد کے مطابق پاکستان نے ستمبر 2026 میں مجموعی طور پر 4 لاکھ 20 ہزار 277 میٹرک ٹن چاول برآمد کیا، جو ستمبر 2025 کے 1 لاکھ 68 ہزار 322 ٹن کے مقابلے میں تقریباً ڈیڑھ گنا زیادہ ہے، یعنی تقریباً 150 فیصد اضافہ۔ باسمتی کی برآمدات تقریباً تین گنا ہو کر 1 لاکھ 1 ہزار 271 ٹن تک پہنچ گئیں، جو ایک سال قبل 35 ہزار 109 ٹن تھیں۔ غیر باسمتی اور دیگر اقسام کی برآمدات 3 لاکھ 19 ہزار 5 ٹن رہیں، جو گزشتہ سال کے 1 لاکھ 33 ہزار 213 ٹن سے کہیں زیادہ ہیں۔
قیمت کے اعتبار سے بھی پاکستان آگے رہا۔ ستمبر 2026 میں پاکستانی برآمد کنندگان نے اوسطاً 621 ڈالر فی ٹن حاصل کیے جبکہ ویتنام کو 563 ڈالر فی ٹن ملے۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان نے نہ صرف زیادہ مقدار بیچی بلکہ بہتر قیمت بھی حاصل کی۔
مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بڑا اضافہ
رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی، یعنی جولائی تا ستمبر 2026 میں پاکستان کی چاول کی مجموعی برآمدات 10 لاکھ 75 ہزار ٹن تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے 7 لاکھ 13 ہزار 794 ٹن کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ حجم میں یہ اضافہ تقریباً 51 فیصد بنتا ہے جبکہ زرمبادلہ کی آمدنی میں تقریباً 37 فیصد اضافہ ہوا، حالانکہ خلیجی اور بحیرہ اسود کے جہاز رانی راستوں میں رکاوٹیں موجود رہیں۔
چاول کی صنعت کے ماہر حمید ملک کے مطابق مارکیٹ کا رجحان دسمبر 2025 سے بدلنا شروع ہوا تھا، جب پاکستان نے اس صدی میں پہلی بار ماہانہ برآمدات میں ویتنام کو پیچھے چھوڑا تھا۔ اس کے بعد سے پاکستانی چاول کی عالمی منڈی میں پوزیشن مسلسل مضبوط ہو رہی ہے۔
عالمی باسمتی مارکیٹ میں پاکستان کی جگہ
عالمی سطح پر باسمتی کی مجموعی تجارت 69 لاکھ ٹن پر مستحکم رہی جو 2025 کی سطح کے برابر ہے۔ بڑے خریداروں نے غیر خوشبودار اقسام کے بجائے پاکستان اور بھارت کی مشہور باسمتی کو ترجیح دی، جس سے پاکستانی برآمد کنندگان کو فائدہ ہوا۔ ماہرین کے مطابق خلیجی جنگ اور علاقائی کشیدگی کے باوجود پاکستانی باسمتی کی طلب برقرار رہی، جس نے ملک کو عالمی چاول تجارت میں تیسرے نمبر کی دوڑ میں مضبوطی سے برقرار رکھا ہے۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن رفیق سلیمان نے اس ترقی کو ملکی چاول کی صنعت کے لیے حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ ٹن کی بمپر فصل کی توقع ہے، جو بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستان کا حصہ مزید بڑھانے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔ انہوں نے نئی منڈیوں میں داخل ہونے، موجودہ خریداروں سے تعلقات مضبوط بنانے اور خاص طور پر پریمیم باسمتی کی بین الاقوامی سطح پر تشہیر پر زور دیا ہے۔
آگے کیا کرنا ہو گا
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو برآمدی معیار، بروقت ترسیل اور نئی منڈیوں تک رسائی پر توجہ دینی ہو گی۔ ویتنام کی قیمتیں بھی مستحکم ہیں اور میکانگ ڈیلٹا میں موسم بہتر ہونے سے وہاں پیداوار اور ملنگ کا عمل معمول پر آ رہا ہے، اس لیے مقابلہ آسان نہیں ہو گا۔ تاہم ستمبر کے اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستانی چاول اس وقت عالمی منڈی میں ایک اہم اضافی سپلائر کے طور پر ابھر رہا ہے اور آنے والے مہینوں میں اس کی برآمدات مزید بڑھ سکتی ہیں۔
متعلقہ خبریں: پاکستان سعودی عرب آزاد تجارتی معاہدے کے بارے میں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3111 — اور قطر گیس معاہدے کے بارے میں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3115
ذرائع: ڈان، 2 نومبر 2026؛ رائس نیوز ٹوڈے، 24 نیوز اور بلوم پاکستان، اکتوبر 2026۔