پی ٹی سی ایل: اتصالات سے 800 ملین ڈالر وصولی کا فیصلہ

0

حکومت پاکستان نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کی 2005 میں فروخت کے سلسلے میں متحدہ عرب امارات کی ٹیلی کام کمپنی اتصالات سے بقایا 800 ملین ڈالر کی وصولی کے لیے بین الاقوامی ثالثی کے آپشن پر غور شروع کر دیا ہے۔ یہ رقم 20 سال سے زائد عرصے سے زیر التوا ہے اور حکومت اب اس کے ساتھ 2008 سے اب تک کا مالی نقصان اور ہرجانہ بھی مانگنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

سینیٹ کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس

یہ معاملہ منگل کے روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے مشترکہ اجلاس میں زیر بحث آیا۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان اور سینیٹر پلوشہ خان نے کی۔ ارکان کو بتایا گیا کہ وفاقی کابینہ نے اٹارنی جنرل آفس کو ہدایت کی ہے کہ وہ رولز آف بزنس 1973 کے رول 24 کے تحت کابینہ کے فیصلے پر جلد از جلد عمل درآمد کرے۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق وزارت نجکاری کی بریفنگ میں بتایا گیا کہ حکومت نے 2005 میں پی ٹی سی ایل کے 26 فیصد حصص مع انتظامی کنٹرول اتصالات کو 2.59 ارب ڈالر میں فروخت کیے تھے۔ اس میں سے 1.76 ارب ڈالر وصول ہو چکے ہیں جبکہ تقریباً 800 ملین ڈالر ابھی تک واجب الادا ہیں۔

رقم کیوں رکی ہوئی ہے

نجکاری ڈویژن کے مطابق یہ رقم اس لیے روکی گئی تھی کیونکہ پی ٹی سی ایل کی کچھ جائیدادیں اور اراضی کمپنی کے نام منتقل نہیں ہو سکی تھیں۔ 2015 سے اب تک اس تنازعے کے حل کے لیے کئی کمیٹیاں بنائی گئیں اور اتصالات سے مذاکرات بھی ہوئے، لیکن کوئی حتمی تصفیہ نہ ہو سکا۔

جولائی 2026 میں وزیر اعظم کے مشیر برائے نجکاری کی سربراہی میں ایک اور کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں آئی ٹی اور قانون کی وزارتوں اور اٹارنی جنرل آفس کے نمائندے شامل تھے۔ تقریباً 20 سالہ تاریخ کا جائزہ لینے کے بعد اس کمیٹی نے سفارش کی کہ پاکستان شیئر پرچیز معاہدے کے تحت بین الاقوامی ثالثی کا راستہ اختیار کرے۔

ابھی کیا ہونا باقی ہے

یہ واضح رہے کہ ابھی ثالثی کا مقدمہ دائر نہیں ہوا ہے۔ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ پہلے اٹارنی جنرل پاکستان کے کیس کی مضبوطی، کامیابی کے امکانات اور قانونی خطرات کا جائزہ لیں۔ اگر کیس کے میرٹس اجازت دیں تو اتصالات کو نوٹس آف انٹینٹ جاری کرنے سے پہلے وزیر اعظم یا وفاقی حکومت کی منظوری لی جائے۔ نجکاری ڈویژن نے کابینہ کو اس حوالے سے سمری بھی ارسال کر دی ہے۔

یہ پاکستان کی بڑی نجکاریوں میں سے ایک ہے اور اس کا نتیجہ ملک کے ٹیلی کام شعبے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے ماحول پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ پی ٹی سی ایل سے متعلق اس سے قبل انٹرنیٹ سروس میں خلل کی خبر یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3029

قومی اسمبلی کی کمیٹی میں مالی اسکیموں کے غلط استعمال پر ہونے والی حالیہ بحث کی تفصیل یہاں ملاحظہ کریں: https://niazitvnews.com/?p=3599

معاملے کا پس منظر

پی ٹی سی ایل کی نجکاری 2005 میں ہوئی تھی اور اتصالات نے انتظامی کنٹرول حاصل کیا تھا۔ اس کے بعد سے جائیدادوں کی منتقلی کا معاملہ مسلسل زیر التوا رہا۔ حکومت کا موقف ہے کہ بقایا رقم کے ساتھ تاخیر سے ہونے والا مالی نقصان بھی وصول کیا جانا چاہیے، جبکہ حتمی فیصلہ اٹارنی جنرل کی قانونی رائے اور وفاقی حکومت کی منظوری سے مشروط ہے۔

ذرائع: ڈان، پرو پاکستانی، ٹیک جوائس (4 نومبر 2026)۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *