کے پی میں نیا نصاب 2027 سے: نویں سے بارہویں تک تبدیلی

0

خیبر پختونخوا کی حکومت نے 2027 کے تعلیمی سال سے نویں سے بارہویں جماعت تک نیشنل کریکولم آف پاکستان 2026 نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت صوبے کے تمام اسکولوں میں صرف منظور شدہ نصابی کتب کا استعمال لازمی ہوگا، اور تعلیمی بورڈز امتحانات بھی نئے نصاب کے مطابق لیں گے۔ ڈائریکٹوریٹ آف کریکولم اینڈ ٹیچر ایجوکیشن نے اس سلسلے میں ہدایات جاری کر دی ہیں، جبکہ کے پی پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی نے نجی اسکولوں کو بھی پابندی کی ہدایت کی ہے۔ یہ تقریباً دو دہائیوں کے بعد نصاب میں سب سے بڑی تبدیلی قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ پرانا نصاب 2006 میں تیار کیا گیا تھا اور تمام کتب اسی پر مبنی تھیں۔

نئے نصاب میں کون سے مضامین شامل ہیں

نئے نصاب میں نویں سے بارہویں جماعت تک انگریزی، اردو، ریاضی، کمپیوٹر سائنس، کیمسٹری، بیالوجی اور فزکس شامل ہیں، جبکہ جنرل سائنس صرف نویں اور دسویں جماعت کے لیے ہوگی۔ ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر گوہر علی کے مطابق، نیا نصاب طلبہ کی ابھرتی ہوئی ضروریات اور رجحانات سے ہم آہنگ کیا گیا ہے، اور والدین پر مالی بوجھ کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔ خاص طور پر ریاضی کے نصاب کو کم اور معقول بنایا گیا ہے، تاکہ طلبہ پر غیر ضروری بوجھ نہ پڑے۔

خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بک بورڈ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نئے نصاب کے مطابق نصابی کتب تیار کرے یا ان میں ترمیم کرے۔ یہ کتب تقسیم سے پہلے ڈائریکٹوریٹ آف کریکولم اینڈ ٹیچر ایجوکیشن سے منظوری حاصل کریں گی۔ اسی طرح، نجی پبلشرز کو بھی کتب اور اضافی مطالعاتی مواد شائع کرنے سے پہلے منظوری یا عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ (این او سی) لینا ہوگا۔ تمام تعلیمی بورڈز کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ امتحانات نیشنل کریکولم 2026 کے مطابق لیں۔

اسکولوں اور اداروں کے لیے کیا لازمی ہے

کے پی پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی نے نجی اسکولوں کے سربراہان کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہدایات کو غور سے پڑھیں اور 2027 کے تعلیمی سال کے آغاز سے پہلے مطلوبہ تبدیلیاں یقینی بنائیں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ جو اسکول یا ادارے ان ہدایات کی خلاف ورزی کریں گے، ان کے خلاف خیبر پختونخوا سپرویژن آف کریکولا، ٹیکسٹ بکس اینڈ مینٹیننس آف اسٹینڈرڈز آف ایجوکیشن ایکٹ 2011 کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔ نیا نصاب 2027 کے تعلیمی سال سے، جو مارچ 2027 میں شروع ہوگا، نافذ ہوگا، اور نئی نصابی کتب اس کے مطابق تیار کی جائیں گی۔

یہ فیصلہ 4 ستمبر کو سیکریٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کی زیر صدارت اجلاس کے بعد کیا گیا، جس میں نیشنل کریکولم 2026 کو اپنانے کا فیصلہ ہوا۔ اس کے بعد ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے قائم کردہ کریکولم ریویو کمیٹیوں نے نصاب کو صوبائی تناظر میں ڈھالا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق، نیا نصاب ڈائریکٹوریٹ کی سرکاری ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہے۔

وفاقی سطح پر بھی نیا نصاب منظور

اسی ہفتے وفاقی وزارت تعلیم نے بھی نیو نیشنل کریکولم آف پاکستان 2026 کی منظوری دی ہے، جو 2027-28 کے تعلیمی سال سے اسلام آباد اور وفاقی زیر انتظام تعلیمی اداروں میں ابتدائی جماعتوں (ای سی سی ای سے پانچویں جماعت تک) میں نافذ ہوگا۔ اس میں اردو، انگریزی اور ریاضی بنیادی مضامین رہیں گے، جبکہ صحت و جسمانی تعلیم، فنون اور دستکاری بھی شامل ہوں گے۔ پہلی سے پانچویں جماعت تک انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) بھی متعارف کرائی جائے گی۔ وفاقی وزارت نے تمام صوبائی حکومتوں کو بھی اس نصاب کے نفاذ سے آگاہ کر دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نصاب کی یہ تبدیلی طلبہ، اساتذہ، پبلشرز اور بورڈز سب کے لیے ایک بڑا امتحان ہوگی، کیونکہ نئی کتب، تدریسی طریقے اور امتحانی نظام کو ایک ساتھ ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ تاہم، حکام کا موقف ہے کہ 20 سال پرانے نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہو چکا تھا۔

مزید تفصیل کے لیے ہماری گزشتہ خبریں پنجاب بورڈز گیارہویں کلاس رزلٹ 2026 جاری (https://niazitvnews.com/?p=1309) اور ایچ ای سی کا لاء ایڈمیشن ٹیسٹ (LAT) کا رزلٹ جاری (https://niazitvnews.com/?p=1145) بھی پڑھیں۔

ماخذ: پرو پاکستانی، ٹیک جوائس، دی نیشن اور دی نیوز، 30 اکتوبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *