طالبان سے مذاکرات ناکام، پاکستان نے ریڈ لائن کھینچ دی

0

پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے 31 اکتوبر کو کہا کہ کابل نے مذاکرات کے ذریعے تناؤ کم کرنے کی حتمی کوششیں کر لیں، لیکن اب تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اسی روز پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے سخت بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی پاکستان کی ریڈ لائن ہے اور شہریوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

مجاہد نے کیا کہا؟

ذبیح اللہ مجاہد نے طالبان کے زیر انتظام حریت ریڈیو سے گفتگو میں کہا کہ کابل اور اسلام آباد کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ہوا اور ثالث ممالک نے بھی کوششیں کیں، لیکن تناؤ کم نہ ہو سکا۔ ان کے مطابق پاکستان مذاکرات کے ذریعے تنازع حل نہیں کرنا چاہتا اور اس میں امن سے اختلافات ختم کرنے کی ضروری آمادگی نہیں ہے۔ مجاہد نے یہ بھی کہا کہ طالبان نے مسائل پیدا نہیں کیے اور وہ مذاکرات و بات چیت کے ذریعے اختلافات حل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ یہ موقف کابل کا دعویٰ ہے، جسے اسلام آباد نے مسترد کر دیا ہے۔

پاکستان کا سخت جواب

وزارت اطلاعات و نشریات نے 31 اکتوبر کے بیان میں کہا کہ طالبان قیادت اسلام آباد کی پالیسیوں پر الزام لگا کر اصل مسئلے سے توجہ ہٹا رہی ہے۔ بیان کے مطابق تعلقات معمول پر نہ آنے کی سب سے بڑی وجہ افغان سرزمین سے دہشت گردی کا خاتمہ نہ ہونا ہے۔ وزارت نے کہا کہ پاکستان افغان سرزمین سے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں برداشت نہیں کرے گا اور نہ ہی اپنے عوام کو افغانستان سے ہونے والے حملوں کا ہدف بننے دے گا۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرات ختم کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ آخری جملہ سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بنا کہ پاکستان کی سلامتی کو افغان طالبان کی عدم فعالیت، ٹال مٹول یا غلط ترجیحات کے باعث یرغمال نہیں بنایا جا سکتا۔

امریکہ نے کیا کہا؟

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر کہا کہ پاکستان کو تشویش ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے دہشت گرد حملوں کی سرپرستی ہو رہی ہے اور طالبان ان حملوں کو روکنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کر رہے۔ روبیو نے کہا کہ امریکہ نے پاکستان کے خدشات سن لیے ہیں اور وہ نہیں چاہتا کہ پاکستان دہشت گردی کا ہدف بنے۔ یہ بیان اس وقت آیا جب دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا راستہ پہلے ہی تعطل کا شکار تھا۔

پس منظر: تعطل کہاں سے شروع ہوا؟

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی گزشتہ برسوں میں بڑھی ہے۔ قطر اور ترکی کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے کئی ادوار کسی قابل عمل حل تک نہیں پہنچ سکے، اور اس برس چین کی شمولیت والی کوششیں بھی پیش رفت نہ دے سکیں۔ اکتوبر میں ماسکو فارمیٹ اجلاس بھی مشترکہ اعلامیے کے بغیر ختم ہوا۔ پاکستان کا موقف رہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے منسلک محفوظ پناہ گاہیں ختم کی جائیں، جب کہ کابل اسلام آباد کی پالیسیوں کو رکاوٹ قرار دیتا ہے۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا کہ ستمبر 2026 میں پاکستان میں 225 عسکری حملے ریکارڈ ہوئے، جو 12 برس میں کسی ایک ماہ کی سب سے زیادہ تعداد بتائی گئی ہے۔ یہ اعداد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ سرحد پار دہشت گردی کا مسئلہ صرف بیانات تک محدود نہیں، بلکہ زمینی سلامتی کا ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔

آگے کیا ہوگا؟

فی الحال مذاکرات کا کوئی نیا دور طے نہیں ہوا اور نہ ہی کسی معاہدے کا اعلان ہوا ہے۔ پاکستان نے اپنا موقف واضح کر دیا ہے کہ دہشت گردی ریڈ لائن ہے، جب کہ طالبان کا کہنا ہے کہ اس نے بات چیت کی حتمی کوششیں کر لیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھا جائے گا کہ کیا کوئی ثالث ملک دوبارہ دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لاتا ہے، یا کشیدگی مزید بڑھتی ہے۔ خطے کے ممالک کے لیے بھی یہ صورتحال اہم ہے، کیونکہ افغانستان سے جڑی عدم استحکام کا اثر پورے خطے پر پڑ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کا اقوام متحدہ میں طالبان سے متعلق موقف https://niazitvnews.com/?p=2875 اور ایران امریکہ کشیدگی کا تازہ منظرنامہ https://niazitvnews.com/?p=2993

ماخذ: پاکستان ٹوڈے، ایکسپریس ٹریبیون، جیو نیوز اور 8am میڈیا کی 31 اکتوبر تا یکم نومبر 2026 کی رپورٹس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *