لندن میں 139 گرفتار، فلسطین ایکشن مظاہرہ
لندن پولیس نے 31 اکتوبر کو امریکی سفارتخانے کے باہر فلسطین ایکشن کی حمایت میں ہونے والے مظاہرے کے دوران 139 افراد کو گرفتار کر لیا۔ میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق گرفتار ہونے والوں کی اکثریت پر ایک ممنوعہ تنظیم کی حمایت کا اظہار کرنے کا الزام ہے۔ مظاہرہ دوپہر کے وقت نائن ایلمز میں امریکی سفارتخانے کے باہر شروع ہوا، جہاں سیکڑوں افراد جمع ہوئے۔
مظاہرہ کیسے شروع ہوا؟
مظاہرے کا اہتمام ڈیفینڈ آور جیوریز نامی گروپ نے کیا تھا۔ منتظمین کے مطابق تقریباً 400 افراد نے شرکت کی، جن میں بہت سے بزرگ شہری بھی شامل تھے۔ مظاہرین نے ایسے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ وہ نسل کشی کی مخالفت کرتے ہیں اور فلسطین ایکشن کی حمایت کرتے ہیں۔ پولیس نے مظاہرہ شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد گرفتاریاں شروع کر دیں۔ دن کے اوائل میں گرفتاریوں کی تعداد 48 بتائی گئی تھی، جو شام تک بڑھ کر 139 ہو گئی۔
پولیس کا موقف
میٹروپولیٹن پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ گرفتاریوں کی اکثریت ممنوعہ تنظیم کی حمایت کے اظہار پر ہوئی۔ پولیس نے مظاہرے سے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ سفارتخانے کے ارد گرد اہلکار تعینات ہوں گے اور صرف پلے کارڈ اٹھانے والوں تک کارروائی محدود نہیں رہے گی۔ پولیس کے مطابق مظاہرے کو منظم کرنے والے، دوسروں کو ہدایات دینے والے یا لاجسٹک مدد فراہم کرنے والے افراد بھی گرفتار کیے جا سکتے ہیں۔
منتظمین کے الزامات
ڈیفینڈ آور جیوریز نے پولیس پر الزام لگایا کہ گرفتاریاں پلے کارڈز دکھائے جانے سے پہلے ہی شروع کر دی گئیں، اور ایسے رضاکاروں کو بھی گرفتار کیا گیا جو پلے کارڈ اٹھانے والوں کی مدد کر رہے تھے۔ گروپ کے مطابق خالی پلے کارڈ رکھنے والے افراد کو بھی گرفتار کیا گیا۔ ایک مظاہرین درخت پر چڑھ کر پلے کارڈ لہراتا ہوا بھی دیکھا گیا۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ ہفتے کی گرفتاریوں کے بعد جولائی 2025 سے اب تک فلسطین ایکشن کی پابندی کی خلاف ورزی پر حراست میں لیے گئے افراد کی مجموعی تعداد 4,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔
فلسطین ایکشن پر پابندی کیوں لگی؟
فلسطین ایکشن ایک براہ راست احتجاجی گروپ ہے جو 2020 میں قائم ہوا۔ اس کا مقصد برطانیہ کی اسرائیل کے لیے فوجی حمایت روکنا ہے۔ برطانوی حکومت نے جولائی 2025 میں اس گروپ کو دہشت گردی کے قانون کے تحت ممنوع قرار دیا تھا، جس کے بعد اس کی رکنیت یا حمایت جرم بن گئی، جس کی سزا 14 برس قید تک ہو سکتی ہے۔ پابندی اس وقت لگی جب گروپ کے کارکنوں نے رائل ایئر فورس کے برائز نورٹن اڈے میں داخل ہو کر دو فوجی طیاروں کو نقصان پہنچایا تھا۔ اگست 2026 میں امریکی حکومت نے بھی فلسطین ایکشن پر پابندیاں عائد کرتے ہوئے اسے دہشت گرد گروپ قرار دیا تھا۔
ایڈنبرا میں بھی مظاہرہ
لندن کے ساتھ ساتھ اسکاٹ لینڈ کے دارالحکومت ایڈنبرا میں بھی امریکی قونصل خانے کے باہر مظاہرہ ہوا، تاہم وہاں سے گرفتاریوں کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ یہ مظاہرہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب برطانیہ کی سپریم کورٹ میں 4 نومبر کو فلسطین ایکشن کی پابندی کے خلاف اپیل کی سماعت ہونی ہے۔ فروری میں ہائی کورٹ نے پابندی کو قانونی قرار دیا تھا، لیکن اپیل میں اس فیصلے کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔
پہلا بڑا مظاہرہ نئی حکومت کے دور میں
الجزیرہ کے مطابق ہفتے کا مظاہرہ وزیر اعظم اینڈی برنہم کے جولائی میں عہدہ سنبھالنے کے بعد پابندی کے خلاف پہلا بڑا اجتماعی مظاہرہ تھا۔ اس سے قبل پابندی سابق وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی حکومت میں نافذ ہوئی تھی۔ برطانیہ میں اس معاملے پر بحث جاری ہے کہ آیا احتجاج کی آزادی اور قومی سلامتی کے قوانین کے درمیان توازن درست ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ پرامن مظاہرین کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں تشویش ناک ہیں، جب کہ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ قانون پر عمل درآمد کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں: فرانس میں مظاہرے اور گرفتاریاں https://niazitvnews.com/?p=3010 اور دنیا بھر میں احتجاجی لہر https://niazitvnews.com/?p=3014
ماخذ: الجزیرہ، ٹائمز آف اسرائیل، ایسوسی ایٹڈ پریس اور اسکائی نیوز کی 31 اکتوبر 2026 کی رپورٹس۔