ایران امریکا مسودہ: یورینیم باہر، ہرمز 7 دن میں کھلے گا

0

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے ابتدائی مسودے میں تہران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو کسی متفقہ تیسرے ملک منتقل کرنے یا اس کی افزودگی کی سطح کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ ابتدائی مفاہمت کے سات دن کے اندر آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی جہازرانی کے لیے کھول دیا جائے گا۔ العربیہ انگریزی نے مسودے کے اہم نکات خصوصی طور پر حاصل کیے ہیں، جن کی تفصیل ہفتے کو سامنے آئی۔ یہ مسودہ ابھی حتمی معاہدہ نہیں بلکہ مذاکرات کا ابتدائی خاکہ ہے، اور دونوں حکومتوں نے اسے عوامی طور پر قبول نہیں کیا ہے۔

مسودے کے اہم نکات

مسودے کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام اور سمندری سیکیورٹی سے متعلق اقدامات کے بدلے امریکا پابندیوں، ناکہ بندی اور معاشی پابندیوں میں نرمی کرے گا۔ دونوں فریقوں میں سے کوئی بھی بڑی رعایت آزادانہ طور پر تصدیق شدہ وعدوں کے بغیر نہیں دے گا۔ اس مقصد کے لیے ایک آزاد تصدیقی نظام ہر مرحلے سے پہلے عمل درآمد کا جائزہ لے گا، تاکہ ایک فریق کی رعایت کے بدلے دوسرے فریق کا وعدہ بھی پورا ہو۔

مسودے میں ثالثوں اور ضامن فریقوں پر مشتمل تنازعات کے حل کا طریقہ کار بھی تجویز کیا گیا ہے، تاکہ تاخیر یا خلاف ورزی کی صورت میں فوجی کشیدگی دوبارہ نہ بھڑکے۔ براہ راست مذاکرات استنبول کی بجائے دوحہ میں کرانے کی تجویز ہے، اور چین کو معاہدے کے نفاذ اور پائیداری کا ضامن بنانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ دیگر رپورٹوں میں روس کو بھی ممکنہ ضامن کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔

ثالثی کی تازہ کوششیں

ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق قطر کی ایک ٹیم جمعے کی صبح تہران پہنچی، جس کی قیادت قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے سینئر مشیر کر رہے تھے اور جو واشنگٹن سے رابطے میں کام کر رہی تھی۔ اطلاعات کے مطابق قطری ایلچیوں نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا خط ایرانی سیکیورٹی عہدیدار محسن رضائی تک پہنچایا، جسے تہران میں امریکا کے ساتھ مزید فوجی کارروائی روکنے کے لیے ایک نئے سفارتی راستے کی تجویز کے طور پر خوش آئند قرار دیا گیا۔

قطر اور پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی بالواسطہ بات چیت کے بعد اب امریکی وفد کے دوحہ میں ایرانی حکام سے براہ راست ملاقات کی توقع ہے۔ قطری اخبار العربی الجدید کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ دونوں فریق ایران کے جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز سے گزرنے کی آزادی اور تہران کے لیے معاشی مراعات پر ابتدائی اقدامات پر مفاہمت تک پہنچ گئے ہیں۔ ایکسیوس کے مطابق اس سے قبل تہران میں قطری ثالثوں اور ایرانی حکام کے درمیان بارہ گھنٹے سے زیادہ بات چیت ہوئی تھی، جس کا مقصد براہ راست مذاکرات بحال کرنا اور جنگ کا نیا دور روکنا تھا۔

اختلافات اور ٹرمپ کا موقف

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن کو ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔ ان کے بقول یہ جنگ عام جنگ نہیں ہے اور سات ماہ سے جاری ہے، جبکہ وقت امریکا کے حق میں ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ تہران مذاکرات چاہتا ہے لیکن اسے اپنے فوجیوں اور پولیس کو تنخواہیں دینے میں مشکل ہو رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا اس مہم پر نسبتاً بہت کم خرچ کر رہا ہے۔ یہ تمام دعوے امریکی صدر کے اپنے بیانات ہیں، جن کی آزاد تصدیق رپورٹوں میں نہیں دی گئی۔

دونوں دارالحکومتوں کے درمیان بنیادی اختلافات ابھی برقرار ہیں، جن میں ایران کا جوہری پروگرام، پابندیاں اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی شامل ہیں۔ ٹرمپ نے ایک موقع پر ایران کے خلاف ایک اور چھوٹی فوجی کارروائی کا عندیہ بھی دیا تھا، جبکہ دوسری طرف ایک بڑے اور اچھے معاہدے کے امکان کا بھی ذکر کیا تھا۔ جمعے کو جی 20 وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی، جس میں واشنگٹن تہران مذاکرات اور علاقائی صورتحال پر بات ہوئی۔

پس منظر: ہرمز کیوں اہم ہے

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں سے ایک ہے، اور اس کی بندش یا عدم تحفظ عالمی توانائی منڈیوں کو فوری طور پر متاثر کرتا ہے۔ اسی ہفتے ہرمز میں ٹینکرز میں آگ لگنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں، جن پر ایران اور امریکا کے بیانات مختلف تھے۔ اس پس منظر میں سات دن میں گزرگاہ کھولنے کی تجویز کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف جہازرانی بلکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کا راستہ بھی نکل سکتا ہے۔ تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ مسودہ ابھی صرف ایک تجویز ہے اور اس پر عمل درآمد کے لیے دونوں فریقوں کو اپنے بنیادی مطالبات پر لچک دکھانا ہوگی۔

ایران امریکا کشیدگی پر ہماری رپورٹ ہرمز: 4 ٹینکرز میں آگ، امریکا کا مائن کلیئرنس کا دعویٰ میں پڑھی جا سکتی ہے، جبکہ خطے میں ثالثی کی کوششوں کی خبر ایران امریکا ثالثی: ڈی جی آئی ایس پی آر محتاط پرامید میں دیکھی جا سکتی ہے۔

ذرائع: العربیہ انگریزی (31 اکتوبر 2026) بذریعہ اکنامک ٹائمز، ٹائمز آف انڈیا، اسٹیٹس مین، یونی اور ٹریبیون انڈیا کی رپورٹوں سے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *