ایل پی جی مہنگی: سلنڈر 3,470 روپے، نومبر سے نئی قیمت

0

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے نومبر 2026 کے لیے مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمت میں 14.73 روپے فی کلو گرام اضافہ کر دیا ہے۔ اس اضافے کے بعد 11.8 کلو گرام وزنی گھریلو سلنڈر کی قیمت 173.86 روپے بڑھ کر 3,296 روپے سے 3,470 روپے ہو گئی ہے۔ نئی قیمتیں یکم نومبر 2026 سے نافذ ہوں گی اور یہ اضافہ سردیوں کے آغاز پر ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک پہلے ہی گیس کی قلت کا سامنا کر رہا ہے۔

نئی قیمتیں کیا ہیں

اوگرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں 14.73 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈنیا نیوز کے مطابق نئی قیمت 294.73 روپے فی کلو مقرر ہوئی ہے۔ گھریلو سلنڈر کی قیمت میں 173.86 روپے کا اضافہ ہوا ہے اور اب 11.8 کلو کا سلنڈر 3,470 روپے میں ملے گا، جبکہ اکتوبر میں یہی سلنڈر 3,296 روپے کا تھا۔ اوگرا نے اس اضافے کی وجہ سعودی آرامکو کے معاہدے کی قیمت میں 6.47 فیصد اضافہ بتایا ہے، جس سے درآمدی لاگت بڑھی ہے۔

یہ اضافہ ان صارفین کے لیے خاص طور پر بھاری ہے جو قدرتی گیس کی عدم دستیابی کی وجہ سے ایل پی جی پر انحصار کرتے ہیں۔ دیہی علاقوں اور ان شہری علاقوں میں جہاں سوئی گیس نہیں پہنچتی، ایل پی جی کھانا پکانے کا بنیادی ذریعہ ہے، اس لیے قیمت میں ہر اضافہ گھریلو بجٹ پر براہ راست اثر ڈالتا ہے۔

بازار میں اصل قیمت کہیں زیادہ

سرکاری قیمت اور بازار کی قیمت کے درمیان فرق اس وقت بہت زیادہ ہے۔ بازار کی رپورٹوں کے مطابق لاہور میں ایل پی جی تقریباً 520 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہی ہے، جبکہ کراچی میں قیمت تقریباً 530 روپے فی کلو بتائی جا رہی ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں بھی قیمت 520 روپے فی کلو کے قریب ہے، کوئٹہ میں 530 روپے اور پشاور میں 570 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ یہ اعداد بازار کی رپورٹوں پر مبنی ہیں اور سرکاری قیمت سے دو گنا کے قریب ہیں۔

مارکیٹ میں اس فرق کی ایک وجہ سپلائی میں رکاوٹیں بتائی جا رہی ہیں، جن میں ایرانی سرحد پر تجارت کا رکنا اور سمندری ترسیل میں کمی شامل ہے۔ اس سے قبل بھی ایل پی جی کی قیمتیں سرکاری نرخ سے کہیں زیادہ پر فروخت ہونے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں، اور صارفین کا کہنا ہے کہ انہیں نوٹیفکیشن والی قیمت پر سلنڈر نہیں ملتا۔

سردیوں میں گیس بحران سے تعلق

ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب سردیوں میں گیس بحران کی وارننگ پہلے ہی دی جا چکی ہے۔ قطر انرجی نے ایل این جی کی فراہمی پر فورس میجور 29 دسمبر تک بڑھا دی ہے، اور حکومت کو سردیوں کے لیے ضرورت کے 20 کارگوز کے مقابلے میں صرف 10 کارگوز کا انتظام ہوتا نظر آ رہا ہے۔ اس صورتحال میں گھریلو صارفین، صنعت، کھاد، سیمنٹ اور سی این جی سیکٹر سب متاثر ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب حکومت ایل پی جی کے شعبے میں بڑی اصلاحات پر بھی غور کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے ایل پی جی پالیسی اصلاحات کا جائزہ لینے کے لیے آٹھ رکنی وزارتی کمیٹی قائم کی ہے، جسے ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنا ہے۔ توانائی ڈویژن کی تجویز کے مطابق یکم نومبر 2026 سے اوگرا ایل پی جی کی ماہانہ قیمت کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کرے گا، بلکہ سرکاری کمپنیاں درآمدی لاگت کی بنیاد پر قیمت طے کریں گی۔ یہ تجویز ابھی کابینہ کی منظوری کی منتظر ہے۔

صارفین کے لیے کیا مطلب ہے

نومبر سے صارفین کو سلنڈر کی نئی قیمت ادا کرنا ہوگی، اور سردیوں میں طلب بڑھنے کے ساتھ قیمتوں پر مزید دباؤ کا خدشہ ہے۔ صارفین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ سلنڈر صرف منظور شدہ ڈیلرز سے خریدیں، وزن چیک کریں اور رسید ضرور لیں، تاکہ کم وزن یا زیادہ قیمت کی شکایت کی صورت میں ثبوت موجود ہو۔ اگر کسی علاقے میں سرکاری قیمت سے بہت زیادہ قیمت وصول کی جا رہی ہے تو اس کی شکایت اوگرا یا ضلعی انتظامیہ کو کی جا سکتی ہے۔

ایل پی جی اصلاحات پر ہماری رپورٹ ایل پی جی اصلاحات پر 8 رکنی کمیٹی، رپورٹ ایک ماہ میں میں پڑھی جا سکتی ہے، جبکہ سردیوں کے گیس بحران کی خبر سردیوں میں گیس بحران، قطر کی ایل این جی معطلی میں دیکھی جا سکتی ہے۔

ذرائع: ڈنیا نیوز (31 اکتوبر 2026)، پاکستان آبزرور (31 اکتوبر 2026) اور دی نیوز کی رپورٹوں سے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *