امریکا: جج نے ووٹ گنتی پر دھمکیوں پر پابندی لگا دی
امریکا کی ایک وفاقی جج نے محکمہ انصاف کو انتخابی حکام کو ووٹوں کی گنتی کے معاملے پر دھمکانے سے عارضی طور پر روک دیا ہے۔ ناردرن ڈسٹرکٹ آف کیلیفورنیا کی جج ٹرینا تھامپسن نے جمعے کو یہ عارضی حکم جاری کیا، جو 3 نومبر کے مڈٹرم انتخابات سے صرف چار دن پہلے آیا ہے اور 16 نومبر تک نافذ رہے گا۔ یہ حکم ٹرمپ انتظامیہ کی ان کوششوں کو دھچکا قرار دیا جا رہا ہے جن کے تحت ان ووٹرز کے ووٹ روکنے کی کوشش کی جا رہی تھی جن کے بارے میں انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ وہ امریکی شہری نہیں ہیں۔
حکم میں کیا کہا گیا
جج تھامپسن نے اپنے حکم میں لکھا کہ مدعا علیہان کسی رجسٹرڈ ووٹر کا بیلٹ صرف اس بنیاد پر روکنے کا مطالبہ کرنے کے لیے ریاستی یا مقامی انتخابی حکام یا کارکنوں کو دھمکا نہیں سکتے، ڈرا نہیں سکتے اور نہ ان پر دباؤ ڈال سکتے ہیں کہ وہ ووٹر مبینہ طور پر ووٹ دینے کا اہل نہیں ہے۔ حکم میں یہ بھی کہا گیا کہ محکمہ انصاف کے حکام انتخابی حکام کو ان مطالبات کی عدم تعمیل پر فوجداری مقدمے کی دھمکی نہیں دے سکتے۔
وسیع حکم میں یہ بھی شامل ہے کہ محکمہ انصاف اور محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی مخصوص رجسٹرڈ ووٹرز کو ووٹر فہرستوں سے نکالنے، انہیں بیلٹ جاری کرنے سے انکار کرنے یا ان کے بیلٹ نہ گننے کا مطالبہ نہیں کر سکتے۔ جج نے کہا کہ انتخابی کارکنوں کو دھمکانا اور فوجداری مقدمے کی دھمکیاں قانون کے خلاف اور من مانی ہیں، اور انتخابات کی قریبی تاریخ کے پیش نظر عارضی حکم ضروری ہے کیونکہ درخواست گزاروں کے مقدمے میں کامیابی کا امکان ہے۔
مقدمہ کس نے دائر کیا
یہ مقدمہ مزدور یونینوں اور شہری حقوق کی تنظیموں نے محکمہ انصاف اور محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے خلاف دائر کیا تھا، جن میں سروس ایمپلائز انٹرنیشنل یونین، امریکن فیڈریشن آف اسٹیٹ کاؤنٹی اینڈ میونسپل ایمپلائز، لیگ آف یونائیٹڈ لیٹن امریکن سٹیزنز اور این اے اے سی پی شامل ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق محکمہ انصاف نے کیلیفورنیا میں تقریباً 20,000 بیلٹ الگ رکھنے کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ واشنگٹن میں 405 بیلٹ کا مطالبہ کیا گیا تھا، اور لاس اینجلس کاؤنٹی کے انتخابی کارکنوں کو گرینڈ جیوری کے سامنے طلب کرنے کے لیے سمن بھی جاری کیے گئے تھے۔
اس سے ایک دن پہلے بدھ کو ایک اور وفاقی جج نے محکمہ انصاف کی کیلیفورنیا کے 20,000 سے زیادہ ووٹرز کے بیلٹ الگ رکھنے کی کوشش مسترد کر دی تھی اور اس اقدام کو انتخابات سے قبل کھلی مداخلت قرار دیا تھا۔ جمعے کو ایک اپیل عدالت نے بھی ان بیلٹ کو الگ رکھنے کی محکمہ انصاف کی درخواست مسترد کر دی۔ رپورٹوں کے مطابق محکمہ انصاف کو پیر کی دوپہر تک جواب دینا ہے اور ابتدائی حکم امتناعی کی سماعت 13 نومبر کو مقرر ہے۔ محکمہ انصاف نے فوری طور پر اس فیصلے پر تبصرہ نہیں کیا، تاہم اس کی ترجمان نے کہا ہے کہ نااہل ووٹر کا ہر بیلٹ ایک امریکی شہری کے ووٹ کو منسوخ کر دیتا ہے۔
مڈٹرم انتخابات کا پس منظر
یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکا میں 3 نومبر کو مڈٹرم انتخابات ہو رہے ہیں، جن میں کانگریس کا کنٹرول داؤ پر ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو کانگریس میں اپنا کنٹرول کھونے کا خطرہ ہے، اور ناقدین کا الزام ہے کہ انتظامیہ انتخابی نتائج پر شک پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ٹرمپ نے 2020 میں جو بائیڈن سے اپنی شکست کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور اس سال کے مڈٹرم انتخابات میں دھوکہ دہی کے دعوے کرتے رہے ہیں۔
دوسری جانب مطالعات بار بار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ووٹوں میں دھوکہ دہی کے نایاب واقعات ہوتے ہیں، لیکن وہ اتنے کم ہیں کہ انتخابی نتائج پر اثر انداز نہیں ہوتے۔ قبل از وقت ووٹنگ کے اعداد بھی ریکارڈ سطح پر ہیں اور تقریباً 4 کروڑ 79 لاکھ امریکی پہلے ہی اپنا ووٹ ڈال چکے ہیں، جو 2022 کے مڈٹرم انتخابات کے پچھلے ریکارڈ سے زیادہ ہے۔ اسی انتخابی ماحول میں پوپ لیو چہارم نے بھی پہلی بار امریکی ووٹ ڈال کر تاریخ رقم کی ہے، جس سے اس انتخاب کی غیر معمولی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
امریکا کے مڈٹرم انتخابات پر ہماری رپورٹ پوپ لیو چہارم نے امریکی ووٹ ڈال کر تاریخ رقم کر دی میں پڑھی جا سکتی ہے، جبکہ قبل از وقت ووٹنگ کے ریکارڈ کی خبر امریکی مڈٹرم الیکشن: قبل از وقت ووٹنگ کا نیا ریکارڈ میں دیکھی جا سکتی ہے۔
ذرائع: ملے میل/اے ایف پی (31 اکتوبر 2026)، اکنامک ٹائمز (31 اکتوبر 2026) اور نیوز 18 (31 اکتوبر 2026) کی رپورٹوں سے۔