کواڈ وزرائے خارجہ اٹلانٹا میں ملے، لیڈرز سمٹ کی تیاری

0

بھارت، امریکا، جاپان اور آسٹریلیا کے وزرائے خارجہ ہفتے کو امریکی شہر اٹلانٹا میں ملے، جہاں انہوں نے ہند بحرالکاہل خطے کے لیے مشترکہ ترجیحات کو عوام کے لیے حقیقی فوائد میں بدلنے کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ یہ رواں سال کواڈ وزرائے خارجہ کی تیسری ملاقات تھی، اور اس کا مقصد اگلے ماہ منیلا میں ہونے والے کواڈ لیڈرز سمٹ کی زمین ہموار کرنا تھا۔

اجلاس کی میزبانی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جی 20 وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر کی۔ اس میں بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر، جاپانی وزیر خارجہ توشیمیتسو موتیگی اور آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وانگ نے شرکت کی۔ اجلاس مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بجے شروع ہوا۔

سپلائی چین اور اہم معدنیات

اجلاس کے بعد اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ وہ اپنے کواڈ ہم منصبوں سے مل کر خوش ہیں اور انہوں نے مشترکہ ترجیحات کو ہند بحرالکاہل کے عوام کے لیے حقیقی فوائد میں بدلنے میں ہونے والی حقیقی پیش رفت پر بات چیت کی۔ اطلاعات کے مطابق وزراء نے سپلائی چین کی تعمیر، اہم معدنیات، سمندری تعاون اور نئی نسل کی ٹیکنالوجیز پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔

جاپانی وزارت خارجہ کے مطابق وزراء نے مشرقی بحیرہ چین اور جنوبی بحیرہ چین میں کشیدگی پر بھی کھل کر بات کی۔ جاپانی وزیر خارجہ نے طاقت یا جبر کے ذریعے صورتحال کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کی سخت مخالفت کی، جبکہ چاروں ممالک نے اہم سپلائی چینز پر معاشی دباؤ پر تشویش کا اظہار کیا۔ مشترکہ اعلامیے میں من مانی برآمدی پابندیوں سمیت معاشی جبر پر “سنگین تشویش” درج کی گئی۔

لیڈرز سمٹ اور پس منظر

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب کواڈ رہنماؤں کا سربراہی اجلاس اگلے ماہ منیلا میں متوقع ہے، جو 2024 کے بعد پہلا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے پہلا لیڈرز سمٹ ہوگا۔ توقع ہے کہ یہ اجلاس نومبر میں آسیان کانفرنس کے موقع پر 15 سے 18 نومبر کے درمیان فلپائن کے دارالحکومت میں ہوگا۔

کواڈ وزرائے خارجہ اس سے قبل رواں سال مئی میں نئی دہلی اور جولائی میں منیلا میں مل چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اٹلانٹا اجلاس نے طویل عرصے سے التوا کا شکار لیڈرز سمٹ کی بنیاد رکھی ہے، تاہم بعض تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ کواڈ ایجنڈے کے کئی اہم نکات، بشمول اہم معدنیات اور توانائی، دو طرفہ سطح پر طے ہو رہے ہیں، جس سے وزراء کی ملاقات کا کردار محدود بھی ہو سکتا ہے۔

اجلاس کے بعد روبیو نے جی 20 کا آخری مکمل اجلاس بھی منعقد کیا، جہاں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کی شرکت پر یورپی نمائندوں کے اعتراضات کی وجہ سے گروپ فوٹو بھی منسوخ ہو چکا تھا۔ روبیو نے امید ظاہر کی کہ جی 20 وزرائے خارجہ 14 اور 15 دسمبر کو میامی کے قریب ٹرمپ کے ڈورل گولف ریزورٹ میں ہونے والے لیڈرز سمٹ کی بنیاد رکھ سکیں گے۔

دوسری جانب جے شنکر اٹلانٹا سے اینٹیگوا اور باربوڈا روانہ ہوں گے، جہاں وہ یکم سے 4 نومبر تک دولت مشترکہ سربراہان حکومت کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

عالمی اتحادوں پر ہماری رپورٹ کینیڈا یورپی یونین نیا اتحاد (https://niazitvnews.com/?p=2879) میں پڑھی جا سکتی ہے، جبکہ یوکرین کے لیے امریکی دفاعی فروخت کی خبر امریکا کی یوکرین کو 2.1 ارب ڈالر پیٹریاٹ فروخت (https://niazitvnews.com/?p=2892) میں دیکھی جا سکتی ہے۔

ذرائع: نیو انڈین ایکسپریس (31 اکتوبر 2026)، نکی ایشیا/رائٹرز (31 اکتوبر 2026) اور آئی اے این ایس (31 اکتوبر 2026) کی رپورٹوں سے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *