گوگل کی مالک الفابیٹ کے حصص 12 فیصد گر گئے، 500 ارب ڈالر
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کے حصص جمعرات کو ایک ہی دن میں 12 فیصد سے زیادہ گر گئے، جس سے کمپنی کی مارکیٹ ویلیو میں تقریباً 500 ارب ڈالر کی کمی آ گئی۔ یہ الفابیٹ کی تاریخ میں ایک دن کی سب سے بڑی گراوٹ قرار دی جا رہی ہے، اور امریکی اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ میں بھی یہ دوسری سب سے بڑی ایک روزہ مارکیٹ ویلیو کی کمی ہے۔ سرمایہ کاروں کی تشویش کی وجہ سست سرچ اشتہارات کی آمدن اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر بڑھتے ہوئے اخراجات ہیں۔
جیو نیوز کی 30 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق الفابیٹ کے حصص میں 12 فیصد سے زیادہ کی کمی نے نیسڈیک انڈیکس کو بھی 1.4 فیصد نیچے دھکیل دیا۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق یہ گراوٹ کمپنی کی تاریخ کی سب سے تیز ایک روزہ گراوٹ تھی، جس سے تقریباً 500 ارب ڈالر کی مارکیٹ ویلیو ختم ہو گئی۔
سہ ماہی نتائج میں کیا سامنے آیا
الفابیٹ نے تیسری سہ ماہی میں 127.6 ارب ڈالر کی آمدن رپورٹ کی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 25 فیصد زیادہ ہے، لیکن یہ تجزیہ کاروں کی 127.9 ارب ڈالر کی توقع سے کم رہی۔ گوگل سرچ کی آمدن 12 فیصد بڑھ کر 63.4 ارب ڈالر ہوئی، جو 2023 کے بعد سرچ کی سب سے سست رفتار نمو ہے۔ اس سے قبل دوسری سہ ماہی میں سرچ کی نمو 17 فیصد تھی۔
دوسری جانب گوگل کلاؤڈ کی آمدن 103 فیصد بڑھ کر 30.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو کلاؤڈ کاروبار کی ریکارڈ رفتار ہے۔ تاہم کلاؤڈ کی یہ شاندار کارکردگی بھی سرچ کاروبار کی کمزوری کی تشویش کو دور نہ کر سکی۔
اے آئی اخراجات نے سرمایہ کاروں کو کیوں پریشان کیا
الفابیٹ نے تیسری سہ ماہی میں اکیلے 51.4 ارب ڈالر کے سرمائے کے اخراجات (کیپیکس) کیے، جبکہ پورے سال 2026 کے لیے کیپیکس کا تخمینہ 195 سے 205 ارب ڈالر کے درمیان ہے۔ کمپنی نے یہ بھی اشارہ دیا کہ 2027 میں کیپیکس میں مزید نمایاں اضافہ ہوگا۔ اس کے نتیجے میں کمپنی کا مفت کیش فلو (فری کیش فلو) منفی 9.1 ارب ڈالر رہا، جو مسلسل دوسری سہ ماہی میں منفی رہا۔
ماہرین کے مطابق سرمایہ کار یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اے آئی پر اتنی بڑی سرمایہ کاری سے کب اور کتنا منافع ملے گا، جبکہ اسی دوران اے آئی چیٹ بوٹس کے بڑھتے استعمال سے روایتی سرچ اشتہارات کو خطرہ لاحق ہو رہا ہے۔ گوگل کے چیف بزنس آفیسر فلپ شِنڈلر نے بھی تسلیم کیا کہ اے آئی موڈ کی تلاشوں سے فی تلاش کم اشتہاری آمدن حاصل ہوتی ہے۔
آمدن فی حصص کیوں گری
الفابیٹ کی فی حصص آمدن (ای پی ایس) 2.87 ڈالر سے کم ہو کر 2.12 ڈالر رہ گئی، جس کی بڑی وجہ ایکویٹی سیکیورٹیز پر 12.4 ارب ڈالر کا نقصان تھا، جو بنیادی طور پر اسپیس ایکس میں سرمایہ کاری کی قدر میں کمی سے ہوا۔ تجزیہ کاروں کی توقع 3.01 ڈالر فی حصص تھی، اس لیے یہ کمی بھی مارکیٹ کے لیے مایوس کن رہی۔
مارکیٹ پر مجموعی اثر
الفابیٹ کی گراوٹ کا اثر صرف گوگل تک محدود نہیں رہا۔ اس نے امریکی ٹیکنالوجی کے حصص کو مجموعی طور پر نیچے دھکیلا اور نیسڈیک میں 1.4 فیصد کی کمی میں اہم کردار ادا کیا۔ اس سے قبل میٹا کے حصص بھی سہ ماہی نتائج کے بعد گرے تھے، جبکہ مارکیٹ میں اے آئی سرمایہ کاری کے منافع کے بارے میں بحث تیز ہو گئی ہے۔
کمپنی کا موقف اور آگے کا راستہ
گوگل کے سی ای او سندر پچائی نے تجزیہ کاروں کو بتایا کہ سرچ کی تلاشوں (کوئریز) میں نمو پانچ سال کی تیز ترین رفتار سے ہو رہی ہے، اور کمپنی روایتی سرچ اور اے آئی موڈ کو ایک جامع نظام کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ انتظامیہ نے سرچ کی سست روی کو عبوری قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اے آئی موڈ میں اشتہارات بتدریج بڑھائے جا رہے ہیں۔ تاہم کچھ تجزیہ کاروں نے اس وضاحت کو ناکافی قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ دسمبر کی سہ ماہی میں بھی سرچ کی نمو مزید کمزور ہو سکتی ہے۔
جمعے کی صبح پری مارکیٹ ٹریڈنگ میں بھی الفابیٹ کے حصص مزید تقریباً ایک فیصد نیچے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فروخت کا دباؤ فوری طور پر ختم نہیں ہوا ہے۔ سرمایہ کار اب کمپنی کی چوتھی سہ ماہی کی کال کا انتظار کریں گے، جس میں 2027 کے کیپیکس کی تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔
مزید پڑھیں: بائنانس سے 6.3 ارب ڈالر کی تاریخ کی سب سے بڑی چوری (https://niazitvnews.com/?p=2807) اور امریکہ کی معیشت 3.4 فیصد بڑھ گئی، توقعات سے بہتر (https://niazitvnews.com/?p=2744)۔
ماخذ: جیو نیوز، انڈین ایکسپریس اور کوریا ہیرالڈ کی 30 اکتوبر 2026 کی رپورٹس۔