آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھ گئی — ایران کا دعویٰ: بحری سرنگوں سے 3 آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران دنیا کی سب سے اہم تیل کی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ ایران کے پاسداران انقلاب (IRGC) کا دعویٰ ہے کہ اس کی بحریہ کی بچھائی گئی بحری سرنگوں سے تین آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا، جن میں سے دو آگ کی لپیٹ میں آ گئے جبکہ ایک سپر ٹینکر میں دھماکے کے بعد آگ لگ گئی۔
تین ٹینکرز کا واقعہ — پاسداران انقلاب کا دعویٰ
پاسداران انقلاب نے اپنی سرکاری ویب سائٹ “سپاہ نیوز” کے ذریعے جاری ایک بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں ایک “غیر قانونی عبورگاہ” پر بچھائی گئی سرنگوں سے دو آئل ٹینکرز میں دھماکے ہوئے اور آگ لگ گئی۔ بیان کے مطابق ان ٹینکروں کو روک دیا گیا۔
بعد ازاں ایران کے سرکاری ٹی وی پر نشر ایک مزید بیان میں کہا گیا کہ ایک تیسرا بڑا آئل ٹینکر بھی آبنائے ہرمز کے جنوب میں بحری سرنگ سے ٹکرایا اور آگ لگ گئی۔ ایران کے دعوے کے مطابق اس ٹینکر میں 20 لاکھ بیرل سے زائد خام تیل تھا اور اس نے اپنے تمام ریڈار اور نیویگیشن سسٹمز بند کر رکھے تھے۔
آزاد تصدیق ابھی تک نہیں ہوئی
اہم بات یہ ہے کہ ایران کے ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی۔ بحری صنعت کی معروف اشاعت “جی کیپٹن” نے 21 اکتوبر کو رپورٹ کیا کہ ثبوت ابھی تک نہ ملنے کے باعث نہ ٹینکروں کے نام کی تصدیق ہو سکی ہے اور نہ ان کی درست مقام کی۔ جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر کی 18 اکتوبر کی ایڈوائزری میں بھی دعوؤں کی تصدیق نہ ہونے کا ذکر تھا۔
تناظر — فروری سے جاری کشیدگی
یہ واقعات اس تناظر میں سامنے آئے ہیں کہ فروری 2026 میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد سے مشرق وسطیٰ میں جنگ جاری ہے۔ ایران نے اس کے بعد سے آبنائے ہرمز کو عملاً بند کر رکھا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ تمام جہاز عبور سے پہلے اس کی اجازت لیں۔ امن کے زمانے میں اس آبنائے سے دنیا کے تیل کی تقریباً پانچویں حصے کی فراہمی ہوتی تھی۔
ایران کے مسلح افواج کے سربراہ جنرل علی عبداللہی نے 20 اکتوبر کو کہا تھا کہ ایران سستے ہتھیاروں سے دشمن کے مہنگے جدید آلات کو نشانہ بنا رہا ہے، اور خبردار کیا تھا کہ مزید “غلطیوں” کا جواب دیا جائے گا۔
ایران کا دعویٰ ہے کہ اب تک سرنگوں سے ٹکرانے والے جہازوں کی تعداد نو ہو گئی ہے، اور 122 جہاز اس کی “خلاف ورزی کرنے والوں” کی فہرست میں ہیں۔
ذرائع: رائٹرز کے حوالے سے بین الاقوامی میڈیا رپورٹس، ایران کی سرکاری ٹی وی رپورٹس (سپاہ نیوز)۔ نوٹ: ٹینکروں کے نام اور نقصان کی آزاد تصدیق ابھی باقی ہے۔