ایران: امریکی ووٹرز نے جنگ کو “نہ” کہہ دیا

0

ایران کی حکومت نے امریکی مڈٹرم انتخابات کے نتائج کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے سخت دھچکا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی ووٹرز نے جنگ کو مسترد کر دیا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تہران نے اس جشن کے ساتھ ساتھ نئے امریکی حملوں کے امکان پر ہائی الرٹ بھی برقرار رکھا ہوا ہے۔

قالیباف کا پیغام

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ “ضمیر ہو یا مہنگائی، امریکیوں نے جنگ کو نہ کہہ دیا ہے، اور ہم اس پیغام کی تائید کرتے ہیں۔” انہوں نے خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن عوامی رائے کو نظر انداز کر کے دوبارہ حملہ کرے گا تو اسے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ ان کا یہ بیان ڈیموکریٹس کے ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں کامیابی کے بعد سامنے آیا۔

خامنہ ای کا سخت بیان

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے تحریری بیان میں کہا کہ امریکہ کی دشمنی اس بات سے تبدیل نہیں ہوگی کہ واشنگٹن میں کون سی جماعت اقتدار میں ہے، اور امریکہ کے سامنے “ذرا سی بھی جھکاؤ” سے خبردار کیا۔ انہوں نے کہا کہ “امریکہ تسلط کے خاتمے کو دور دیکھتا ہے، ہم اسے قریب دیکھتے ہیں۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر امریکہ نے دوبارہ جارحیت کی تو جواب پہلے سے کہیں بڑے پیمانے پر ہوگا۔

ٹرمپ کا اعتراف

صدر ٹرمپ نے میڈیا کو دیے گئے انٹرویوز میں اعتراف کیا کہ امریکہ اسرائیل جنگ نے ریپبلکن امیدواروں کی شکست میں کردار ادا کیا۔ روئٹرز کے مطابق ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ “میرا خیال ہے کہ اس کا ایک حصہ ایران تھا۔” ڈیموکریٹس کی مہم میں جنگ کے باعث ایندھن اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ مرکزی موضوع رہا تھا، اور منگل کے انتخابات میں ریپبلکن گڑھوں میں بھی ڈیموکریٹس نے کامیابیاں حاصل کیں۔

تہران میں جشن اور خدشہ

روئٹرز کے مطابق دو سینئر ایرانی ذرائع نے بتایا کہ ایرانی قیادت نے ڈیموکریٹس کی فتح کا خیر مقدم تو کیا، لیکن انہیں خدشہ ہے کہ ٹرمپ اس شکست کا ازالہ فوجی حملے سے کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، اس لیے تہران ہائی الرٹ پر ہے۔ ایران کی عدلیہ سے وابستہ ایک خبر رساں ادارے نے ایکس پر گردش کرنے والا لطیفہ بھی شیئر کیا کہ “ٹرمپ ایران میں حکومت کی تبدیلی میں ناکام رہے لیکن ٹیکساس میں کامیاب ہو گئے” — یہ اشارہ ٹیکساس میں ڈیموکریٹ کی سینیٹ نشست جیتنے کی طرف تھا، جو کئی دہائیوں میں پہلی بار ہوا۔

تاریخی تناظر

یہ دھچکا 1979 میں تہران میں امریکی سفارتخانے پر قبضے کی برسی کے موقع پر لگا، جب انقلابی طلبہ نے 52 امریکیوں کو 444 دن تک یرغمال بنائے رکھا تھا۔ ایرانی اخبار ہمشہری نے سرخی لگائی کہ “امریکی انتخابات پر ایران کا سایہ” اور ٹرمپ کی آنکھوں پر پٹی بندھی تصویر شائع کی۔ جنگ 28 فروری کو شروع ہوئی تھی، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا، اور اس کے بعد سے خلیج میں کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے۔ ثالثوں نے جنگ دوبارہ بھڑکنے کے خدشے کے پیش نظر کوششیں تیز کر دی ہیں، جبکہ ٹرمپ نے منگل کو انتخابات کے بعد دوبارہ کارروائی کے امکان کو مسترد کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

مزید پڑھیں:
https://niazitvnews.com/?p=3645
https://niazitvnews.com/?p=3597

ذرائع: روئٹرز، اکنامک ٹائمز، انڈین ایکسپریس — 4 نومبر 2026 کی رپورٹس کے مطابق۔ تمام متنازع دعوے متعلقہ فریقوں سے منسوب کر کے پیش کیے گئے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *