اسرائیل انتخابات: ایگزٹ پول میں کسی بلاک کو اکثریت نہ ملی
اسرائیل کے عام انتخابات کے ایگزٹ پول میں کسی بھی سیاسی بلاک کو 120 رکنی کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کا بلاک تقریباً 50 نشستوں پر رہا جبکہ اپوزیشن بلاک 53 نشستوں کے قریب رہا، اور عرب جماعتوں کی 17 سے 18 نشستیں اب حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔
یہ ایگزٹ پول تین بڑے اسرائیلی ٹی وی چینلز — کان 11، چینل 12 اور چینل 13 — نے منگل 27 اکتوبر کی رات پولنگ ختم ہونے کے فوراً بعد جاری کیے۔ تینوں چینلز کے اندازے ایک دوسرے سے قریب رہے، تاہم یہ حتمی نتائج نہیں ہیں بلکہ ابتدائی تخمینے ہیں جن میں سرکاری گنتی کے بعد تبدیلی ممکن ہے۔
لیکوڈ سب سے بڑی جماعت، ایزن کوٹ دوسرے نمبر پر
ایگزٹ پول کے مطابق نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ 24 سے 25 نشستوں کے ساتھ کنیسٹ کی سب سے بڑی جماعت بنی رہے گی۔ سابق آرمی چیف گاڈی ایزن کوٹ کی جماعت یشار 21 سے 23 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔ اس سے پہلے ہونے والے اکثر سروے میں بھی ایزن کوٹ کی جماعت آگے دکھائی دے رہی تھی، مگر ایگزٹ پول میں وہ لیکوڈ سے پیچھے رہی۔
سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاچد کو 12 سے 14 نشستیں ملنے کا اندازہ ہے، جبکہ یسرائیل بیٹینو اور ڈیموکریٹس کو بھی دوہرے ہندسوں میں نشستیں ملنے کی توقع ہے۔ نیتن یاہو کے بلاک میں شامل مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم کو مجموعی طور پر 12 سے 14 نشستیں ملنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
عرب جماعتیں کنگ میکر بن گئیں
اس انتخاب کی سب سے بڑی کہانی عرب جماعتوں کی کامیابی ہے۔ جوائنٹ لسٹ کو 10 سے 11 اور رعام کو 7 نشستیں ملنے کا اندازہ ہے، یعنی مجموعی طور پر 17 سے 18 نشستیں۔ یہ عرب جماعتوں کی تاریخی کامیابی قرار دی جا رہی ہے اور اب ان کے بغیر کسی بھی بلاک کے لیے 61 نشستوں تک پہنچنا مشکل نظر آتا ہے۔
تاہم ایک بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ اپوزیشن رہنماؤں نے انتخابی مہم کے دوران عرب جماعتوں کے ساتھ حکومت بنانے سے بڑی حد تک انکار کیا تھا، سوائے ڈیموکریٹس کے رہنما یائر گولان کے۔ اس لیے آئندہ دنوں میں مذاکرات کا رخ یہ طے کرے گا کہ آیا کوئی بلاک اس موقف سے پیچھے ہٹتا ہے یا ملک ایک اور سیاسی تعطل کی طرف بڑھتا ہے۔
ریکارڈ ٹرن آؤٹ اور آگے کیا ہوگا
اسرائیل کے مرکزی انتخابی کمیشن کے مطابق اس بار ووٹر ٹرن آؤٹ کئی دہائیوں میں سب سے زیادہ رہا۔ بعض رپورٹس میں اسے 1973 کے بعد سب سے زیادہ ٹرن آؤٹ قرار دیا گیا ہے۔ زیادہ ٹرن آؤٹ کو عرب ووٹروں کی بڑی شرکت سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔
سرکاری نتائج کی گنتی رات بھر جاری رہی اور تقریباً ساڑھے 6 لاکھ خصوصی بیلٹ پیپرز کی گنتی کے باعث حتمی نتائج میں تاخیر ممکن ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق حتمی نتائج جمعرات تک آ سکتے ہیں، جبکہ حکومت سازی میں تین ہفتے سے ایک ماہ تک لگ سکتے ہیں۔ آخر میں اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ اس رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دیں گے جس کے بارے میں ان کا خیال ہو کہ وہ کنیسٹ میں اکثریت حاصل کر سکتا ہے۔ اگر کوئی بھی رہنما اکثریت نہ بنا سکا تو نئے انتخابات کا امکان بھی موجود رہے گا۔
یہ نتائج نیتن یاہو کے لیے ایک دھچکا سمجھے جا رہے ہیں، جن کی جماعت کی نشستیں موجودہ 32 سے کم ہو کر 25 کے قریب رہنے کا اندازہ ہے۔ تاہم چونکہ لیکوڈ سب سے بڑی جماعت بنی ہے، اس لیے حکومت سازی کی دوڑ ابھی کھلی ہوئی ہے اور اگلے چند دنوں کے مذاکرات ہی فیصلہ کریں گے کہ اسرائیل کا اگلا وزیر اعظم کون ہوگا۔
مزید پڑھیں: اسرائیل انتخابات میں تاریخی ٹرن آؤٹ — https://niazitvnews.com/?p=2235
مزید پڑھیں: نیتن یاہو کا ایران جنگ کا اشارہ — https://niazitvnews.com/?p=2160
ذرائع: دی جیروسلم پوسٹ، نیویارک پوسٹ، ہاریٹز — ایگزٹ پول چینلز کان 11، چینل 12 اور چینل 13 کے اندازوں پر مبنی۔