بجلی: 200 یونٹ کی سزا ختم کرنے کا اعلان

0

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے سینیٹ میں اعلان کیا ہے کہ حکومت بجلی کے اس سلیب نظام کو ختم کر رہی ہے جس کے تحت 200 یونٹ سے صرف ایک یونٹ زیادہ استعمال کرنے والے صارف کو 6 ماہ تک مہنگے نرخوں پر بل ادا کرنا پڑتا تھا۔ وزیر نے کہا کہ اس نظام کو ختم کرنے کا منصوبہ ڈیڑھ ماہ میں حتمی شکل اختیار کر لے گا۔
یہ اعلان منگل 27 اکتوبر کو سینیٹ کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عابد شیر علی کی توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں کیا گیا۔ سینیٹر نے کہا تھا کہ موجودہ نظام غریب صارفین کو سزا دیتا ہے، کیونکہ صرف ایک یونٹ کے فرق سے پورا بل کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

200 سے 201 یونٹ پر بل کیوں دگنا ہو جاتا تھا

موجودہ نظام کے تحت ماہانہ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین “محفوظ” زمرے میں آتے ہیں اور انہیں تقریباً 13 روپے فی یونٹ سبسڈی ملتی ہے۔ لیکن جیسے ہی استعمال 201 یونٹ ہوتا ہے، صارف کو 30 سے 33 روپے فی یونٹ تک ادا کرنا پڑتے ہیں اور اگلے 6 ماہ تک وہ اس رعایت سے محروم رہتا ہے۔
سینیٹر عابد شیر علی نے ایوان میں کہا کہ جب ماہانہ استعمال 200 سے بڑھ کر 201 یونٹ ہوتا ہے تو ٹیرف تقریباً 15 روپے سے بڑھ کر 30 روپے فی یونٹ ہو جاتا ہے، جس سے ایک غریب صارف کو صرف ایک اضافی یونٹ کی وجہ سے 400 یونٹ والے سلیب کے حساب سے بل ادا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے اس نظام کو “ظالمانہ” قرار دیا اور کہا کہ یہ مہینوں تک عام آدمی کو نچوڑتا ہے۔
وزیر توانائی نے اس مسئلے کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ وزارت اسے سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور اس سزا کو ختم کرنے کا کام تیزی سے جاری ہے۔

حکومت کے سامنے دو آپشن

اویس لغاری نے ایوان کو بتایا کہ حکومت کے سامنے دو آپشن زیر غور ہیں: پہلا یہ کہ 200 یونٹ کی حد بڑھا کر 250 یونٹ کر دی جائے، اور دوسرا یہ کہ 6 ماہ کی پابندی ختم کر دی جائے تاکہ صارف کو اسی مہینے محفوظ زمرے کا فائدہ مل سکے جس مہینے وہ استعمال 200 یونٹ تک محدود رکھے۔
وزیر نے یہ بھی کہا کہ حکومت سبسڈی کا نظام کھپت کی بجائے آمدن سے جوڑنے پر کام کر رہی ہے، تاکہ ریلیف صرف ان صارفین تک پہنچے جو واقعی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے مطابق 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد تقریباً 2 کروڑ تک پہنچ گئی ہے، لیکن ان میں سے کئی گھروں میں سولر سسٹم لگا ہوا ہے جس سے ان کا گرڈ سے استعمال کم دکھائی دیتا ہے، اس لیے سب کو یکساں رعایت دینا درست نہیں ہوگا۔

بجلی چوری اور گردشی قرضے پر بھی بات

سینیٹ میں وزیر نے یہ بھی کہا کہ بجلی چوری روکنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، لیکن صارفین پر بلا وجہ بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ علیحدہ طور پر اسلام آباد میں نیشنل انرجی سمٹ سے خطاب میں انہوں نے بتایا کہ توانائی کے شعبے کا گردشی قرضہ کم ہو کر 1670 ارب روپے رہ گیا ہے اور حکومت اسے آئندہ چار سال میں ختم کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مسابقتی بجلی مارکیٹ متعارف کرا دی گئی ہے، ایک میگاواٹ تک کی گنجائش والے صارفین براہ راست بجلی خرید سکیں گے، اور وہیلنگ چارجز 28 روپے سے کم ہو کر تقریباً 11 سے 12 روپے فی یونٹ رہ گئے ہیں۔
صارفین کے لیے اہم بات یہ ہے کہ ابھی یہ تبدیلی حتمی نہیں ہوئی — وزیر نے ڈیڑھ ماہ کا وقت مانگا ہے۔ اس لیے اگلے بل ابھی پرانے نظام کے تحت ہی آئیں گے، مگر اگر منصوبہ منظور ہو گیا تو ایک یونٹ کی زیادتی پر 6 ماہ کی سزا کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔
مزید پڑھیں: پٹرول 3.19 روپے سستا، ڈیزل مہنگا — https://niazitvnews.com/?p=2275
مزید پڑھیں: حکومت اور جماعت اسلامی کی 6 رکنی کمیٹی — https://niazitvnews.com/?p=2248
ذرائع: ڈان، جیو نیوز، دنیا نیوز — سینیٹ اجلاس میں وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کے بیان پر مبنی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *