پیٹرولیم لیوی: حکومت اور جماعت اسلامی کی 6 رکنی کمیٹی
حکومت اور جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی مرحلہ وار ختم کرنے اور عوام کے لیے فیول ریلیف اسکیم کو وسیع کرنے کے لیے 6 رکنی مشترکہ کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ 27 اکتوبر کو وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف اور جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کی ملاقات میں ہوا۔
کمیٹی میں کون شامل ہوگا
حکومت کی طرف سے کمیٹی میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناءاللہ شامل ہوں گے۔ جماعت اسلامی کے بھی تین نمائندے کمیٹی کا حصہ ہوں گے، تاہم رپورٹس میں جماعت اسلامی کے کمیٹی ارکان کے نام واضح نہیں کیے گئے۔
وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے ملاقات کے بعد اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں بتایا کہ دونوں رہنماؤں کا مقصد ایک ہے، یعنی عوام کی مشکلات کم کرنا، لیکن اس کے لیے ایسا راستہ اپنانا ہوگا جو پائیدار ہو اور جس کی لاگت برداشت کی جا سکے۔
کمیٹی کے دو کام
کمیٹی دو امور پر ٹھوس تجاویز کو حتمی شکل دے گی۔ پہلا، حکومت کی فیول ریلیف اسکیم کا دائرہ وسیع کرنا تاکہ زیادہ مستحق افراد اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ دوسرا، آئندہ بجٹ میں پیٹرولیم لیوی مرحلہ وار ختم کرنے کے لیے عملی تجاویز تیار کرنا۔
موجودہ ریلیف اسکیم 17 ستمبر کو شروع کی گئی تھی اور یہ موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کے لیے ہے۔ وزیراعظم نے ملاقات میں بتایا کہ اسکیم کے تحت کم آمدنی والے طبقے کے لیے 12.7 ملین افراد رجسٹر ہو چکے ہیں، جبکہ احسن اقبال کے مطابق تقریباً 12.5 ملین شہری اس وقت اسکیم سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
جماعت اسلامی کا مطالبہ اور مارچ کی تاریخ
جماعت اسلامی کا بنیادی مطالبہ پیٹرولیم لیوی کا مکمل خاتمہ ہے۔ حافظ نعیم الرحمان نے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ نومبر کے وسط میں اسلام آباد کی طرف مارچ ہر صورت ہوگا اور اسے مزید ملتوی نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو لیوی ختم کرنے کا مؤثر نظام بنانے کے لیے وقت دیا جا رہا ہے، لیکن موجودہ ریلیف پیکیج عوام کو کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں دے رہا۔
جماعت اسلامی کے امیر نے یہ بھی کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کا سارا بوجھ متوسط اور غریب طبقہ اٹھا رہا ہے۔ اس سے پہلے جماعت اسلامی نے وزیراعظم سے ملاقات کے بعد اسلام آباد مارچ ملتوی کیا تھا، اور حکومت کو 7 سے 10 دن کا وقت دیا تھا۔
مزید پڑھیں: جماعت اسلامی کے اسلام آباد مارچ سے متعلق تفصیل یہاں دیکھیں: https://niazitvnews.com/?p=2230
پیٹرولیم لیوی پر جماعت اسلامی کی پہلی وارننگ یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=2159
حکومت کا مؤقف
وزیراعظم نے ملاقات میں جماعت اسلامی کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے احتجاج کی بجائے مذاکرات کا راستہ چنا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی مالی گنجائش کے اندر عوام کو ریلیف دیتی رہے گی۔ وزیراعظم نے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کو علاقائی اور بین الاقوامی حالات سے جوڑا اور کہا کہ حکومت سفارتی کوششوں سے علاقائی بحران کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ملاقات سے پہلے میڈیا رپورٹس میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ دونوں فریقوں کی کمیٹیوں کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد لیوی بتدریج کم کرنے کے طریقہ کار پر بنیادی اتفاق ہو گیا تھا۔ تاہم حتمی فیصلہ اب نئی مشترکہ کمیٹی کی تجاویز پر ہوگا۔
آگے کیا ہوگا
اب سب کی نظریں اس 6 رکنی کمیٹی پر ہیں کہ وہ ریلیف اسکیم کی توسیع اور لیوی کے مرحلہ وار خاتمے کے لیے کیا تجاویز دیتی ہے، اور کیا نومبر کے وسط سے پہلے کوئی بڑا ریلیف پیکیج سامنے آتا ہے۔ اگر کمیٹی کی تجاویز پر عمل ہوا تو یہ لاکھوں موٹر سائیکل اور چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کے لیے براہ راست ریلیف ہوگا، ورنہ جماعت اسلامی کا اعلان کردہ مارچ سیاسی دباؤ بڑھا سکتا ہے۔
ماخذ: ڈان، 24 نیوز ایچ ڈی، اردو پوائنٹ (اے پی پی) — 27 اکتوبر 2026 کی رپورٹس۔