قومی اسمبلی: کشمیر قرارداد منظور، 7 بل پاس

0

قومی اسمبلی نے 27 اکتوبر کو یوم سیاہ کے موقع پر کشمیری عوام سے یکجہتی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی اور اسی اجلاس میں 7 نجی ارکان کے بل بھی اکثریت سے پاس کر دیے۔ اجلاس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے کی۔

کشمیر قرارداد میں کیا کہا گیا

قرارداد وفاقی وزیر امور کشمیر، گلگت بلتستان و ریاستی و سرحدی امور انجینئر امیر مقام اور کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رانا قاسم نون نے مشترکہ طور پر پیش کی۔ قرارداد میں یاد دلایا گیا کہ 27 اکتوبر 1947 کو سری نگر میں بھارتی افواج کے اترنے سے کشمیری عوام کی تاریخ کا ایک تاریک باب شروع ہوا۔
ایوان نے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی توثیق کی جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں درج ہے۔ قرارداد میں مقبوضہ کشمیر میں جاری مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی گئی، جن میں ماورائے عدالت قتل، من مانی گرفتاریاں، جبری گمشدگیاں، حراستی تشدد، املاک کی تباہی و ضبطگی اور سیاسی اظہار پر پابندیاں شامل ہیں۔
قرارداد میں 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات اور اس کے بعد کی کارروائیوں کو مسترد کیا گیا اور کہا گیا کہ ان سے علاقے کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت اور آبادیاتی ساخت تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ ایوان نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے، قید کشمیری رہنماؤں کو رہا کرے اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں و آزاد مبصرین کو بلا رکاوٹ رسائی دے۔

امیر مقام کا خطاب

اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ بھارت تقریباً 80 برس سے کشمیری عوام پر ظلم کر رہا ہے اور ہزاروں افراد شہید ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق تقریباً 7 ہزار کشمیری قید میں مارے گئے، لیکن کشمیری اپنے مؤقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔
یوم سیاہ کے موقع پر اسلام آباد میں کشمیریوں سے یکجہتی کی تقریب میں بھی ہزاروں شہریوں، سول سوسائٹی کے ارکان اور طلبہ نے شرکت کی۔
مزید پڑھیں: یوم سیاہ پر بلوچستان میں خاموشی اور یکجہتی کی تفصیل یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=2107
قومی اسمبلی کی کارروائی میں ایل پی جی قیمتوں پر بحث یہاں دیکھیں: https://niazitvnews.com/?p=2190

پاس ہونے والے 7 بل

ایوان نے شق وار غور کے بعد اکثریت سے یہ 7 نجی ارکان کے بل منظور کیے: پاکستان کونسل فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (ترمیمی) بل 2025، کارپوریٹ سوشل ریسپانسیبلٹی بل 2026، قانون شہادت (ترمیمی) بل 2026، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری سینئر سٹیزنز (ترمیمی) بل 2025، ضابطہ فوجداری (ترمیمی) بل 2024 (شیڈول دوم)، نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ (ترمیمی) بل 2025 اور فوجداری قانون (ترمیمی) بل 2025۔

کمیٹیوں کو بھیجے گئے 6 بل

چھ مزید بل متعلقہ کمیٹیوں کو مزید غور کے لیے بھیج دیے گئے۔ ان میں فیکٹریز (ترمیمی) بل 2025، انسداد عصمت دری (تحقیقات و ٹرائل) (ترمیمی) بل 2024، اسلام آباد رینٹ ریسٹرکشن (ترمیمی) بل 2025، نیشنل ہائی ویز سیفٹی (ترمیمی) بل 2025، ادائیگی اجرت (ترمیمی) بل 2025 اور فوجداری قوانین (ترمیمی) بل 2025 شامل ہیں۔

اجلاس کی دیگر کارروائی

اجلاس میں صحافیوں نے نجی میڈیا اداروں کی طرف سے تنخواہوں کی بروقت عدم ادائیگی پر احتجاج کیا، پریس گیلری خالی کر دی اور اجلاس کی کوریج کا بائیکاٹ کیا۔ ایم کیو ایم پاکستان کے رکن سید امین الحق نے کراچی میں کے الیکٹرک کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا، جسے قائمہ کمیٹی برائے توانائی کو بھیج دیا گیا۔ سود کے خاتمے سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس بھی اجلاس میں زیر بحث آیا۔
ماخذ: اردو پوائنٹ (اے پی پی)، اسلام آباد پوسٹ، دنیا نیوز — 27 اکتوبر 2026 کی رپورٹس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *