اسٹیٹ بینک کے ذخائر 21.52 ارب ڈالر ہو گئے، مسلسل دوسرا ہفتہ اضافہ

0

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 23 اکتوبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے میں 33 ملین ڈالر بڑھ کر 21.52 ارب ڈالر ہو گئے ہیں۔ مرکزی بینک کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ ہفتہ وار اعداد کے مطابق اسٹیٹ بینک کے ذخائر 21,521.7 ملین ڈالر تک پہنچ گئے، جبکہ ایک ہفتہ قبل یہ 21,488.6 ملین ڈالر تھے۔ یہ مسلسل دوسرا ہفتہ وار اضافہ ہے، اس سے پہلے 16 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں ذخائر میں 19 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا تھا۔

مجموعی ذخائر میں کمی کیوں؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر بڑھنے کے باوجود ملک کے مجموعی مائع زرمبادلہ ذخائر میں کمی آئی۔ مجموعی ذخائر 26,833 ملین ڈالر سے کم ہو کر 26,754.2 ملین ڈالر رہ گئے، یعنی 78.8 ملین ڈالر کی کمی۔ اس کی وجہ تجارتی بینکوں کے ذخائر میں کمی ہے، جو 5,344.4 ملین ڈالر سے کم ہو کر 5,232.5 ملین ڈالر ہو گئے، یعنی 111.9 ملین ڈالر کی کمی۔

ماہرین کے مطابق اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافے کی ایک وجہ مرکزی بینک کی جانب سے انٹربینک مارکیٹ سے ڈالر کی خریداری ہے۔ رپورٹوں کے مطابق اسٹیٹ بینک نے جولائی میں انٹربینک مارکیٹ سے 863 ملین ڈالر خریدے، جو جون کے 841 ملین ڈالر سے زیادہ ہے۔ اگست 2025 سے جولائی 2026 کے بارہ مہینوں میں مرکزی بینک کی مداخلت کا مجموعی حجم 8.78 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ ان خریداریوں کا مقصد ذخائر بنانا اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کی تیاری ہے۔

ایک سال میں کتنا اضافہ؟

ایک سال کے دوران اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق مرکزی بینک کے ذخائر میں تقریباً 7.05 ارب ڈالر، یعنی 48.7 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ مالی سال کے دوران اب تک ذخائر میں 3.05 ارب ڈالر، یعنی 16.52 فیصد کا اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے پہلے ہی توقع ظاہر کی ہے کہ دسمبر 2026 کے آخر تک ذخائر 23 ارب ڈالر اور جون 2027 کے آخر تک 25 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔ مرکزی بینک کے اندازے کے مطابق موجودہ ذخائر تقریباً تین مہینوں کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔

ترسیلات زر اور کرنٹ اکاؤنٹ

اسٹیٹ بینک نے رواں مالی سال کے لیے ترسیلات زر کی پیش گوئی بھی بڑھا دی ہے، جو 44 ارب ڈالر سے بڑھ کر 45 ارب ڈالر کر دی گئی ہے۔ مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ مانیٹری پالیسی بیان کے مطابق مالی سال 2026-27 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد کے پہلے سے طے شدہ دائرے میں رہنے کی توقع ہے۔ صحت مند ترسیلات زر اور مرکزی بینک کی جانب سے زرمبادلہ کی خریداری کو ذخائر میں اضافے کی حمایت کرنے والے عوامل قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ ذخائر میں ہفتہ وار اتار چڑھاؤ معمول کی بات ہے اور یہ قرضوں کی ادائیگیوں، درآمدی ادائیگیوں اور مرکزی بینک کی مارکیٹ مداخلت سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے ایک ہفتے کا اضافہ طویل مدتی رجحان کا حتمی ثبوت نہیں، بلکہ اسٹیٹ بینک کا دسمبر تک 23 ارب ڈالر کا ہدف ہی اصل کسوٹی ہوگا۔

پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تازہ صورتحال یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=2740

امریکہ کی معیشت کی تازہ ترقی کی خبر یہاں ملاحظہ کریں: https://niazitvnews.com/?p=2744

ذرائع: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 29 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ ہفتہ وار اعداد اور ٹریبیون، دی نیوز اور پروپاکستانی کی رپورٹوں کے مطابق۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *