امریکا کا ایران کے جزیرہ قشم پر خفیہ حملہ

0

امریکا نے ایران کے جزیرہ قشم پر حملہ کیا ہے، جو آبنائے ہرمز کے دہانے پر واقع ہے۔ یہ حملہ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق پیر 2 نومبر کو کیا گیا اور یہ ان محدود حملوں کی تازہ ترین کڑی ہے جو امریکا نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران خفیہ طور پر ایران کے خلاف کیے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ان حملوں کو جان بوجھ کر خفیہ رکھا جا رہا ہے تاکہ بڑی جنگ کی بحالی کا اشارہ نہ جائے۔

قشم پر کیا ہوا

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی حکام نے بتایا کہ پیر کو قشم کے ارد گرد دھماکوں کی اطلاعات سوشل میڈیا پر بھی سامنے آئیں۔ ایک واقعے میں ایران کی پاسداران انقلاب نے امریکی لڑاکا طیارے پر زمین سے فضا میں مار کرنے والا میزائل داغا، جس کا امریکی طیارے نے اپنے دفاع میں جواب دیا۔ اسی روز ایک اور واقعے میں امریکی افواج نے قشم سے داغا گیا ایک ایرانی میزائل روک لیا جو تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنا رہا تھا۔

امریکی حکام نے ان حملوں کو دفاعی نوعیت کا قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا مقصد ایران کو آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملہ کرنے کی آزادی سے روکنا ہے۔ قشم آبنائے ہرمز کے منہ پر واقع ہے اور وہاں ایک بڑی زیر زمین میزائل تنصیب، ایک بحری اڈہ اور ایک بڑا پانی صاف کرنے والا پلانٹ موجود ہے۔ امریکا نے جنگ کے پہلے مرحلوں میں بھی اس جزیرے کو نشانہ بنایا تھا، اور حکام کے مطابق اس پر قبضے کی بات بھی زیر غور آ چکی ہے۔

ٹرمپ کا جنگ سے متعلق بیان اور پس منظر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ ہو چکی ہے اور امریکا نے اس میں کامیابی حاصل کی، اور ان کے بقول کئی مہینوں سے کوئی لڑائی نہیں ہو رہی۔ تاہم رپورٹ کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ امریکا گزشتہ کئی ہفتوں سے ایران کے خلاف چھوٹے پیمانے کے حملے جاری رکھے ہوئے ہے، جن کا عوامی اعلان نہیں کیا گیا۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران کے خلاف مکمل جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے، تاہم پیر کو جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ انتخابات کے بعد ایران پر حملہ کرنے پر غور کر رہے ہیں، تو ان کا جواب “نہیں” تھا — جبکہ انتظامیہ کے حکام کے مطابق صدر اب بھی تمام آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے گزشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کو بریفنگ دی تھی، اور رپورٹ کے مطابق سینٹرل کمانڈ نے خطے میں مزید میزائل دفاع اور گولہ بارود منتقل کر کے وسیع تر حملوں کی تیاری کر رکھی ہے۔

امن مذاکرات اور آگے کیا ہوگا

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا اور ایران کے مذاکرات کار امن معاہدے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو تہران میں کہا کہ معاہدے کے حوالے سے “گیند امریکا کے کورٹ میں ہے”۔ دوسری جانب رپورٹ کے مطابق امریکا نے خلیجی ممالک کو پہلے ہی خبردار کر رکھا ہے کہ انتخابات کے فوراً بعد ایک مختصر اور شدید آپریشن کے لیے تیار رہیں۔

آبنائے ہرمز اور امریکا ایران کشیدگی پر ہماری گزشتہ رپورٹس میں امریکا ایران مذاکرات میں پیش رفت اور حوثی حملوں کے بعد برطانیہ کے ٹائفین لڑاکا طیاروں کی سعودی گشت کی خبریں شامل ہیں۔ آنے والے دنوں میں امریکی مڈٹرم انتخابات کے نتائج اور ایران سے متعلق امریکی فیصلے خطے کی صورتحال کا رخ طے کریں گے۔

ماخذ: وال اسٹریٹ جرنل اور نیویارک پوسٹ کی 2-3 نومبر 2026 کی رپورٹس کی بنیاد پر؛ حملے کی تفصیلات امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کی گئی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *