یوکرین امدادی مرکز پر حملہ، 26 افراد جاں بحق

0

یوکرین کے جنوبی علاقے زاپوریژیا میں ایک امدادی مرکز پر روسی فضائی حملوں میں کم از کم 26 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب عام شہری ہفتہ وار انسانی امداد لینے کے لیے وہاں جمع ہوئے تھے۔ جاں بحق ہونے والوں میں چار پولیس اہلکار اور دو امدادی کارکن بھی شامل ہیں، جبکہ پانچ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

کومیشوواکھا گاؤں میں کیا ہوا

رپورٹس کے مطابق حملہ زاپوریژیا کے گاؤں کومیشوواکھا میں ہوا، جہاں ہر پیر کو انسانی امداد تقسیم کی جاتی تھی۔ پہلا حملہ اس وقت کیا گیا جب لوگ امداد لینے پہنچے تھے، اور دوسرا حملہ اس پناہ گاہ پر کیا گیا جہاں لوگوں نے پناہ لی تھی۔ علاقائی حکام کے مطابق حملے میں نو یا اس سے زیادہ تین ہزار کلوگرام وزنی فضائی بم استعمال کیے گئے، اور ابتدائی طور پر 27 افراد کے لاپتہ ہونے کی بھی اطلاع ملی تھی۔

یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہر پیر کو وہاں انسانی امداد تقسیم کی جاتی تھی، اور روسی افواج نے پہلا حملہ لوگوں کی آمد کے وقت ہی کر دیا، پھر پناہ گاہ کو نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی جنگ بندی کے بعد ایک لمحہ ایسا آیا تھا جب امن کی طرف پیش رفت ممکن نظر آ رہی تھی، مگر ان ہلاکتوں سے روس نے اس کے برعکس پیغام دیا ہے کہ وہ مزید ہلاکتوں پر تلا ہوا ہے۔

جنگ بندی کے خاتمے کے بعد کشیدگی

یہ حملہ خیرسن کے قریبی علاقے اولیشکی سے شہریوں کے انخلا کے لیے طے شدہ چند روزہ مقامی جنگ بندی کے ختم ہونے کے فوراً بعد ہوا ہے۔ یہ جنگ بندی امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ کی ثالثی سے طے ہوئی تھی اور اس کی نگرانی یوکرین کے انسانی حقوق کمشنر دمیترو لوبینٹس اور ان کی روسی ہم منصب یانا لانتراتوا نے مشترکہ طور پر کی تھی۔ یوکرینی حکام کے مطابق جنگ بندی کے دوران کوئی خلاف ورزی رپورٹ نہیں ہوئی، تاہم ماسکو نے اس میں توسیع کی تجویز مسترد کر دی اور اس وقفے کو اپنی دفاعی لائنیں مضبوط کرنے کے لیے استعمال کیا۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ان دعوؤں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسی صورتحال میں یہ ایک معمول کی مشق ہے، اور فی الحال مزید انسانی وقفوں کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ اسی رات دونوں ممالک نے بڑی سائبر مداخلت کی بھی اطلاع دی — یوکرین کے فضائی حملے کی وارننگ کے نظام میں جھوٹی تابکاری کی وارننگز بھیجی گئیں، جبکہ روس کی ایمرجنسی نوٹیفکیشن ایپ بھی متاثر ہوئی۔

ابوظہبی مذاکرات سے پہلے بڑا دھچکا

یہ حملہ 10 اور 11 نومبر کو ابوظہبی میں امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی سفارتی بات چیت سے پہلے ہوا ہے، جس سے امن کی کوششوں کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ یوکرین میں جنگ کے دوران امدادی مراکز پر حملے بین الاقوامی سطح پر پہلے بھی مذمت کا باعث بنتے رہے ہیں، اور اس تازہ واقعے نے ایک بار پھر شہریوں کے تحفظ کا سوال اٹھا دیا ہے۔

یوکرین کی جنگ اور اس کے علاقائی اثرات پر ہماری گزشتہ رپورٹس بھی پڑھی جا سکتی ہیں، جن میں امریکا ایران مذاکرات میں پیش رفت اور امن مذاکرات کے بعد کیف پر روس کے میزائل حملے کی خبریں شامل ہیں۔ آنے والے دنوں میں ابوظہبی مذاکرات اور یوکرین کی صورتحال پر دنیا کی نظریں مرکوز رہیں گی۔

ماخذ: میتھربھومی انگلش اور ٹائمز آف انڈیا کی 3 نومبر 2026 کی رپورٹس (اے ایف پی) کی بنیاد پر۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *