امریکہ مڈٹرم: 5 کروڑ سے زائد ووٹ، ریکارڈ ٹرن آؤٹ
امریکہ میں 3 نومبر کو ہونے والے مڈٹرم انتخابات سے صرف تین دن قبل قبل از وقت
ووٹنگ نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ یونیورسٹی آف فلوریڈا کی الیکشن لیب کے اعداد و شمار کے مطابق ہفتے کی صبح تک 5 کروڑ 5 لاکھ سے زائد امریکی شہری اپنا ووٹ ڈال چکے تھے، جو 2022 کے مڈٹرم انتخابات میں ڈالے گئے قبل از وقت ووٹوں کی مجموعی تعداد سے تقریباً 50 لاکھ زیادہ ہے۔
کس ریاست میں کتنی ووٹنگ ہوئی
قبل از وقت ووٹنگ کی رفتار اس بار غیر معمولی رہی ہے، روزانہ تقریباً 40 سے 50 لاکھ ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ ٹیکساس اس دوڑ میں سب سے آگے نظر آتا ہے، جہاں 58 لاکھ سے زائد ووٹ ڈالے جا چکے ہیں، جو 2022 کے اسی مرحلے کے مقابلے میں تقریباً 17 لاکھ 50 ہزار زیادہ ہیں۔ شمالی کیرولائنا میں بھی قبل از وقت ووٹنگ 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی، جہاں قبل از وقت ووٹنگ کا مرحلہ ہفتے کو ختم ہو گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس رفتار سے مجموعی ٹرن آؤٹ 2020 اور 2018 کے انتخابات سے بھی آگے نکل سکتا ہے۔
پارٹیوں کا موازنہ: ڈیموکریٹس آگے
ان ریاستوں میں جہاں ووٹرز کی پارٹی وابستگی ریکارڈ کی جاتی ہے، رجسٹرڈ ڈیموکریٹس کے 10.7 ملین ووٹوں کے مقابلے میں رجسٹرڈ ریپبلکنز نے 7.8 ملین ووٹ ڈالے ہیں۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ اعداد و شمار نتیجے کی پیش گوئی نہیں کرتے، کیونکہ پارٹی رجسٹریشن یہ نہیں بتاتی کہ کسی ووٹر نے اصل میں کس امیدوار کو ووٹ دیا، اور ریپبلکن ووٹرز روایتی طور پر انتخاب کے دن زیادہ تعداد میں ووٹ ڈالتے ہیں۔ اس کے باوجود ڈیموکریٹس کی برتری نے ریپبلکن کیمپ میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
ٹیڈ کروز کی سخت وارننگ
ریپبلکن سینیٹر ٹیڈ کروز نے جمعے کو اپنے پوڈکاسٹ ورڈکٹ میں اپنی جماعت کو سخت خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر قدامت پسند ووٹرز بڑی تعداد میں باہر نہ نکلے تو ریپبلکنز کو بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے بقول، ہم ٹیکساس ہار سکتے ہیں۔ اگر انتخاب آج ختم ہو جائے اور صرف اب تک ڈالے گئے ووٹ گنے جائیں تو ریپبلکنز بری طرح ہار جائیں گے، یہ قریبی مقابلہ نہیں ہو گا۔ ہم ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں ہار جائیں گے، یہ ایک خونریز شکست ہو گی۔ کروز نے یہ بھی کہا کہ ریپبلکن ٹکٹ ٹیکساس میں کمزور ہے اور اگر ووٹرز گھروں میں رہے تو 8 سے 10 قریبی سینیٹ نشستیں بھی ہاتھ سے نکل سکتی ہیں۔ انہوں نے قدامت پسند، آزاد اور لبرٹیرین ووٹرز سے منگل کو ووٹ ڈالنے کی اپیل کی۔
داؤ پر کیا لگا ہے
یہ مڈٹرم انتخابات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کے باقی دو برسوں کے لیے ایوان نمائندگان اور سینیٹ کی تشکیل کا فیصلہ کریں گے۔ اس وقت سینیٹ میں ریپبلکنز کو 53 کے مقابلے میں 47 کی اکثریت حاصل ہے، اور وہ اس کنٹرول کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ قبل از وقت ووٹنگ کے ریکارڈ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ووٹرز اس بار غیر معمولی دلچسپی لے رہے ہیں، لیکن حتمی فیصلہ منگل کے روز ہونے والی ووٹنگ کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
مزید پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3077
مزید پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3047
ماخذ: ٹائمز آف انڈیا، جرنل آرٹا اور نیوز 18 کی یکم نومبر 2026 کی رپورٹس، یونیورسٹی آف فلوریڈا الیکشن لیب کے اعداد و شمار کی بنیاد پر۔