ٹرمپ: زیلنسکی کو جی 20 سربراہی اجلاس میں بلاؤں گا

0

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کو دسمبر میں فلوریڈا میں ہونے والے جی 20 سربراہی اجلاس میں مدعو کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ٹرمپ نے ہفتے کو فلوریڈا میں اپنے مار اے لاگو اسٹیٹ میں صحافیوں سے گفتگو میں زیلنسکی کو بلانے کے سوال پر جواب دیا: “جی ہاں، خوشی سے۔ کوئی مسئلہ نہیں۔” یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن نے پہلے ہی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو اسی اجلاس میں شرکت کی دعوت دے رکھی ہے۔

جی 20 اجلاس کب اور کہاں ہو گا

جی 20 رہنماؤں کا سربراہی اجلاس 14 اور 15 دسمبر 2026 کو میامی میں ٹرمپ نیشنل ڈورل ریزورٹ میں منعقد ہو گا۔ امریکہ نے ستمبر 2026 میں پیوٹن کو شرکت کی دعوت دی تھی، جس پر مغربی اتحادیوں میں بحث چھڑ گئی تھی کیونکہ یوکرین میں جنگ جاری ہے۔ یوکرین جی 20 کا رکن نہیں ہے، لیکن اس کے نمائندے ماضی میں مدعو مہمانوں کے طور پر اجلاسوں میں شریک ہو چکے ہیں۔ زیلنسکی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ جی 20 فارمیٹ میں پیوٹن سے ملنے کے لیے تیار ہیں، اور ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ٹرمپ سے ملاقات میں بھی انہوں نے یہی آمادگی ظاہر کی تھی۔

ٹرمپ کا دعویٰ: معاہدہ بہت قریب ہے

ٹرمپ نے اسی گفتگو میں روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے امکان پر بھی غیر معمولی امید ظاہر کی۔ ان کے بقول، “مجھے لگتا ہے کہ ہم معاہدے کے بہت قریب ہیں، اور میں نے یہ بات پہلے کبھی نہیں کہی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان زبردست نفرت تھی، لیکن مجھے لگتا ہے کہ اس معاملے کو حل کرنے کا بہت اچھا موقع ہے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ اجلاس سے پہلے ہی معاہدہ طے پانے کا قوی امکان ہے۔ امریکی میڈیا دی اٹلانٹک نے اکتوبر میں رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ کا مثالی منظرنامہ یہ ہے کہ زیلنسکی اور پیوٹن جی 20 اجلاس کے دوران امن معاہدے پر دستخط کریں، تاہم یہ رپورٹ ذرائع پر مبنی تھی اور اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

روبیو کا محتاط موقف

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد زیادہ محتاط لہجہ اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ زیلنسکی کو بلانے کا فیصلہ صدر ٹرمپ کو کرنا ہے، اور وہ اس امکان کو مسترد نہیں کرتے، خاص طور پر اگر اس سے کوئی مثبت نتیجہ نکل سکے، لیکن اس وقت کوئی اعلان نہیں کیا جا رہا۔ روبیو نے یہ بھی واضح کیا کہ روس یوکرین جنگ “مذاکراتی تصفیے کے دہانے پر نہیں ہے” اور یہ کہنا مشکل ہے کہ مذاکرات کے ذریعے امن ممکن بھی ہے یا نہیں۔ ریڈیو فری یورپ کی ایک رپورٹ کے مطابق روبیو کا ماننا ہے کہ پیوٹن 2027 کے موسم بہار سے پہلے کسی مذاکراتی تصفیے پر راضی نہیں ہوں گے، تاہم یہ دعویٰ تین یورپی عہدیداروں کے حوالے سے کیا گیا ہے۔

پیوٹن کی شرکت اب بھی غیر یقینی

پیوٹن کی میامی اجلاس میں ذاتی شرکت بھی ابھی طے نہیں ہے۔ کریملن کا کہنا ہے کہ اس کا فیصلہ نومبر میں شینزین میں ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون کے اجلاس کے موقع پر ٹرمپ، پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع سہ فریقی ملاقات کے نتائج پر منحصر ہو گا۔ پیوٹن نے 2019 کے بعد سے کسی جی 20 سربراہی اجلاس میں ذاتی طور پر شرکت نہیں کی ہے۔ یوں دسمبر کا اجلاس نہ صرف عالمی معیشت بلکہ یوکرین جنگ کے مستقبل کے حوالے سے بھی اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، اگر زیلنسکی اور پیوٹن دونوں میامی میں ایک ہی چھت تلے آ جائیں۔

مزید پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3073
مزید پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3077

ماخذ: اے نیوز، یو این این، دی نیو وائس آف یوکرین، کیئو پوسٹ اور ویتنام ڈاٹ وی این کی یکم نومبر 2026 کی رپورٹس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *