امریکہ کا انتباہ: ایران قتل کی سازشوں میں مصروف

0

جنوبی کوریا کے اخبار چوسن بز کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس برادری نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی جانب سے مشرق وسطیٰ اور دنیا کے دیگر حصوں میں امریکی سرکاری اہلکاروں اور شہریوں کو قتل کرنے کی خفیہ کارروائیاں انتہائی آگے بڑھ چکی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ انتباہ 23 اکتوبر کو ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس جے کلیٹن کی جانب سے وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر مارکو روبیو کو بھیجے گئے داخلی میمو میں دیا گیا، جس کی نقل سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کو بھی بھیجی گئی۔

میمو میں کیا کہا گیا؟

چوسن بز کے مطابق، جس نے اپنی خبر میں وال اسٹریٹ جرنل، فنانشل ٹائمز اور روئٹرز کا حوالہ دیا ہے، کلیٹن نے میمو میں لکھا کہ مختلف ذرائع سے حاصل شدہ انٹیلی جنس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے امریکی سرکاری اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوششیں نمایاں طور پر تیز کر دی ہیں۔ میمو کے مطابق امریکی شہریوں کو نشانہ بنانے والے ایران کے مہلک قتل کی سازشیں مشرق وسطیٰ اور بعض دیگر ممالک میں “نمایاں طور پر آگے بڑھے ہوئے مرحلے” تک پہنچ چکی ہیں۔ یہ رپورٹ ایک انٹیلی جنس انتباہ ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی مخصوص حملے کی تصدیق ہو چکی ہے، اور اس خبر میں ایران کے ردعمل کا ذکر نہیں کیا گیا۔

امریکہ نے کیا اقدامات کیے؟

رپورٹ کے مطابق انٹیلی جنس ملتے ہی امریکی حکومت نے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے، مشرق وسطیٰ میں تعینات سفارتکاروں اور فوجیوں کا فوری انخلا کیا اور مختلف ممالک کے لیے سفری انتباہات کی سطح بڑھا دی۔ یہ اقدامات اس وقت سامنے آئے ہیں جب خطے میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے اور ایران پر نئی امریکی کارروائی کی خبروں پر بحث جاری ہے۔

کشیدگی کا پس منظر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار 25 اکتوبر کو کہا تھا کہ اس روز ایران پر کوئی حملہ نہیں ہوگا، تاہم انہوں نے مستقبل میں کارروائی کا امکان کھلا رکھا تھا اور معاہدے کی گنجائش کا بھی ذکر کیا تھا۔ دوسری جانب ایران نے کہا ہے کہ نئی کارروائی سے اس کی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی۔ امریکہ کی جانب سے ایران پر ممکنہ بڑی کارروائی کی تیاری کی خبر یہاں (https://niazitvnews.com/?p=2063) پڑھی جا سکتی ہے، جبکہ تہران میں ہونے والے علاقائی مذاکرات کی تفصیل یہاں (https://niazitvnews.com/?p=2030) موجود ہے۔
نوٹ: اس خبر میں قتل کی سازشوں سے متعلق تمام دعوے چوسن بز کی رپورٹ اور اس میں حوالہ دیے گئے مغربی اخبارات سے منسوب ہیں، آزادانہ طور پر ان کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
ذرائع: چوسن بز (وال اسٹریٹ جرنل، فنانشل ٹائمز اور روئٹرز کے حوالے سے) اور گلف نیوز کی 26 اکتوبر 2026 کی رپورٹس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *