انگور اڈا: پاکستان نے افغان دعوے مسترد کر دیے

0

پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے انگور اڈا سرحدی واقعے پر افغانستان کی وزارت دفاع کا موقف مسترد کرتے ہوئے اسے “جھوٹ کی تیاری” قرار دے دیا ہے۔ وزارت نے بدھ 28 اکتوبر کو جاری کردہ فیکٹ چیک بیان میں کہا ہے کہ افغان فورسز نے ہی پاکستانی جانب نہتے شہریوں پر بلااشتعال فائرنگ اور مارٹر گولہ باری شروع کی تھی۔ یہ بیان دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی کشیدگی میں ایک نیا موڑ ہے، کیونکہ کابل نے اس سے پہلے پاکستان پر پہل کرنے کا الزام لگایا تھا۔

پاکستان کا موقف کیا ہے

وزارت اطلاعات کے فیکٹ چیک اکاؤنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ افغان طالبان حکومت کا انگور اڈا واقعے پر تازہ ترین دعویٰ ایک بار پھر ان کے “دھوکے باز کردار” کی تصدیق کرتا ہے۔ وزارت کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ افغان فورسز نے پاکستانی جانب نہتے شہریوں پر بلااشتعال فائرنگ اور مارٹر گولہ باری کی۔ وزارت نے یہ بھی الزام لگایا کہ یہ کارروائی بھارت کے اشارے پر اور اس کے “پراکسی آقاؤں” کی ہدایات کے مطابق کی گئی۔ وزارت کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فوری، مؤثر اور غیر متناسب جواب دیا، جس سے افغان فورسز کی بندوقیں خاموش ہو گئیں اور ان کی سات چوکیاں تباہ ہو گئیں۔ وزارت کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ افغان جانب کو بھاری جانی اور مادی نقصان پہنچا۔

کابل کا دعویٰ کیا تھا

افغانستان کی وزارت دفاع نے اس سے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی فوجیوں نے “بغیر کسی اشتعال یا جواز” کے ڈرون حملوں کے ذریعے پکتیکا صوبے میں انگور اڈا بازار اور کمشنر کے دفتر کو نشانہ بنایا۔ کابل کے مطابق اس کے بعد افغان فورسز نے قریبی پاکستانی فوجی اڈے اور چوکیوں پر جوابی حملے کیے۔ افغان وزارت دفاع کے ترجمان نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی اڈے پر جوابی کارروائی میں کئی پاکستانی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے۔ تاہم خبر رساں ادارے رائٹرز نے لکھا تھا کہ وہ کسی بھی جانب کے دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔ دونوں جانب کے دعوے ایک دوسرے سے متضاد ہیں، اس لیے اس خبر میں دونوں موقف الگ الگ اور منسوب کر کے پیش کیے جا رہے ہیں۔

واقعہ 27 اکتوبر کو کیا ہوا

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 27 اکتوبر کو لوئر جنوبی وزیرستان کے انگور اڈا علاقے میں افغان جانب سے فائرنگ اور مارٹر گولہ باری ہوئی۔ ایک مارٹر گولہ آبادی والے علاقے میں ایک گھر پر گرا، جس سے ایک شہری جاں بحق اور ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہو گئے۔ جنوبی وزیرستان لوئر کے ڈپٹی کمشنر نے بھی سوشل میڈیا پر بتایا تھا کہ افغان طالبان نے شہری گھروں اور بازار پر فائرنگ کی اور پاکستانی فورسز “مؤثر اور بھرپور” جواب دے رہی ہیں۔ خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے بھی افغان فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اپنے شہریوں اور قومی خودمختاری کا بھرپور دفاع کرے گا۔

سرحدی فائرنگ کی پہلی خبر یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=2387

جوابی کارروائی میں کیا ہوا

وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں افغان طالبان کی سات چوکیاں تباہ ہوئیں اور انہیں بھاری نقصان پہنچا۔ سیکیورٹی ذرائع نے اس سے پہلے بھی بتایا تھا کہ جوابی کارروائی میں افغان طالبان کی متعدد چوکیاں تباہ کی گئیں اور حملہ آور فرار ہونے پر مجبور ہوئے۔ انگور اڈا پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک اہم تجارتی گزرگاہ اور عوامی آمد و رفت کا راستہ ہے، اس لیے یہاں کشیدگی کا اثر تجارت اور مقامی آبادی دونوں پر پڑتا ہے۔ جیو نیوز کے مطابق اسی علاقے میں اپریل کے آخر میں بھی سرحد پار سے مارٹر گولہ باری میں شہری زخمی اور گھر تباہ ہوئے تھے۔

انگور اڈا جھڑپ کی تفصیلی خبر یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=2327

پس منظر: کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات گزشتہ مہینوں میں کشیدہ رہے ہیں۔ اسلام آباد کا الزام ہے کہ کابل ان عسکریت پسندوں کو پناہ دیتا ہے جو سرحد پار سے حملے کرتے ہیں، جبکہ طالبان حکومت اس الزام کو مسترد کرتی ہے اور کہتی ہے کہ عسکریت پسندی پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے۔ رائٹرز کے مطابق اس سال دونوں ملکوں کے درمیان تنازع میں سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ کچھ دن پہلے افغان طالبان نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ مسائل سفارت کاری کے ذریعے حل ہو سکتے ہیں، مگر انگور اڈا واقعے کے بعد دونوں جانب سے سخت بیانات نے سفارتی حل کی امیدوں کو دھچکا پہنچایا ہے۔ سرحدی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو اس وقت سب سے زیادہ تشویش ہے، کیونکہ ہر جھڑپ میں ان کے گھر اور بازار خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔

ذرائع: ڈان، دنیا نیوز، جیو نیوز اور آج نیوز کے مطابق وزارت اطلاعات کا فیکٹ چیک بیان، 28 اکتوبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *