اکتوبر میں دہشت گرد حملوں میں 37 فیصد کمی، اغوا بڑھ گئے

0

پاکستان میں اکتوبر 2026 کے دوران دہشت گرد حملوں میں 37 فیصد کمی آئی ہے، جس کے دوران 143 حملے ریکارڈ ہوئے جب کہ ستمبر میں یہ تعداد 226 تھی۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (پکس) کے اعداد کے مطابق حملوں میں اموات 57 فیصد کم ہو کر 111 اور زخمیوں کی تعداد 71 فیصد کم ہو کر 69 رہ گئی۔ تاہم اس بہتری کے باوجود اغوا کے واقعات 12 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے، جو سیکیورٹی صورتحال کا سب سے تشویشناک پہلو قرار دیا گیا ہے۔

مجموعی صورتحال میں بہتری

پکس کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر میں دہشت گردی میں کمی نے مسلسل دو ماہ سے جاری اضافے کے رجحان کو پلٹ دیا، جو ستمبر میں تشدد کی بلند سطح کے بعد ایک نمایاں بہتری ہے۔ حملوں اور سیکیورٹی فورسز کی انسداد دہشت گردی کارروائیوں کو ملا کر اکتوبر میں مجموعی طور پر 272 اموات اور 71 زخمی ہوئے۔ ان اموات میں 53 سیکیورٹی اہلکار، 45 شہری اور 5 امن کمیٹی ارکان شامل تھے، جب کہ 169 دہشت گرد مارے گئے۔ خودکش حملوں میں بھی نمایاں کمی آئی اور اکتوبر میں صرف ایک خودکش حملہ ریکارڈ ہوا، جب کہ ستمبر میں ایسے 3 حملے ہوئے تھے۔

بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں نمایاں فرق

بہتری سب سے زیادہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں نظر آئی۔ بلوچستان میں دہشت گرد حملے 46 فیصد کم ہو کر ستمبر کے 132 سے اکتوبر میں 71 رہ گئے۔ سابق فاٹا کے اضلاع کو نکال کر خیبر پختونخوا کے مرکزی علاقوں میں حملے 31 فیصد کم ہوئے، جہاں ستمبر کے 58 کے مقابلے میں اکتوبر میں 40 حملے ہوئے۔ ان حملوں میں اموات 90 سے کم ہو کر 38 رہ گئیں، یعنی تقریباً 58 فیصد کمی، جب کہ زخمیوں کی تعداد 165 سے گھٹ کر 19 رہ گئی، جو 88 فیصد کمی ہے۔ سندھ میں اکتوبر کے دوران کوئی حملہ ریکارڈ نہیں ہوا، جب کہ پنجاب میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔

اغوا کا بڑھتا ہوا خطرہ

رپورٹ کے مطابق بہتری کے باوجود اغوا ایک سنگین سیکیورٹی چیلنج بن کر ابھرا ہے، خاص طور پر بلوچستان میں۔ اکتوبر میں ملک بھر میں 88 افراد کو اغوا کیا گیا، جو ستمبر کے 72 کے مقابلے میں 22 فیصد زیادہ اور گزشتہ 12 ماہ کی بلند ترین تعداد ہے۔ ان میں سے تقریباً 80 فیصد، یعنی تقریباً 70 افراد، بلوچستان میں اغوا ہوئے۔ ماہرین کے مطابق اغوا میں اضافہ اس بات کی علامت ہو سکتا ہے کہ شدت پسند گروپ اپنی حکمت عملی بدل رہے ہیں اور براہ راست حملوں کی بجائے اغوا جیسے ہتھکنڈوں کی طرف جا رہے ہیں۔

سال بھر کا تناظر ابھی تشویشناک

اکتوبر کی بہتری کے باوجود سال 2026 کے پہلے 10 ماہ کا مجموعی منظر ابھی تشویشناک ہے۔ پکس کے مطابق جنوری سے اکتوبر تک ملک میں 1,376 دہشت گرد حملے ہوئے، جن میں سیکیورٹی کارروائیوں سمیت مجموعی طور پر 3,902 اموات ہوئیں، جن میں 645 سیکیورٹی اہلکار، 65 امن کمیٹی ارکان، 595 شہری اور 2,597 دہشت گرد شامل تھے۔ یہ اعداد گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اکتوبر کی کمی ایک عارضی وقفہ بھی ہو سکتی ہے، نہ کہ مستقل بہتری۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل امتحان آنے والے مہینوں میں ہوگا کہ آیا یہ کمی برقرار رہتی ہے یا تشدد دوبارہ بڑھتا ہے۔

مزید پڑھیں: پنجگور میں انسانی اسمگلنگ ناکام، 173 افغان گرفتار https://niazitvnews.com/?p=3244 اور بنوں میں پولیس وین کے قریب دھماکے https://niazitvnews.com/?p=3342

ماخذ: پکس کی رپورٹ پر ڈان (2 نومبر 2026)، ایکسپریس ٹریبیون (2 نومبر 2026)، پاکستان ٹوڈے (2 نومبر 2026) اور عرب نیوز کی خبروں کی بنیاد پر۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *