ایران کی امریکا کو وارننگ: ‘قیامت خیز جنگ’ ہوگی
تہران — ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کوئی نیا حملہ ہوا تو اس کا جواب ‘قیامت خیز جنگ’ کی صورت میں دیا جائے گا اور امریکی جنگی جہازوں کو دوبارہ خلیج فارس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ سخت انتباہ ہفتے 24 اکتوبر کو ایرانی فوجی قیادت کی جانب سے چند گھنٹوں کے وقفے سے جاری کیے گئے دو الگ الگ بیانات میں سامنے آیا، ایسے وقت میں جب اطلاعات ہیں کہ واشنگٹن فضائی حملے دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہا ہے۔
تہران سے کیا کہا گیا؟
اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے سرکاری ٹی وی پریس ٹی وی کے حوالے سے کہا کہ ملک کی علاقائی سالمیت اور قومی و مذہبی شناخت کا تحفظ آج ایرانی قوم کی اہم ترین ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ ان کے مطابق اگر ایران پر حملہ ہوا تو وہ ‘اس قیامت خیز جنگ میں مکمل فتح حاصل کرے گا’ اور یہ جنگ خطے کے دیگر ممالک کی قسمت کا فیصلہ کرے گی — جس سے مراد خلیج فارس کی بادشاہتیں ہیں۔ اسی روز ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا کہ امریکی بحری افواج اب خلیج فارس کے پانیوں تک پہنچنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی فوج کے خلیج فارس میں داخلے کا خواب صرف خواب ہی رکھنا ہوگا اور ‘ہم کسی بھی صورت اور کسی بھی وقت زنگ آلود امریکی جنگی جہازوں کو خلیج فارس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے’۔
یہ انتباہ کیوں آیا؟
یہ بیانات ایسے وقت میں آئے ہیں جب واشنگٹن کے ترکی میں سفیر ٹام بیرک نے کہا تھا کہ اس ہفتے کے آخر میں امریکا کی جانب سے ایران پر حملہ ‘بالکل’ ممکن ہے۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے فلوریڈا میں ایک ریلی کے دوران خبردار کیا تھا کہ اگر سفارتی معاہدہ نہ ہوا تو امریکا ‘ایک اور چھوٹی ایپک فیوری’ کارروائی کر سکتا ہے۔ دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ 28 فروری 2026 کو شروع ہوئی تھی اور اس کے پہلے اور دوسرے مرحلے میں ایران نے خلیجی ریاستوں میں امریکی اڈوں اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنا کر جواب دیا تھا۔ ایرانی قیادت کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اگر ایران کی فوجی صلاحیت واقعی ختم ہو چکی ہے تو امریکی جنگی جہاز آبنائے ہرمز یا ایران کی سمندری و زمینی سرحدوں کے قریب آنے کی جرات کیوں نہیں کر رہے۔
خطے اور پاکستان پر اثر
آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ ہے اور خلیج فارس میں کشیدگی کا براہ راست اثر عالمی تیل کی قیمتوں اور جہاز رانی پر پڑتا ہے۔ پاکستان اس تنازع میں ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے اور اس سے قبل ایران پاکستان کے ذریعے امریکا کو آبنائے ہرمز کھولنے کی پیشکش کی خبروں کی تردید بھی کر چکا ہے، جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان امریکا پر عبوری معاہدے کی ناکامی کا الزام لگا چکے ہیں۔ خطے کے مبصرین کے مطابق فریقین کی جانب سے سخت بیانات کے باوجود سفارتی راستہ ابھی بند نہیں ہوا، تاہم کسی بھی نئی فوجی کارروائی سے خلیجی ریاستوں میں کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع: دی ہندو، پریس ٹی وی، نیوز بائٹس۔
مزید پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=1812
مزید پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=1778