ایمان مزاری کی سزا پر وکلاء اور صحافیوں کا شدید ردعمل
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کی جانب سے انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو سزا سنائے جانے کے بعد وکلاء، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ناقدین نے فیصلے کو “مضحکہ خیز” اور “جعلی مقدمہ” قرار دیا، جبکہ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق نے منصفانہ ٹرائل اور سزا کی شدت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
عدالت نے 29 اکتوبر 2026 کو جوڑے کو سیکیورٹی خلاف ورزی کے مقدمے میں سزا سنائی تھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت 10 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا، جبکہ سرکاری ملازمین کو روکنے اور ان پر حملے کے الزامات پر بالترتیب دو سال اور ایک سال کی سزائیں بھی سنائی گئیں۔ رپورٹس کے مطابق یہ تمام سزائیں بیک وقت چلیں گی، اس لیے مجموعی قید 10 سال بنتی ہے۔
وکلاء اور صحافیوں کا ردعمل
انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس کی قانونی مشیر ریما عمر نے سزاؤں کو “ظالمانہ اور انتقامی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ قانون اور عدالتی عمل کو ظلم و ستم کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ایمان اور ہادی کو “ضمیر کے قیدی” قرار دیا۔ وکیل رضا حسین نے فیصلے کو عدالتی نظام پر “داغ” قرار دیا اور کہا کہ قانون کی حکمرانی کے محافظ اسے بہادر انسانی حقوق کے وکلاء کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
صحافی آسمہ شیرازی نے فیصلے کو “قابل مذمت اور افسوسناک” کہا، جبکہ صحافی مریم نواز خان نے کہا کہ “جعلی اور خفیہ ٹرائل سے جعلی سزا ہی ملتی ہے”۔ ان کا کہنا تھا کہ جوڑے کو ان رکاوٹوں پر سزا دی گئی جنہیں ہٹانے سے وہ انکار کرتے ہیں۔ ماہر تعلیم ندا کرمانی نے فیصلے کو “بالکل مضحکہ خیز” قرار دیا اور کہا کہ جوڑا ایک “ظالم اور انتقامی ریاست” کے سامنے کھڑے ہونے کی قیمت چکا رہا ہے۔
صحافی ثاقب بشیر نے کہا کہ جوڑے کو شفاف ٹرائل کے بغیر سزا دی گئی، جبکہ سابق سینیٹر مشتاق احمد نے اسے “اختلافی آوازوں کا عدالتی قتل” قرار دیا۔ صحافی وینگاس نے کہا کہ انصاف کے لیے آواز اٹھانے والوں کو جیل ملتی ہے۔ دی نیوز کی رائے ایڈیٹر زیب النساء برکی نے سزا کو “مضحکہ خیز سے آگے” قرار دیا، جبکہ صحافی ضرار کھوکھر نے 10 سال کی سزا کی طوالت پر سوال اٹھایا۔
شیرین مزاری کا موقف
سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر شیرین مزاری نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں فیصلے کو قانون اور انصاف کا قتل قرار دیا۔ اردو پوائنٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ جج نے 13 سال کی سزا سنائی ہے، تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالتی حکم میں سزائیں بیک وقت چلنے کی وجہ سے مجموعی قید 10 سال ہے۔ شیرین مزاری کا کہنا تھا کہ استغاثہ ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا اور پولیس کے اپنے گواہوں نے بھی تسلیم کیا کہ کسی نے انہیں مارا یا حملہ نہیں کیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ جج نے اوپر سے ملنے والے حکم کو لفظ بہ لفظ سنا دیا اور جوڑے کو اپنے وکلاء سے ملنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایمان اور ہادی کسی سیاسی جماعت کے رکن نہیں بلکہ انسانی حقوق کے وکیل ہیں جو غریب اور مستحق لوگوں کی آواز اٹھاتے ہیں۔
انسانی حقوق کمیشن کی تشویش
قومی کمیشن برائے انسانی حقوق نے بھی فیصلے پر سنگین تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ منصفانہ ٹرائل، قانونی عمل اور مؤثر عدالتی چارہ جوئی کے حق کا مکمل تحفظ ہونا چاہیے۔ کمیشن نے سزاؤں کی شدت پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ اس سے تناسب اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے بارے میں خدشات پیدا ہوتے ہیں۔
کیس کا پس منظر
یہ مقدمہ اسلام آباد کے آبپارہ تھانے میں درج ہوا تھا۔ الزام تھا کہ اکتوبر 2024 میں ایک بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے دورے کے دوران جوڑے نے سیکیورٹی روٹ پر رکاوٹیں ہٹا کر ٹیم کی سیکیورٹی کو خطرے میں ڈالا۔ ایمان اور ہادی نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ مقدمہ ان کے انسانی حقوق کے کام کی وجہ سے ہراساں کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
جوڑے کے وکیل نے فیصلہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواستیں زیر التوا ہیں، اس لیے عدالت فیصلہ نہیں سنا سکتی۔ تاہم عدالت نے فیصلہ سنا دیا۔ ایمان مزاری کو لاپتا افراد اور اقلیتوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر بین الاقوامی سطح پر بھی پہچان حاصل ہے۔
مزید تفصیل کے لیے یہ بھی پڑھیں: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو 10 سال قید کی سزا اور ہیومن رائٹس واچ: ریو چھاپے میں 122 ہلاکتیں۔
ذرائع: ڈان، رائٹرز، اردو پوائنٹ، سنو نیوز، آئی اے این ایس — 29 اکتوبر 2026۔