دوہری شہریت: افسران کے خلاف کارروائی کی سمری وزیراعظم کو
اسلام آباد میں وفاقی حکومت نے دوہری شہریت کا اعلان جمع نہ کرانے والے سینئر سرکاری افسران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے اس سلسلے میں وزیراعظم آفس کو سمری ارسال کر دی ہے جس میں ان افسران کے خلاف کارروائی کی اجازت مانگی گئی ہے جنہوں نے اپنی اور اپنے اہل خانہ کی غیر ملکی شہریت سے متعلق لازمی حلف نامے جمع نہیں کرائے۔
سمری میں کیا کہا گیا
ذرائع کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے وزیراعظم سے اجازت طلب کی ہے کہ ان افسران کے خلاف کارروائی شروع کی جائے جو اعلان جمع کرانے میں ناکام رہے۔ منظوری ملنے کے بعد متعلقہ افسران کو شوکاز نوٹس جاری کیے جائیں گے۔ یہ کارروائی گریڈ 20، گریڈ 21 اور گریڈ 22 کے افسران پر مشتمل ہوگی۔
کتنے افسران نے اعلان جمع نہیں کرایا
اس مشق میں شامل 2,917 سینئر سرکاری افسران میں سے 62.5 فیصد نے اب تک اپنے حلف نامے جمع نہیں کرائے۔ جن افسران نے اعلان جمع کرائے ہیں، ان میں سے صرف 8.68 فیصد نے ظاہر کیا کہ وہ یا ان کے اہل خانہ غیر ملکی شہریت رکھتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اعلان جمع کرانے کا عمل ابھی بڑی حد تک نامکمل ہے۔
ممکنہ سزائیں کیا ہو سکتی ہیں
ذرائع کے مطابق جن افسران کے خلاف کارروائی ہوگی، انہیں ترقی سے محروم کیا جا سکتا ہے، انہیں جبری ریٹائر کیا جا سکتا ہے یا ملازمت سے برطرف بھی کیا جا سکتا ہے۔ حتمی کارروائی کا انحصار ہر کیس کے حقائق اور وزیراعظم کی منظوری پر ہوگا۔ متعلقہ افسران کا تعلق پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، پولیس سروس، سیکریٹریٹ گروپ اور آفس مینجمنٹ گروپ سے ہے۔
پس منظر: ایک ہفتے کی ڈیڈ لائن
یہ معاملہ اکتوبر کے آغاز سے چل رہا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے 2 اکتوبر کو جاری کردہ سرکلر میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، پولیس سروس، سیکریٹریٹ گروپ اور آفس مینجمنٹ گروپ کے افسران کو ہدایت کی تھی کہ وہ ایک ہفتے کے اندر اپنی اور اپنے زیر کفالت افراد کی غیر ملکی شہریت، غیر ملکی سفری دستاویزات اور غیر ملکی شہری سے شادی سے متعلق اعلان جمع کرائیں۔ اس سرکلر میں خبردار کیا گیا تھا کہ اعلان جمع نہ کرانا یا غلط اعلان دینا سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020 کے تحت بدعنوانی تصور ہوگا۔
اس سے قبل جولائی میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے نئے لازمی اعلان فارم جاری کیے تھے جن میں سرکاری ملازمین سے اپنی اور اپنے اہل خانہ کی غیر ملکی شہریت اور سفری دستاویزات کی تفصیلات مانگی گئی تھیں۔ غیر ملکی شہریت کے قواعد 2026 کے نفاذ کے بعد یہ عمل مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ اب نئی سمری سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت ان افسران کے خلاف عملی کارروائی کی طرف بڑھ رہی ہے جنہوں نے مقررہ وقت میں اعلان جمع نہیں کرایا۔
یہ بات واضح رہے کہ یہ کارروائی اعلان جمع نہ کرانے پر ہوگی، نہ کہ صرف دوہری شہریت رکھنے پر۔ جو افسران اپنا اعلان بروقت اور درست طریقے سے جمع کرا چکے ہیں، ان کے خلاف اس بنیاد پر کارروائی نہیں ہوگی۔
مزید تفصیل: فضل الرحمان: کے پی میں گورنر راج آئین کا غلط استعمال اور شرح سود 12 فیصد: کاروبار پر منفی اثرات کا خدشہ
ماخذ: 24 نیوز ایچ ڈی، ڈیلی ریپڈ نیوز، جیو نیوز — 29 اکتوبر 2026