بلوچستان: اے آئی حاضری پر 200 ملازمین برطرف

0

بلوچستان حکومت نے محکمہ صحت میں غیر حاضری کے خلاف کارروائی تیز کرتے ہوئے برطرف ملازمین کی مجموعی تعداد 200 تک پہنچا دی ہے۔ تازہ کارروائی میں 72 ڈاکٹرز کو فوری طور پر ملازمت سے برطرف کیا گیا ہے جن میں گریڈ 17 کے میڈیکل آفیسرز اور گریڈ 18 کے سینئر میڈیکل آفیسرز شامل ہیں۔ یہ فیصلہ صوبے میں پہلی بار متعارف کرائے گئے مصنوعی ذہانت پر مبنی حاضری نظام کی بنیاد پر کیا گیا۔

ڈان کی 31 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق سیکریٹری صحت بلوچستان کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ برطرفیاں بلوچستان ایمپلائز ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن ایکٹ 2011 کی دفعہ 4 بی 8 کے تحت غیر مجاز غیر حاضری پر فوری طور پر نافذ کی گئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے بھی 31 اکتوبر کو اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی سرکاری ملازم گھر بیٹھے تنخواہ نہیں لے سکے گا۔

اے آئی حاضری نظام کیسے کام کر رہا ہے

حکومت کے مطابق نیا اے آئی پر مبنی حاضری نظام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے لایا گیا ہے کہ طبی عملہ باقاعدگی سے ڈیوٹی پر حاضر ہو۔ اس سے پہلے بھی محکمہ صحت میں غیر حاضری کے خلاف کارروائیاں ہوتی رہی ہیں، تاہم اے آئی نظام کے بعد برطرفیوں کا سلسلہ تیز ہوا ہے اور اب مجموعی تعداد 200 تک پہنچ گئی ہے۔

وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کے مطابق برطرف ڈاکٹرز کو بار بار نوٹس جاری کیے گئے تھے کہ وہ ڈیوٹی پر رپورٹ کریں، لیکن انہوں نے جواب نہیں دیا۔ حکومت کا موقف ہے کہ صحت کی سہولتیں عوام کی دہلیز تک پہنچانا اس کا وعدہ ہے اور فرائض میں غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

41 کروڑ کی کٹوتی، 11 ہزار شوکاز

وزیر اعلیٰ کے مطابق غیر حاضری اور نظم و ضبط کی خلاف ورزیوں پر ملازمین کی تنخواہوں سے اب تک 41 کروڑ روپے کی کٹوتی کی جا چکی ہے۔ اس کے علاوہ غفلت اور فرائض میں کوتاہی پر 11 ہزار ملازمین کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں جبکہ 800 ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی جاری ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق محکمہ صحت کے ساتھ ساتھ محکمہ جیل خانہ جات نے بھی 30 ملازمین کو برطرف کیا ہے جن میں 20 وارڈن شامل ہیں۔ یہ کارروائی بھی طویل غیر حاضری اور فرائض میں غفلت کی بنیاد پر کی گئی۔

پس منظر: 72 ڈاکٹرز کی پہلی برطرفی

یہ تازہ کارروائی اس سلسلے کی اگلی کڑی ہے جس میں پہلے بھی 72 ڈاکٹرز کو برطرف کیا گیا تھا۔ اس وقت کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ برطرف ڈاکٹرز صوبے کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھتے تھے جن میں کوئٹہ، پشین، خضدار، سبی، تربت، گوادر اور قلعہ عبداللہ سمیت 22 اضلاع شامل تھے۔ حکومت نے اس وقت بھی واضح کیا تھا کہ غیر حاضری پر کارروائی آئندہ بھی جاری رہے گی، اور اب اے آئی نظام کے اعداد و شمار نے اس مہم کو مزید وسعت دے دی ہے۔

دوسری جانب ملک بھر میں ڈاکٹرز کی دو روزہ ہڑتال بھی یکم نومبر سے شروع ہو چکی ہے جس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ٹیکس اقدامات کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں صحت کے شعبے میں یہ بیک وقت برطرفیاں اور ہڑتال صوبے کے اسپتالوں کے لیے ایک مشکل صورتحال پیدا کر رہی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد سزا دینا نہیں بلکہ اسپتالوں میں عملے کی حاضری یقینی بنانا ہے تاکہ مریضوں کو بروقت علاج مل سکے۔ تاہم طبی حلقوں کی جانب سے اس سے پہلے اے آئی حاضری نظام پر تحفظات بھی سامنے آتے رہے ہیں، جن میں نظام کی تکنیکی خامیوں اور عملے کی مشکلات کا ذکر کیا گیا تھا۔

مزید تفصیل کے لیے ہماری گزشتہ رپورٹ بلوچستان میں 72 ڈاکٹرز کی برطرفی اور ملک گیر ڈاکٹروں کی ہڑتال بھی پڑھی جا سکتی ہے۔

ذرائع: ڈان، اے آر وائی نیوز اور ایکسپریس ٹریبیون کی 31 اکتوبر 2026 کی رپورٹس اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کا بیان۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *