بلوچستان میں زلزلے کے شدید جھٹکے — خضدار کے قریب زلزلہ، سندھ کے اضلاع تک محسوس کیے گئے
بلوچستان کے شہر خضدار کے قریب ہفتے کی صبح زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے، جن کی شدت مختلف عالمی ایجنسیوں کے مطابق 5.6 سے 5.9 کے درمیان بتائی گئی۔ زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 7 منٹ پر آیا اور اس کے جھٹکے بلوچستان کے ساتھ سندھ کے متعدد اضلاع تک محسوس کیے گئے۔
زلزلہ کب اور کہاں آیا؟
زلزلے کا مرکز خضدار سے تقریباً 48 کلومیٹر مغرب-شمال مغرب میں تھا۔ پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کے مطابق زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح 10:07 پر ریکارڈ کیا گیا (05:06:57 یو ٹی سی)۔ بھارتی نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی نے اس کا وقت 10:37 بھارتی وقت بتایا ہے۔
شدت کتنی تھی؟ — ایجنسیوں کے اعداد مختلف
زلزلے کی شدت کے حوالے سے ایجنسیوں کے اعداد و شمار میں اختلاف ہے: امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے مطابق شدت 5.7 اور گہرائی صرف 10 کلومیٹر تھی؛ پی ایم ڈی نے شدت 5.9 اور گہرائی 25 کلومیٹر بتائی؛ بھارتی این سی ایس کے مطابق شدت 5.8 جبکہ جرمن جی ایف زیڈ نے 5.6 ریکارڈ کی۔ اتنی کم گہرائی (10 کلومیٹر) کے زلزلے عموماً زیادہ شدت سے محسوس کیے جاتے ہیں۔
کہاں کہاں جھٹکے محسوس ہوئے
بلوچستان میں جھل مگسی، جعفرآباد اور نصیرآباد کے علاقوں میں جھٹکے محسوس کیے گئے، جبکہ سندھ میں سکھر، قمبر، شہدادکوٹ اور دادو اضلاع تک لوگوں نے زمین ہلتی محسوس کی۔ دو صوبوں تک پھیلے یہ جھٹکے زلزلے کی شدت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
نقصانات کی صورتحال
ابتدائی اطلاعات کے مطابق اب تک کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی — تاہم یہ ابتدائی اطلاعات ہیں اور حتمی صورتحال بعد میں واضح ہوگی۔ پی ایم ڈی کے نیشنل سیسمک مانیٹرنگ سینٹر کے ڈیوٹی سیسمولوجسٹ شفیق الرحمان کے مطابق سینٹر کے نیٹ ورک نے 5.9 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا (اکنامک ٹائمز کے حوالے سے)۔
پاکستان زلزلہ زدہ خطے میں کیوں ہے؟
پاکستان انڈین اور یوریشین ٹیکٹونک پلیٹوں کی سرحد پر واقع ہے اور اس کے پانچ سیسمک زونز ہیں، اسی لیے یہاں زلزلے معمول کی بات ہیں۔ 2005 کے تباہ کن زلزلے میں 74,000 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ رواں سال فروری میں بھی اسی بلوچستان بیلٹ میں 5.6 شدت کا زلزلہ آیا تھا (خضدار سے 86 کلومیٹر شمال مشرق، گہرائی 13 کلومیٹر) — واضح رہے کہ بعض خبروں میں 6:30 بجے/13 کلومیٹر/86 کلومیٹر شمال مشرق کے اعداد فروری کے اس زلزلے کے ہیں، آج کے نہیں۔
ذرائع: رائٹرز، دی ہندو، اکنامک ٹائمز، ٹائمز ناؤ (17 اکتوبر 2026)۔