تائیوان ایئرلائنز کو پاکستانی فضائی حدود دوبارہ مل گئیں
پاکستان نے تائیوان کی دو بڑی ایئرلائنز چائنا ایئرلائنز اور ایوا ایئر کو اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دے دی ہے۔ ڈان کی 29 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بدھ کو دونوں ایئرلائنز کے لیے 28 اکتوبر 2026 سے 27 مارچ 2027 تک کے اوور فلائٹ شیڈول جاری کیے۔ یہ فیصلہ اس تنازع کے بعد سامنے آیا جس میں وزیر دفاع خواجہ آصف کے ایک بیان کے بعد یہ خبریں آئی تھیں کہ پاکستان نے تائیوانی ایئرلائنز پر پابندی لگا دی ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق خواجہ آصف نے کہا تھا کہ پاکستان کی فضائی حدود صرف مین لینڈ چین کی ایئرلائنز کے لیے کھلی ہے، جسے ون چائنا پالیسی کے تحت بیان کیا گیا۔ تاہم بعد ازاں بلومبرگ نے اپنی رپورٹ اپ ڈیٹ کر کے بتایا کہ پاکستانی حکام نے تائیوانی کیریئرز کو اوور فلائٹ کی اجازت دے دی ہے۔ ڈان نے جن دستاویزات کا جائزہ لیا، ان کے مطابق دونوں ایئرلائنز کے شیڈول 27 مارچ 2027 تک جاری کیے گئے ہیں۔
پروازیں کیوں تبدیل ہوئی تھیں؟
فلائٹ ٹریکنگ کے اعداد و شمار کے مطابق چائنا ایئرلائنز اور ایوا ایئر نے 25 اکتوبر سے پاکستان کی فضائی حدود کا استعمال بند کر دیا تھا۔ اس کے بعد ایشیا اور یورپ کے درمیان کم از کم 12 پروازوں کو روس کے اوپر سے گزارا گیا، جبکہ کچھ پروازیں خلیج یا جنوبی ایشیا کے دیگر راستوں سے گئیں۔ طویل راستوں سے سفر کا وقت اور ایندھن کی لاگت دونوں بڑھ جاتے ہیں، اس لیے ایئرلائنز کے لیے فضائی حدود کی بندش ایک بڑا آپریشنل مسئلہ بن جاتی ہے۔
تائیوان کی وزارت خارجہ کے نائب وزیر چن منگ چی نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ پاکستان نے تائیوانی ایئرلائنز کی فضائی حدود پہلے بند کی اور پھر دوبارہ کھول دی۔ ان کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ملک نے تائیوانی کمرشل پروازوں کے لیے فضائی حدود بند کی ہوں۔ تائیوانی حکام نے اس اقدام کی مذمت کی اور اسے چین کے دباؤ کا نتیجہ قرار دیا، تاہم چین کے کردار کے بارے میں یہ دعویٰ تائیوانی حکام کا اپنا موقف ہے، جس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
کیا پابندی کبھی باضابطہ تھی؟
اس معاملے میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ آیا پابندی کبھی باضابطہ طور پر نافذ بھی ہوئی تھی۔ ڈان کے مطابق سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ایک ذریعے نے کہا کہ ایسی کوئی نوٹم (فضائی عملے کو نوٹس) جاری نہیں کی گئی جس میں تائیوانی ایئرلائنز پر پابندی کا اعلان کیا گیا ہو۔ اسی ذریعے نے معاملے کو دفتر خارجہ کی طرف بھیجا تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا کوئی پالیسی فیصلہ ہوا تھا، جبکہ ایک سفارتی ذریعے نے کسی ایسے فیصلے کی تردید کی۔
دونوں ایئرلائنز نے اس معاملے پر باضابطہ تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ تائیوان کی سول ایروناٹکس انتظامیہ نے بھی براہ راست اس بارے میں بات نہیں کی، البتہ اس نے کہا کہ اس نے کبھی روس کی فضائی حدود پر پابندی نہیں لگائی۔ پاکستان چین کی ون چائنا پالیسی کی حمایت کرتا ہے اور تائیوان کو الگ ریاست کے طور پر تسلیم نہیں کرتا، لیکن تائیوانی ایئرلائنز ماضی میں یورپ کے راستوں کے لیے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرتی رہی ہیں۔
بھارت کا ردعمل اور علاقائی اثرات
بھارت نے بھی اس تنازع کے بعد تائیوان کے ساتھ براہ راست پروازوں کے امکان کا اشارہ دیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ اگر براہ راست پروازیں شروع ہوئیں تو وہ چلیں گی، تاہم انہوں نے کسی مخصوص روٹ یا تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔ بھارت اور تائیوان کے درمیان براہ راست فضائی رابطے سے کاروبار، سیاحت اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون کو فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن اس کا انحصار ایئرلائنز کے تجارتی فیصلوں اور ریگولیٹری منظوریوں پر ہوگا۔
پاکستان کے لیے یہ معاملہ سفارتی توازن کا امتحان بھی ہے۔ ایک طرف چین کے ساتھ قریبی سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تعلقات ہیں، جن میں بیلٹ اینڈ روڈ اور چین پاکستان اقتصادی راہداری شامل ہیں، اور دوسری طرف بین الاقوامی فضائی نظام میں شفافیت اور تسلسل کی توقع ہے۔ 27 مارچ 2027 تک کی اجازت ایک عارضی حل ہے، اور اس مدت کے بعد کیا فیصلہ ہوگا، یہ آنے والے مہینوں میں واضح ہوگا۔
مزید پڑھیں: پاکستان نے بھارتی طیاروں پر فضائی پابندی اور امریکا ایران جنگ: قطر کی ثالثی
ماخذ: ڈان، بلومبرگ، اے ایف پی، 29 اکتوبر 2026۔