جماعت اسلامی لانگ مارچ: وسط نومبر میں اسلام آباد
جماعت اسلامی نے وسط نومبر میں ملتان سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کرنے کا اعلان برقرار رکھا ہے۔ جماعت کے قائم مقام امیر لیاقت بلوچ نے جمعرات کو منصورہ میں مشاورتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے وزیراعظم کی مانگی گئی 10 روزہ مہلت میں پیٹرولیم لیوی پر عوام کو ریلیف نہ دیا تو لانگ مارچ پوری قوت سے شروع ہوگا۔
منصورہ اجلاس میں کیا فیصلہ ہوا؟
بزنس ریکارڈر کی 30 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق، اجلاس میں لانگ مارچ کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ لیاقت بلوچ نے پیٹرولیم لیوی کو غریب عوام پر ناجائز بوجھ قرار دیا اور کہا کہ حکمرانوں کو عوام کو نچوڑنے کے بجائے اپنی مراعات کم کرنی چاہئیں۔ ان کے بقول، “پیٹرولیم لیوی عوام پر بھتہ خوری جیسا بوجھ ہے۔”
اجلاس میں لانگ مارچ سے قبل کوئٹہ، میرپورخاص، بہاولپور، مانسہرہ اور سرگودھا میں عوامی ریلیاں نکالنے کا فیصلہ بھی ہوا۔ ٹرانسپورٹ، طبی امداد، سیکیورٹی، لاجسٹکس، ساؤنڈ سسٹم اور میڈیا کے انتظامات کے لیے الگ الگ کمیٹیاں تشکیل دی گئیں، جبکہ مرکزی کمیٹی کی سربراہی نائب امیر میاں محمد اسلم کریں گے۔
حکومت سے مذاکرات کا پس منظر
جماعت اسلامی دو ماہ سے زائد عرصے سے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ جماعت نے ملک بھر میں 510 مقامات پر سڑکیں بلاک کیں، مختلف شہروں میں تقریباً چھ ہفتے دھرنے دیے، درجنوں شہروں میں ریلیاں نکالیں اور کراچی سے اسلام آباد تک ٹرین مارچ بھی کیا۔
27 اکتوبر کو وزیراعظم شہباز شریف سے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کی ملاقات ہوئی تھی، جس میں حکومت اور جماعت کے درمیان چھ رکنی کمیٹی بنانے پر اتفاق ہوا تھا۔ یہ کمیٹی پیٹرول کی ریلیف اسکیم کو وسعت دینے اور آئندہ بجٹ میں لیوی میں مرحلہ وار کمی کی تجاویز تیار کرے گی۔
جماعت نے وزیراعظم کی درخواست پر ٹرین مارچ عارضی طور پر معطل کیا تھا، تاہم لیاقت بلوچ کے مطابق وزیراعظم نے گزشتہ منگل کی ملاقات میں فیصلے کے لیے مزید 10 دن مانگے تھے، اور جماعت نے حکومت کو یہ آخری موقع دیا ہے۔
حکومت کا موقف
دوسری جانب حکومت نے لیوی میں فوری کمی کا امکان مسترد کیا ہے۔ منصوبہ بندی کے وزیر احسن اقبال نے 29 اکتوبر کو کہا تھا کہ حکومت جماعت اسلامی کے کسی دباؤ میں لیوی کم نہیں کرے گی، بلکہ مرحلہ وار کمی پر آئندہ بجٹ سے غور کیا جائے گا۔
پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے قومی اسمبلی میں دیے گئے تحریری جواب کے مطابق، 2022-23 سے 2025-26 کے دوران پیٹرولیم لیوی کی وصولیاں 4.4 کھرب روپے رہیں، جو ہدف سے 227 ارب روپے زیادہ ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ لیوی کی وصولی آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ سہولت کے تحت طے شدہ مالی اہداف کا حصہ ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
اگر 10 روزہ مہلت میں کوئی ٹھوس ریلیف نہ ملا تو جماعت اسلامی کا لانگ مارچ وسط نومبر میں ملتان سے اسلام آباد کی طرف روانہ ہوگا۔ اس سے قبل ریلیوں کا سلسلہ پانچ شہروں میں شروع ہوگا۔ جماعت کے اس سے قبل کے اعلانات اور حکومت سے مذاکرات پر یہ رپورٹ: https://niazitvnews.com/?p=2359 اور یہ رپورٹ: https://niazitvnews.com/?p=2248 ۔
ذرائع: بزنس ریکارڈر، ڈان، ایکسپریس ٹریبیون، 30 اکتوبر 2026۔