حفیظ اللہ نیازی اور شہباز گل کی لڑائی بڑھنے لگی
عزیزم شہباز گل صاحب! فخر ہے کہ میرا بیٹا بیرسٹر حسان نیازی دلیری اور وفاداری کے تمام کوائف پورے کرتا ہے۔ تگڑا اور دلیر بننے کے لیےڈاکٹر محمد عظیم خان کا DNA کافی ہے۔ پاکستان کے اندر میرے علاوہ شاید ہی کوئی دوسرا شخص ہو جس نے عمران خان کے جیل جانے کے بعد، عمران کے حق میں کھل کر لکھا اور بولا ہو جبکہ کوئی مفاد وابستہ نہیں، عمران کے حق میں نہیں بلکہاپنے اصولوں کا ساتھ دیا ہے۔ میری بدقسمتی ہے یا خوش قسمتی کہ آپ کا مجھ سے تعارف واجبی اورسنے سنائے مفروضوں پر مبنی ہے۔ میری تہتر سالہ زندگی کے بارے میں شاید آپ کچھ نہیں جانتے۔ میں نے اپنی زندگی اپنے متعین رہنما اصولوں اور نظریاتی ڈسپلن کے تحت گزاری ہے۔ اسے نفع و نقصان، سود و زیاں اور کاروباری سودوں سے بالاتر رکھا ہے۔ سستا یا مہنگا سودا بیچنے جیسی کاروباری اصطلاحات سے ناواقف ہوں۔ زندگی کو بطور کاروبار نہیں، کسی مقصد کے تابع گزارا ہے۔ میرے لیے یہ بات دلچسپ ہے کہ ایک شخص بیک وقت ’’بطلِ حریت‘‘ بھی ہو اور تقریری و تحریری مقابلے سے مال کمانا بھی جانتا ہو۔ میں ایسی فن کاری، بیوپاری اور ساہوکاری کے فن سے مکمل ناآشنا ہوں، چنانچہ جب بھی بیچوں گا، سودا سستا ہی بیچوں گا۔چوہدری صاحب! حریت کی جو تحریک آپ نے امریکہ سے چلا رکھی ہے، کاش اسے پاکستان سے چلاتے۔ یقین دلاتا ہوں کہ آپ کی موجودگی عمران خان کی سیاست کو درپیش مسائل کے حل کے لیے تریاق ثابت ہوتی اور عمران کی سیاست کو چار چاند لگا دیتی۔میں تو دہائیوں سے اس ہائبرڈ نظام کے خلاف نبردآزما ہوں۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ مارچ 2019 سے اپریل 2022 تک، جب آپ اور آپ کے ساتھی اقتدار کے جھولے جھول رہے تھے اور جنرل باجوہ کی گود میں لوریاں لے رہے تھے، روزنامہ جنگ میں میرے کالم چھپنے پر تین سال سے زیادہ عرصے تک پابندی رہی اور اس وقت کی مقتدرہ نے میرے لیے عرصۂ حیات تنگ کر رکھا تھا۔چوہدری صاحب !جب آپ اسٹیبلشمنٹ کے صفحے سے چپکے ہوئے تھے، میں آج ہی کی طرح، جو بھی دستیاب جگہ تھی، اس کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے سینہ سپر تھا۔ الحمدللہ، میری للکار اس وقت بھی آج ہی کی طرح توانا اور تنومند تھی۔عمران خان اور میرے معاملے میں آپ کی سیاسی، سماجی، ثقافتی اور معاشرتی معلومات ناکافی، نامکمل بلکہ ادھوری ہیں، اور ہونی بھی چاہییں۔ کم معلومات کی بنیاد پر کسی خیال کو پروان چڑھانا علمی دیانت کے منافی اور جہالت کے زمرے میں آتا ہے۔کیا ہی اچھا ہوتا کہ میرے اور عمران خان کے معاملات پر آپ اپنے محدود علم کی بنیاد پر قیاس آرائی نہ کرتے، کیونکہ آپ کی کم علمی نے آپ کے قدآور علم کو بھی ضعف پہنچایا ہے۔پاکستانی سیاست میں موجود کرداروں کے بارے میں، ذاتی پسند و ناپسند سے قطع نظر، میں کسی کے بھی اچھے کام اور اصولی مؤقف کی تعریف و توصیف میں کبھی کنجوسی نہیں برتی۔ اسی طرح قائدین کی سیاسی دو نمبریوں پر بھی بلاامتیاز آڑے ہاتھوں لیا اور سخت تنقید کی ہے۔ میں دہائیوں سے طاناشاہی، استبدادی نظام اور مطلق العنان آمروں کے خلاف لکھ رہا ہوں۔کاش آپ لوگ بھی اپنے نفع و نقصان اور مالی مفادات کو بالائے طاق رکھتے، پاکستان آتے اور چیئرمین پی ٹی آئی سمیت دوسرے اکابرین پر اس وقت جو کڑا وقت ہے، اس میں کارکنوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوتے۔ ورکرز کو بے آسرا نہ چھوڑتے۔آج پی ٹی آئی کے کروڑوں کارکن قیادت اور رہنمائی دونوں سے محروم ہیں۔ پارٹی کے اندرونی اور باہمی اختلافات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں، وہ عمران خان کی تکلیف میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔وقت کی ضرورت ہے کہ ایسے موقع پر آپ جیسی حریتِ فکر و اظہار کی قوت پارٹی کی مدد کو آتی اور درپیش مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرتی۔ آپ پاکستان بیٹھ کر نامساعد حالات کا سامنا کرتے انہیں سنبھالنے میں مدد دیتے۔ مگر یہ اس لیے نہ ہو سکا کہ عمران خان کی غیر موجودگی میں جس جرات، سنجیدگی اور قربانی کی ضرورت تھی، ’’چوری کھانے والے مجنوں‘‘ اس سے کوسوں دور ہیں۔ آپ جیسے بطلِ حریت پاکستان سے باہر اپنے لیے گوشۂ عافیت اور روزگار تلاش کر چکےہیں باقی کسی اور سے کیا گلہ!اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک جو پارٹی زعما عمران خان کے نام پر اپنےمفادات پروان چڑھا رہے ہیں،انکے وارےمیں نہیں کہ عمران خان جیل سے باہر آئے۔ انکے مفادات کی ترقی عمران خان کی مشکلات سے نتھی ہے۔شہباز صاحب، بسم اللہ کیجیے! پاکستان واپس آئیے اس خلا کو پُر کیجیئے،عمران خان کو آپکی ضرورت ہے۔غیرمعمولی کرشماتی لیڈر، تین سال سے حوالۂ زنداں ، بے یار و مددگار،تنہا ہے۔ اس سے مستفید ہونے والے، چوری کھانے والے اج بھی مفاداتی ایجنڈامیں دلچسپی رکھتے ہیں۔ حضور! پاکستان واپس آئیے اور بے بس عمران کو ظالموں کے شکنجے سے آزاد کرانے کی تحریک چلائیں۔ اگر آپ واقعی بطلِ حریت ہیں تو ان شاء اللہ، پی ٹی آئی قیادت اور آپ کے ساتھ میں شانہ بشانہ کھڑا ہوں گا۔
