علی امین گنڈا پور کی مولانا فضل الرحمان پر سخت تنقید

دیکھیں، پہلی بات تو یہ ہے کہ مولانا صاحب جو ہیں نا، وہ تو میرے حلقے کے بھی ہیں، اور پھر میرے حلقے کے مخالف بھی ہیں۔ تو شاید بعض اوقات لوگ سمجھتے ہیں کہ میں اگر ان کے خلاف کوئی بات کرتا ہوں تو شاید یہ حلقے کی سیاست ہے، ایسا نہیں ہے۔حلقے کی سیاست الیکشن کے وقت ہوتی ہے، اور الحمدللہ جب بھی میں نے مولانا کے خلاف الیکشن لڑا ہے، میں نے مولانا کو بدترین شکست دی ہے۔ اس لیے سب لوگ یہ بات واضح کر لیں کہ بھائی! یہ حلقے کی بات نہیں، یہ قومی معاملہ ہے۔جہاں تک آپ شہداء کی بات کر رہے ہیں، دیکھیں شہید ہم سب کے ہیں، ہم سب کے شہید ہیں۔ ہمیں ان کی عزت کرنی ہے، ان کے خاندانوں نے جو قربانیاں دی ہیں، ان قربانیوں کو عزت دینی ہے، کیونکہ انہی کی وجہ سے آج ہم یہاں کھڑے ہیں۔ آج ہم کھڑے ہو کر یہ پروگرام اور ایونٹ کر رہے ہیں، تو اس کی وجہ ہماری فورسز ہیں اور ہماری فورسز کی قربانیاں ہیں۔اگر آپ خاص طور پر پختونخوا کو دیکھیں تو ہماری عوام نے بھی قربانیاں دی ہیں اور ہماری فورسز نے بھی قربانیاں دی ہیں۔اب میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں حلقے کی بات نہیں کر رہا، عمومی بات کر رہا ہوں۔مولانا صاحب! آپ کے والد صاحب بھی حوالدار تھے، یہ میں نہیں کہتا، آپ خود کہتے ہیں، تصاویر بھی موجود ہیں، لوگوں نے دیکھی ہوں گی۔ وہ انگریز کی فوج میں تھے، جہاں بھی تھے، لیکن حوالدار تھے۔اگر خدانخواستہ وہ دورانِ ڈیوٹی شہید ہو جاتے تو کیا ہم یہ کہتے کہ وہ صرف تنخواہ کے لیے گئے تھے؟ آپ تو ان کا مقبرہ بنا لیتے۔لیکن دوسروں کے بچوں کے بارے میں آپ یہ باتیں کر رہے ہیں کہ کیا یہ لوگ تنخواہ کے لیے اپنی جان دے رہے ہیں؟کیا ایک انسان کی جان کی بھی کوئی قیمت لگائی جا سکتی ہے؟مجھے اس بات پر نہایت افسوس ہے، اور میں بھرپور انداز میں مولانا صاحب سے کہنا چاہتا ہوں کہ مولانا صاحب! آپ کو شاید کوئی حصہ نہیں ملا، یا آپ اسٹیبلشمنٹ سے کسی بات پر ناراض ہیں۔آپ کو بھرپور سپورٹ دی گئی ہے، ڈی آئی خان کی عوام کھڑی ہے، بچہ بچہ گواہ ہے کہ الیکشن میں جس طریقے سے لوگوں کو دباؤ ڈال کر مولانا اور پیپلز پارٹی کو جوائن کروایا گیا، لوگ اس کے گواہ ہیں۔صحافی بھی گواہ ہیں کہ ان پر دباؤ ڈالا گیا کہ پی ٹی آئی کی خبر نہ چلانا، یہ کہنا کہ پی ٹی آئی چھٹے نمبر پر ہے اور فلاں جماعت پہلے نمبر پر ہے۔اس سب کے باوجود بھی آپ کا منہ کالا ہوا، آپ ہار گئے، لوگوں نے آپ کو مسترد کر دیا۔اب آپ اپنی ناراضی میں، یا کسی غلط اقدام پر، شہداء کو بھی درمیان میں لے آئے ہیں۔ آپ شہداء پر سیاست کر رہے ہیں۔شہداء کا اس معاملے سے کیا تعلق ہے؟آپ اپنی ناراضگیاں انہی سے جا کر دور کریں، اگر آپ کو کچھ چاہیے تو لے لیں۔ترمیم میں ووٹ دینے کے لیے تو آپ نے خوب کام کیا، ووٹ بھی دے دیا۔اب آپ خود فارم 47 کے ذریعے آئے ہوئے ہیں، پشتین سے بھی آپ کو مسئلہ ہے، کیونکہ آپ کو حکومت چاہیے تھی، مگر حکومت نہیں ملی، اس لیے آپ ناراض ہیں۔آپ تنقید کریں، ضرور کریں، لیکن سیاست میں شہداء کو مت لائیں۔سیاست کو سیاست رہنے دیں، شہداء کو درمیان میں لا کر ان کے خاندانوں، ان کے بچوں اور ہم سب کے دلوں کو ٹھیس نہ پہنچائیں، کیونکہ ہمیں اس سے دکھ پہنچتا ہے۔اس لیے میں یہی کہوں گا کہ اپنا بیان واپس لیں۔اور اگر آپ نے کوئی مطالبہ کیا ہے تو میری گزارش ہے کہ مولانا صاحب کو اگر کوئی عہدہ، وزارت یا کوئی اور چیز چاہیے تو دے دیں، لیکن شہداء کو اس معاملے میں نہ لائیں۔آپ کی وجہ سے، آپ کے خلاف لوگوں کو کھڑا کرنے کے لیے، شہداء پر سیاست شروع ہو گئی ہے۔باقی آخری بات، مولانا صاحب! اللہ تعالیٰ آپ کو لمبی زندگی دے، آپ تو شہید بھی نہیں ہیں۔آپ نے اپنی حکومت میں جو زمین لی تھی، آج بھی جی ایچ کیو کا انتقال موجود ہے کہ شہداء اور غازیوں کی زمین میں سے بارہ سو کنال مولانا صاحب نے لیے تھے۔عبدالرانی صاحب نے بھی لیے تھے۔آپ شہداء کی زمینیں بھی لیتے ہیں، غازیوں کی زمینوں میں بھی حصہ لیتے ہیں، اور پھر انہی کے بارے میں ایسی باتیں بھی کرتے ہیں۔میں تو کہوں گا کہ وہ جی ایچ کیو والا انتقال بھی پوری قوم کے سامنے نکال کر دکھا دیں۔مولانا صاحب نے ہم سے بارہ سو کنال زمین انتقال کروائی تھی، کیونکہ اس وقت ان کی حکومت تھی، اور درانی صاحب نے بھی زمین لی تھی۔اس کا ریکارڈ موجود ہے۔پاکستان کی تاریخ میں آج تک جی ایچ کیو نے کسی کو اس طرح انتقال نہیں دیا، لیکن مولانا صاحب اتنے بڑے بلیک میلر ہیں کہ جی ایچ کیو سے بھی زمین لے لی۔سوچیں، جن کے سامنے کوئی بات نہیں کر سکتا، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بات کرو تو گولیاں مار دیتے ہیں، مولانا نے ان سے بھی مال نکال لیا۔لوگ کہتے ہیں کہ مال نکلوانے میں یہ بہت ماہر ہیں، اور یہ بھی شاید اسی مقصد کے لیے ایک چال ہے۔یار! تھوڑا بہت مال دے دو، خزانے میں کمی نہیں آئے گی۔خیر، میں تو اپنی زمین بیچ کر بھی دے دوں گا، لیکن خدا کے لیے شہداء کو اس سیاست سے دور رکھو، شہداء کو کم از کم اس معاملے سے الگ رکھو۔