رمیز راجہ کا سینیٹر افنان اللہ کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ۔

0

سابق چئیر مین پی سی بی رمیز راجہ نے حکومت کا چیلنج قبول کرلیا رمیز راجہ کا کہنا ہے کہ ہماری حکومت کے چند ناسمجھ لوگوں کوغلط فہمی ہے کہ مجھے ان کی حکومت کمنٹری کے پیسے دیتے ہے اور مجھے یہ بھیجتے ہے کمنٹری کیلئے میں ان کو یادہانی کراوں کہ مجھے کمنٹری کیلئے دنیا کے مختلف اسپانسر مدعو کرتے ہے اب میں انگلینڈ میں بی بی سی کے مشہور ریڈیو اور آڈیو پلیٹ فارم کیلئے کمنٹری کررہا ہوں اور انہوں نے ہی مجھے مدعو کیا ہے پاکستان انگلینڈ سیریز کیلئے یہ میری مرضی ہےکہ میں اس میں کس کانام لوں آپ کی اوقات اتنی نہیں ہے کہ آپ مجھے دنیا میں کمنٹری کرنے سے روکے یا میرے رائے کے اظہار پر پابندی عائد کرئے اور نہ ہی ایسا آپ کرسکتے ہے اگر تم ایسا کرسکتے ہو تو میرا آپ کو کھلا چیلنج ہے کرکے دیکھاؤ مجھے روکو کمنٹری کرنے سے میں اپنے رائے کا اظہار کرتا رہوں گا یادرہے گزشتہ روز حکومتی عہدےدار سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ رمیز راجہ کی کمنٹری پر پابندی لگائی جائے بی بی سی کے مشہور ریڈیو اور آڈیو پلیٹ فارم پرسابق کپتان عمران خان کی بیماری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بہت تشویش ہے اس بیماری پر۔۔۔

خواجہ آصف نے ویگو ڈالے والوں پر کڑی تنقید سر، یہ ہماری پارلیمنٹ لارجز ہیں جس کو ویگو ڈالوں سے بچائیں، سر۔ یہاں پر خواتین ممبران بھی، مرد حضرات بھی، ہمارے ممبران، ان کے مہمان بھی، اور فیملیز بھی واک کر رہی ہوتی ہیں۔گرین نمبر پلیٹ والے ویگو ڈالے ایسے سپیڈ کے ساتھ جارہے ہوتے جیسے ، آگ بجھانے جا رہے ہیں یہ اتنی بڑی ولگیریٹی ہے۔ ویگو ڈالا اٹس سیلف از اے ولگیریٹی۔ اس سے بڑی ولگیریٹی یہ نہیں ہونی چاہیے، جناب اسپیکر۔جو ویگو ڈالے کے اسٹیئرنگ پر بیٹھتا ہے، اس کے دماغ کو کچھ ہو جاتا ہے۔۔ وہ پیچھے گن مین ہوتے ہیں۔ میں بالکل آپ کو سیریس بات کر رہا ہوں۔ روزانہ، میں نام نہیں لینا چاہتا، میں واک کر رہا ہوتا ہوں، ابرار شاہ صاحب واک کر رہے ہوتے ہیں، یہ بڑے دوست یہاں واک کر رہے ہوتے ہیں، خواتین روزانہ واک کر رہی ہوتی ہیں۔اور دوسرا یہ ہے کہ ہمارے وزراء کو بتایا جائے کہ شام کے بعد گاڑی پر جھنڈا نہیں ہونا چاہیے۔ یہ بھی بتایا جائے۔ آپ جہاں اتنے ایٹی کیٹس بتا رہے ہیں، یہ بھی بتائیں۔اور جب وزیر گاڑی میں بیٹھا ہوا نہ ہو تو جھنڈا لگا ہونا بھی نہیں چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *