حماد اظہر کی فیملی سے ملاقات کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

0

لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما میاں حماد اظہر کو ان کی فیملی اور وکلاء سے ملاقات کی اجازت دینے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ یہ درخواست حماد اظہر کی والدہ نے دائر کی تھی، جو اس وقت پولیس کی تحویل میں جسمانی ریمانڈ پر ہیں۔

دو رکنی بینچ کی سماعت

جسٹس شہباز علی رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے معاملے کی سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل ابوذر سلمان نیازی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے فیملی کو ملاقات کی اجازت کے لیے پولیس سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی، لیکن تھانے تک رسائی ہی نہیں دی جا رہی۔

وکیل کا موقف تھا کہ حماد اظہر کی مسلسل پولیس تحویل انہیں وکالت نامہ (پاور آف اٹارنی) پر دستخط کرنے سے روک رہی ہے، جس سے ان کے لیے ریمانڈ چیلنج کرنا اور اپنی قانونی ٹیم سے مشورہ کرنا متاثر ہو رہا ہے۔

عدالت کے سوالات

عدالت نے پوچھا کہ کیا وکالت نامے پر دستخط کے لیے جیل سپرنٹنڈنٹ کو کوئی درخواست دی گئی تھی۔ وکیل نے وضاحت کی کہ حماد اظہر جیل میں نہیں بلکہ پولیس کی تحویل میں ہیں۔

سرکاری وکیل نے دلائل دیے کہ حماد اظہر ایک سیاسی شخصیت ہیں اور ان سے ملنے کے لیے متعدد افراد آتے ہیں، اور بعض زائرین پر پابندیوں سے شکایات ہوئی ہیں۔ ریاست کا یہ بھی موقف تھا کہ ریمانڈ چیلنج کرنے کے لیے بائیو میٹرک تصدیق درکار ہے، لیکن پولیس کی تحویل میں یہ سہولت دستیاب نہیں۔

جسٹس شہباز علی رضوی نے سوال کیا کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ریمانڈ کو چیلنج ہی نہیں کیا جا سکتا۔ سرکاری وکیل نے وضاحت کی کہ ان کا یہ موقف نہیں ہے اور تجویز دی کہ پولیس کو درخواست دی جانی چاہیے۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ ریاست نے تسلیم کیا ہے کہ پولیس کی تحویل میں بائیو میٹرک تصدیق دستیاب نہیں ہے، اور درخواست گزار کے موقف کو اسی تناظر میں دیکھا۔

گرفتاری کا پس منظر

لاہور پولیس کے ترجمان کے مطابق حماد اظہر کو ملتان سے گرفتار کیا گیا تھا اور وہ لاہور پولیس کو 18 مقدمات میں مطلوب تھے، جبکہ ان کے وکیل کا دعویٰ ہے کہ ان کے خلاف تقریباً 71 ایف آئی آرز درج ہیں۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے انہیں جناح ہاؤس حملہ کیس سمیت 9 مئی کے واقعات سے منسلک مقدمات میں 20 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا۔

اس سے قبل ان کی والدہ عشرت اظہر نے لاہور ہائیکورٹ میں ان کی بازیابی کے لیے بھی درخواست دائر کی تھی، جس میں آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور سمیت متعلقہ پولیس افسران کو فریق بنایا گیا تھا۔

واضح رہے کہ فیصلہ محفوظ ہونا حتمی حکم نہیں ہے — عدالت اب اس پر اپنا فیصلہ سنائے گی۔

متعلقہ خبر: عمران خان کی بہنوں کا کیس — ہوم سیکریٹری 28 اکتوبر کو طلب

متعلقہ خبر: مذاکرات بحال ہو سکتے ہیں — عامر ڈوگر کا اہم اعلان

ذرائع: ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (HRNW) کی آج کی رپورٹ؛ پس منظر: دی نیوز، پاکستان آبزرور۔ کیس کی تفصیلات HRNW کی رپورٹ کے مطابق پیش کی گئی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *