خواجہ آصف کا فضل الرحمان کو سخت جواب
قومی اسمبلی میں 29 اکتوبر 2026 کو وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے طعنوں کا سخت جواب دیا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی آئین و قانون کے مطابق لگائی گئی ہے، اور تہران میں ہونے والی ملاقات میں پاکستان کے دفاع پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی، اس لیے ان کی وہاں موجودگی ضروری نہیں تھی۔
یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ روز ایوان میں خواجہ آصف کے مشہور جملے “کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے” کو انہی کے خلاف استعمال کرتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ دفاع کا معاہدہ ایران میں ہو رہا ہے اور وزیر دفاع ایوان میں بیٹھے ہیں۔ فضل الرحمان نے یہ بھی پوچھا تھا کہ وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ بھی ایوان میں موجود ہیں تو تہران میں ان کی وزارتوں کا کیا کردار ہے۔ ان کے اس تبصرے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی گردش کرتی رہی۔
خواجہ آصف کا جواب
خواجہ آصف نے اپنے جواب میں کہا کہ انہوں نے فضل الرحمان کی تقریر صبر سے سنی، لیکن ذاتی حملوں پر جواب دینا ضروری تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ دوسروں کو شرم و حیا کا درس دیتے ہیں، انہیں اپنے گریبان میں بھی جھانکنا چاہیے۔ وزیر دفاع نے فضل الرحمان کے سیاسی ماضی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے قومی اسمبلی کی کشمیر کمیٹی کی تقریباً 10 سال صدارت کی، لیکن اس دوران کشمیر کاز کے لیے کیا خدمت انجام دی، یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے۔
خواجہ آصف نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر مولانا فضل الرحمان کو ان کی مرضی کا حصہ مل جاتا تو گزشتہ روز کی سخت تقریر نہ ہوتی، اور حالات اس طرح بنائے گئے ہیں کہ مولانا کا اصل چہرہ سامنے آئے۔ یہ الفاظ وزیر دفاع کے اپنے دعوے اور تاثر کے طور پر سامنے آئے ہیں، جن کی فضل الرحمان کی جانب سے اسی وقت کوئی تردید رپورٹ نہیں ہوئی۔ وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ فضل الرحمان نے پی ڈی ایم حکومت کے دوران بھی ہر طرح کے کام کیے، اور اگر ان کا منہ کھل گیا تو حقائق سب کے سامنے آ جائیں گے۔ یہ بھی خواجہ آصف کا اپنا الزام ہے، جسے انہوں نے ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا۔
تہران مذاکرات پر وضاحت
تہران میں ہونے والی بات چیت کے بارے میں خواجہ آصف نے وضاحت دی کہ وہاں پاکستان کے دفاع پر کوئی بحث نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی دفاعی معاہدہ زیر غور تھا۔ اس لیے ان کی تہران میں موجودگی کی ضرورت نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا تہران کا دورہ علاقائی امن کے لیے تھا، نہ کہ کسی دفاعی معاہدے کے لیے۔
اسی معاملے پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی ایوان بالا میں وضاحت دی۔ نقوی نے کہا کہ ایران کا دورہ کسی دفاعی معاہدے کے لیے نہیں تھا، بلکہ موجودہ صورتحال کا حل تلاش کرنے کے لیے تھا، اور وہ وزیراعظم کی ہدایت پر گئے تھے، اپنی مرضی سے نہیں۔ نقوی نے یہ بھی کہا کہ فضل الرحمان جب حصہ ملنا بند ہو جاتا ہے تو ریاست کے خلاف ہو جاتے ہیں، جو ان کا اپنا تبصرہ ہے۔
پی ٹی آئی سے متعلق طنز
خواجہ آصف نے اپنے جواب میں پی ٹی آئی سے متعلق بھی طنز کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ کل تک پی ٹی آئی مولانا کے نزدیک ایک صہیونی جماعت تھی، اور اب اچانک محبت ظاہر ہو رہی ہے، گویا مولانا نے انہیں اسلام کے دائرے میں لے لیا ہے۔ وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی کے ارکان نے فضل الرحمان کی سیاسی چھتری کے نیچے پناہ لی ہے۔ یہ بیانات وزیر دفاع کی اپنی سیاسی تنقید کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
قومی اسمبلی میں خواجہ آصف کی تقریر کے دوران شور شرابا بھی ہوا، جس سے ان کی تقریر مختصر طور پر متاثر ہوئی، تاہم بعد میں انہیں بات جاری رکھنے دی گئی۔ ایوان میں یہ بحث اس وقت ہو رہی ہے جب خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کا معاملہ سیاسی بحث کا مرکز بنا ہوا ہے، اور اپوزیشن و حکومت کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔
بحث کا پس منظر
خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سے سیاسی جماعتوں کے درمیان بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ فضل الرحمان نے اس اقدام پر سخت تنقید کی تھی، جبکہ حکومت کا موقف ہے کہ یہ اقدام آئینی دائرے میں کیا گیا ہے۔ اسی تناظر میں قومی اسمبلی میں دونوں رہنماؤں کے درمیان جملوں کا تبادلہ ہوا، جو سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث آیا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اس بحث سے ظاہر ہوتا ہے کہ خیبرپختونخوا کے معاملے پر سیاسی درجہ حرارت کم ہونے کے بجائے بڑھ رہا ہے، اور آنے والے دنوں میں بھی ایوان میں اس موضوع پر مزید بحث متوقع ہے۔
مزید تفصیل کے لیے یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی کا اجلاس کورم پورا نہ ہونے پر ملتوی اور فضل الرحمان: کے پی میں گورنر راج آئین کا غلط استعمال۔
ذرائع: اردو پوائنٹ، دنیا نیوز، منی کنٹرول، آج نیوز — 29 اکتوبر 2026۔