دہشت گردی ریڈ لائن ہے، پاکستان کا افغانستان کو سخت انتباہ
پاکستان نے افغانستان کی طالبان حکومت کو سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ دہشت گردی اس کے لیے ریڈ لائن ہے اور پاکستانی شہریوں کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے ہفتے کی رات جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے، چاہے خطرہ کسی بھی سمت سے آئے۔
یہ بیان افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے حالیہ انٹرویو کے جواب میں سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اسلام آباد مذاکرات کے ذریعے کشیدگی ختم کرنے کے لیے تیار نہیں اور اس کی غلط پالیسیاں امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ پاکستان کی وزارت اطلاعات نے اس موقف کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ طالبان قیادت اصل مسئلے سے نظریں چرا رہی ہے۔
وزارت اطلاعات کا بیان کیا کہتا ہے
وزارت اطلاعات و نشریات نے اپنے بیان میں کہا کہ طالبان قیادت اسلام آباد کی پالیسیوں پر تنقید کر رہی ہے، مگر افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی۔ بیان کے مطابق دوطرفہ تعلقات میں بگاڑ کی بنیادی وجہ یہی ناکامی ہے، نہ کہ پاکستان کی پالیسیاں۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ پاکستان سرحد پار دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو برداشت نہیں کرے گا جو اس کی سلامتی کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ وزارت نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی کو طالبان حکومت کی عدم فعالیت، بہانوں یا غلط ترجیحات کا یرغمال نہیں بننے دیا جائے گا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ الزام تراشی، یقین دہانیاں اور پاکستان کی پالیسیوں پر سوال اٹھانا نہ تو بحران حل کرے گا اور نہ ہی کابل کو اس کی ذمہ داریوں سے بری کرے گا۔
مجاہد نے کیا کہا تھا
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے 31 اکتوبر کو حریت ریڈیو کو انٹرویو میں کہا تھا کہ افغانستان نے کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کے ذریعے اپنی حتمی کوششیں کر لی ہیں، مگر اب تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں امن کے حل کے لیے آمادگی کی کمی ہے اور اس کی پالیسیاں تصفیے میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔
پاکستان کی وزارت اطلاعات نے اس بیان کو طالبان قیادت کی گمراہ کن سوچ کی عکاسی قرار دیا۔ وزارت کے مطابق کابل حکومت یہ تسلیم کرنے سے گریزاں ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی ہی تعلقات میں زہر گھولنے والا اصل مسئلہ ہے۔
اعداد و شمار اور عالمی تناظر
پاکستانی حکام کے حوالے سے بتائے گئے اعداد کے مطابق رواں سال 2026 میں افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے نتیجے میں 1,327 پاکستانی جاں بحق اور 2,484 زخمی ہوئے۔ یہ اعداد پاکستانی حکام کی جانب سے پیش کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے 31 اکتوبر کو اٹلانٹا میں پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ واشنگتن افغان سرزمین سے ہونے والے دہشت گرد حملوں کے حوالے سے پاکستان کے خدشات سے آگاہ ہے۔
اس سے قبل 24 اکتوبر کو بھی وزارت اطلاعات نے ایک بیان میں اقوام متحدہ اور امریکی جائزوں کا حوالہ دیتے ہوئے طالبان حکومت سے تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان لبریشن آرمی کے خلاف قابل تصدیق کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے اعداد کے مطابق ستمبر 2026 میں پاکستان میں 225 عسکریت پسند حملے ریکارڈ ہوئے، جو 12 سال کی بلند ترین ماہانہ تعداد بتائی جاتی ہے۔
اب آگے کیا ہوگا
اہم بات یہ ہے کہ وزارت اطلاعات کے بیان میں کسی مخصوص ہدف یا کارروائی کا وقت نہیں بتایا گیا۔ بیان میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی سلامتی کے لیے ہر ضروری اقدام کا حق رکھتا ہے۔ اس لیے یہ انتباہ ایک سفارتی دباؤ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ کسی فوری کارروائی کے اعلان کے طور پر۔
پاک افغان تعلقات میں کشیدگی گزشتہ کئی ماہ سے برقرار ہے۔ اسلام آباد کا موقف ہے کہ عسکریت پسند گروہ، خصوصاً تحریک طالبان پاکستان، افغان سرزمین سے پاکستان کے اندر حملے کر رہے ہیں، جبکہ کابل اس الزام کو مسترد کرتا رہا ہے۔ اس تازہ بیان بازی کے بعد دونوں جانب سے مذاکرات کا مستقبل مزید غیر یقینی دکھائی دیتا ہے۔
مزید پڑھیں: تورخم پر کشیدگی کی تازہ صورتحال کے لیے یہ خبر دیکھیں: https://niazitvnews.com/?p=3130
اکتوبر میں دہشت گرد حملوں کے اعداد کے بارے میں تفصیل یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3124
ماخذ: جیو نیوز، ایکسپریس ٹریبیون، اردو پوائنٹ، یکم نومبر 2026 کی رپورٹیں۔