ربی سیزن میں پانی کی 22 فیصد کمی کا خدشہ — گندم کی فصل، آٹے کی قیمتوں اور درآمدات پر بڑا خطرہ
انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نے خبردار کیا ہے کہ ربی سیزن 2026-27 میں پنجاب اور سندھ کو آبپاشی کے پانی میں 22 فیصد کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے گندم سمیت اہم سرمائی فصلوں کی پیداوار خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ ارسا کی ایڈوائزری کمیٹی نے یہ پیشگوئی یکم اکتوبر سے 31 مارچ تک کے ربی سیزن کے لیے کی ہے، جس میں کل صوبائی آبپاشی کی ضرورت 29.183 ملین ایکڑ فٹ مقرر کی گئی ہے جبکہ متوقع آبی آمد صرف 21.268 ملین ایکڑ فٹ ہوگی۔
صوبوں کو کتنا پانی ملے گا
منظور شدہ مختص کے تحت پنجاب کو 15.564 ملین ایکڑ فٹ، سندھ کو 11.748 ملین ایکڑ فٹ، خیبر پختونخوا کے سی آر بی سی سسٹم کو 0.701 ملین ایکڑ فٹ اور بلوچستان کو 1.171 ملین ایکڑ فٹ پانی ملے گا۔ کمیٹی نے وعدہ کیا کہ پانی کی کمی کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جائے گا۔
متاثر ہونے والی فصلوں میں گندم، جو، سرسوں، چنے، دالیں، آلو، پیاز اور ٹماٹر شامل ہیں — یہ سبھی ربی سیزن کی بنیادی فصلیں ہیں۔
ڈیموں میں ذخائر پچھلے سال سے بہت کم
30 ستمبر تک ڈیموں میں کل ذخائر 9.343 ملین ایکڑ فٹ تھے، جو پچھلے سال کے 13.214 ملین ایکڑ فٹ اور دس سالہ اوسط 9.938 ملین ایکڑ فٹ سے نمایاں طور پر کم ہیں۔ تربیلا میں 4.236 ملین ایکڑ فٹ پانی ہے، جو پانچ سالہ اوسط سے 18 فیصد کم ہے، جبکہ منگلا میں 5.095 ملین ایکڑ فٹ ذخیرہ ہے جو اوسط کے قریب ہے۔
خریف 2026 کی صورتحال بھی کمزور رہی: اصل آبی آمد 95.44 ملین ایکڑ فٹ رہی، جو توقع سے 8 فیصد، دس سالہ اوسط سے 7 فیصد اور پچھلے سال سے 22 فیصد کم ہے۔ ارسا کے مطابق واپڈا کے ٹی 4 ایل ایل او اور ٹی 5 ہائیڈرو پاور منصوبوں میں تاخیر بھی خریف میں صوبوں کے لیے پانی کی کمی کی وجہ بنی۔
آٹے کی قیمتیں پہلے ہی بڑھ چکیں
صارفین پر دباؤ پہلے ہی بڑھ رہا ہے۔ ستمبر میں شہری بازاروں میں گندم کے آٹے کی قیمتیں پچھلے سال کے مقابلے میں 31.7 فیصد اور دیہی علاقوں میں 34.3 فیصد بڑھ گئیں، جبکہ مجموعی غذائی افراط زر 8.2 فیصد رہا۔ پچھلے سیزن میں بھی گندم کی پیداوار حکومتی ہدف سے 20 لاکھ ٹن سے زیادہ کم رہی تھی۔
درآمدات کا سہارا، مگر قیمتی
نئی فصل کی کمزوری کی صورت میں پاکستان کو اضافی گندم درآمد کرنا پڑ سکتی ہے۔ اب تک 365,000 ٹن گندم 348.83 ڈالر فی ٹن کے حساب سے خریدی جا چکی ہے، اور 550,000 ٹن کے فعال درآمدی پروگرام پر تقریباً 192 ملین ڈالر خرچ کا تخمینہ ہے۔
کسانوں کے لیے ہدایات
پاکستان محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ستمبر سے نومبر کے دوران مٹی میں نمی کا دباؤ ہو سکتا ہے کیونکہ مون سون سمیت حالیہ مہینوں میں معمول سے کم بارش ہوئی۔ تاہم اکتوبر اور نومبر میں معمول سے زیادہ بارش کی پیشگوئی ہے، اور ملک کے نچلے حصے کے کسانوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ ربی فصلوں کے لیے دستیاب آبپاشی کا پانی احتیاط سے استعمال کریں۔
سندھ طاس معاہدہ اور پانی کی صورتحال
بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے پس منظر میں بعض حلقوں نے پانی کی کمی کو اس سے جوڑا ہے، تاہم ارسا کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 22 فیصد کمی کی بنیادی وجوہات ڈیموں کی انفراسکٹر ڈیلے اور کم آبی آمد ہیں۔ پنجاب کے آبپاشی حکام کے مطابق معاہدے کی معطلی سے البتہ پیشگوئی کی سہولت ختم ہو گئی ہے، کیونکہ بھارت اب وہ ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا شیئر نہیں کر رہا جو معاہدے کے تحت فراہم کرنا لازم تھا۔
ذرائع: The News (8 اکتوبر 2026)، Bloom Pakistan، UkrAgroConsult (13 اکتوبر 2026)۔